بلوچ نیشنل ازم کی سیاست کا ڈور اور ہمارا سریاب

Spread the love

تحریر: سعد دہوار بلوچ

سریاب ترقی پسند قومی سیاست کا اہم ستون اور مضبوط قلعہ رہا رہے مگر وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ اس مضبوط قلعے کے دیوارے کمزور اور منہدم ہو چکے ہیں، تاریخ کا جبر یہ ہوا کہ سریاب کا آخری مضبوط سیاسی توانا آواز "شہید حبیب جالب بلوچ” بھی ہم سے چھینا گیا تب سے لیکر آج تک سریاب کی آواز سریاب کی گلیوں میں کہی گم ہوکر رہ گیا۔
جس تیزی کے ساتھ معروضی حالات نے کروٹ بدلی اس کی چھاپ قومی پارلیمانی سیاست پر بھی بڑے پیمانے پر نقوش اختیار کرچکا ہے۔ اہلیان سریاب کی بزگی، لاچارگی، حق تعلیم سے محرومی، بے روزگاری، بھوک اور افلاس نے گویا مجبوری کا ایسا طمانچہ مارا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کی نوجوان پیڑی کسمپرسی میں اپنے عظیم قومی جدوجہد سے بیگانہ ہو کر "زئی زئی” میں تقسیم ہوچکا ہے حتی کہ نوجوانوں کی قیادت، انکے حقوق اور انکی ضروریات کے لئے بولنے والے بھی تقریبا ناپید ہوچکے ہیں۔
کسمپرسی کے اس عالم میں گزشتہ کے انتخابات میں اہلیان سریاب نے اپنے انتخابی حلقوں سے ایک خواب لیئے ایک بڑے امید کے ساتھ قوم پرست جماعت کے امیدواروں کو کامیابی سے ہمکنار کیا، آخر کوئی تو ہو جو انکی اس درد کا دوا کرے، مگر حسب روایات سریاب کی سرابی کو سیریآبی منتخب نمائندگان کی کمزوریوں کی وجہ سے نصیب نہ ہوا جس کے بڑی تیزی سے نقصانات قوم پرست پارلیمانی سیاست کو ایک خلاء کی صورت میں پہنچ رہا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ نے آج سے دو سال قبل ان معروضی حالات پر درست تجزیہ پیش کیا؛ "جو نعرے گزشتہ انتخابات میں نوجوانوں کو دیئے گئے ان نعروں کی معروضی سیاسی حالات میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے ناکامی کی صورت میں نوجوان مزید سیاسی بیگانگی اور مایوسی کی طرف جائے گے۔”
اس عبارت کی اگر مزید تشریح کی جائے تو یقینا بڑے نعرے اور بڑے وعدوں کی برخلافی کی وجہ سے آج جس تیزی کے ساتھ نوجوان قومی سیاست سے مایوس ہو کر کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں وہ کسی المیہ اور یاسیت سے کم نہیں۔
اب بھی وقت ہے کہ اس سے پہلے کہ یہ خلاء غیر ضروری عناصر کی وجہ سے مزید پیچیدہ شکل اختیار کریں یہ قومی سیاسی جماعتوں بلخصوص نیشنل پارٹی اور بی این پی کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے عوام اور بلخصوص اپنے سیاسی ورکر اور سپورٹر کی داد رسی کریں اور انہیں یاسیت اور مایوسی سے بچائے۔
نیک تنماوں کے ساتھ آئیے ملکر "اتحاد جدوجہد آخری فتح تک” کے فلسفے پر عمل پیرا ہوکر بلوچ نیشنل ازم کی ڈور کو مضبوط کریں اسی میں ہماری قومی بقاء ہیں وگرنہ محدود پیمانے پر 4 گریڈ نوکری، روڈ اور نالی کی سیاست ہمیں غرک آب کرنے میں دیر نہیں لگائے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!