خادم سریاب ،ہر دل عزیز لیڈر پرنس آغا عمر احمدزئی

Spread the love

تحریر: صدام بلوچ

دنیا میں کم ہی ایسے شخصیات ہوتے ہیں جن کا رہہن سہن ،ملناجلنا ،اٹھنا بیھٹنا،بات چیت ،لب و لہجہ اخلاق و تمیز الغرض شخصیت کا ہر زاویہ کامل اور بے مثال ہوتا ہے۔ اگر بلا تعصب دنیا کی ایسی عظیم شخصیات کے ناموں کا فہرست مرتب کیا جائے تو بلا شق و شبہ اس فہرست میں پرنس آغا عمر احمدزئی کا نام بھی جگہ پائے گا۔
پرنس آغا عمر احمدزئی جن کی زندگی کا اصول خدمت خلق سے لیس ہے انسانیت کا یہ مسیحا دن رات اپنے عوام کے درمیان موجود انکے مسائل حل کرنے میں مگن ہے ہے۔ فرشتہ صفت انسان خادم سریاب آغا عمر احمدزئی بے لوث عوام کی خدمت کے لیے کوشاں ہے جس کی مثال سریاب میں ریکارڈ ترقیاتی کاموں سے لگا جاسکتا ہے۔
سریاب کی پسماندگی سابقہ قوم پرست حکمرانوں اور موجودہ نام نہاد قوم پرستوں کی حکمرانوں کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے جسے پرنس آغا عمر احمدزئی، وزیراعلی بلوچستان جام کمال عالیانی کے خصوصی فنڈز سے دور کرنے کی ہر ممکن کوشش جاری و ساری ہے جس سے نام نہاد قوم پرست پارٹی کٹھ پتلی ایم پی اے، ایم این اور سینٹرز اس قدر خائف ہے کہ ان کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں ہونا تو یہ چائیے تھا کہ موجودہ قوم پرست پارٹی کے کامیاب سینٹر، ایم پی ایز اور ایم این اے سریاب کی ترقیاتی کاموں میں نہ صرف سریاب کے مخلص اور محب لیڈر پرنس آغا عمر احمدزئی کا ساتھ دیتے اور اپنے مختص فنڈ کو بھی ایمانداری سے اس حلقے میں خرچ کر کے سریاب کو جدید دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک خوبصورت شہر بنانے کی تگ و دو کرتے مگر تعصب سے لیس نام نہاد قوم پرست لیڈرز اور ان کے چمچے پرنس آغا عمر احمدزئی کے ترقیاتی کاموں کو روکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے کہنے کا مطلب یہ کہ یہ لوگ نہ صرف اپنے مختص فنڈز کو کاغذی ترقیاتی کاموں کے ذریعے اپنے اکاونٹس میں منتقل کرکے اپنے حلقے کے ووٹرز کو مایوس کر رہے ہیں بلکہ پرنس آغا عمر احمدزئی جیسے نیک نیت انسان کو ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے سے روک کر علاقے کے ووٹرز کی زندگیوں کو پسماندگی کا تحفہ دے رہے ہیں۔

پرنس آغا عمر احمدزئی قلات اور سریاب میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا کر سیاسی مخالفین کو بھی تعریف کرنے پر مجبور کر رہے ہیں، سریاب کے گلی کوچوں میں اسٹریٹ لائیٹ ٹف ٹائل،بلیک ٹاپ سمیت کئی ترقیاتی منصوبے کا جال ان کے عوام دوستی کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ وزیر اعلٰی بلوچستان اور آغا عمر احمدزئی کی ذاتی کاوشوں سے ریڈیو پاکستان روڈ، سریاب روڈ توسیع سمیت سپورٹس کمپلیکس اور جدید ہسپتال بنانے کا عوامی منصوبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے سیاسی مخالفت کو بالاے طاق رکھ کر صرف اور صرف عوام کے بہتری کے لیے سوچا ہے۔

کھیلوں سے دلچسپی اور لگاو کافی حد تک ہے۔ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے انکی مالی معاونت سمیت میدان میں داد دینے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔انٹرنیشنل اسکوائش لیگ کا بلوچستان میں کامیاب انعقاد بلوچستان اور پاکستان کا بہترین امیج دنیا کے سامنے پیش کرکہ یہ ثابت کردیا کہ بلوچستان امن کا گہوارہ ہے ۔

خان آف قلات کے چشم و چراغ پرنس آغا عمر احمدزئی نے بلوچستان میں قبائلی رنجشوں کو حل کرنے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے انہیں سنجیدگی سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے جس سے دیگر قبائلی راہنماں چم پوش رہتے ہیں ۔آپ کا اپنے عوام سے محبت کی مثال کا یہ نمونہ کافی ہے کہ جب آپ قلات یا سریاب تشریف لاتے ہیں تو لوگوں کا جمے غفیر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام کے دلوں میں آپ کی محبت بے پناہ ہے۔
سریاب بلکہ بلوچستان کی پوری عوام خوش قسمت کہ انہیں پرنس آغا عمر احمدزئی کی صورت میں ایک عظیم لیڈر ملا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!