کیمیائی مادہ اور انسانی زندگی

Spread the love

تحریر: غلام مصطفیٰ (جی۔ایم)

کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک ایسا کیمیائی مادہ جو انسانی زندگی کو کنٹرول کرتا ہے۔ چاھے وہ انسان کے جذبات، احساسات و خیالات ہو یا پھر اس کی بھوک ،پیاس، رونا ہنسنا، جنسی خواص ، آواز کا موٹا پتلا ہونا وزن کا بڑھنا ,قد کا چھوٹا یا بڑا ہونا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب ایک ہی طرح کے کیمیکل مادے کے کنٹرول میں ہیں۔ اگر آپ اس کیمیکل مادہ سے ناواقف ہیں تو آئیے اس کی مختصر تعارف کرواتے ہیں۔
اس کیمیکل مادہ کو "ہارمون” کہتے ہیں۔ ہارمون ایک ایسا کیمیائی مادہ یا رطوبت ہے جو بغیر نالی والی کو غدود( غدود ان اعضا کو کہتے ہیں جو ہارمون پیدا کرتے ہیں) سے خارج ہوتا ہے اور خون میں شامل ہو کر جسم کے مختلف حصوں پر پہنچ کر ان حصوں میں عاملیت پیدا کرتا ہے مثلاً
چار ہارمون ایسے ہیں جن کے خارج ہونے سے انسان خوشی محسوس کرتا ہے۔


1 اینڈورفنس 2 ڈوپامائین
3سیروٹونائین 4آکسی ٹوسین


پہلا ہارمون اینڈورفنس


جب ہم ورزش کرتے ہیں تو ہمارا جسم درد سے نمٹنے کے لیے اینڈورفنس خارج کرتا ہے تاکہ ہم جس سے لطف اٹھا سکیں اس کے علاوہ جب ہم کامیڈی دیکھتے ہیں یا لطیفے پڑھتے ہیں اس وقت بھی یہ ہارمون ہمارے جسم میں پیدا ہوتا ہے اورہم خوشی محسوس کرتے ہیں.


دوسرا ہارمون ڈوپامائین


زندگی کے سفر میں ہم بہت سے چھوٹے اور بڑے کاموں کو پورا کرتے ہیں اور ان کی وجہ سے ہماری تعریف کی جائے یا پھر ہم اپنے پسند کی چیزوں کی شاپنگ کرتے ہیں تب بھی ہمارے جسم سے ڈوپامائین خارج ہوتا ہے اور ہم خوشی محسوس کرتے ہیں۔


تیسرا ہارمون سیروٹونائین


جب ہم دوسروں کے فائدے کے لئے کوئی کام کرتے ہیں تو ہمارے اندر سیروٹونائین خارج ہوتا ہے اور ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے

چوتھا ہارمون آکسی ٹو سین


جب ہم دوسرے انسانوں کے قریب جاتے ہیں مثلا جب ہم اپنے پیارے یا کسی قریبی دوست سے ہاتھ ملاتے ہیں گلے لگاتے ہیں تو جسم آکسیٹوسن خارج کرتا ہے اور ہمارے اندر خوشگوار ی کا احساس پیدا ہوتا ہے
ہارمون ہمارے جسم کے مختلف نظاموں اور کاموں کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کام رحم مادر سے شروع ہو کر آخر ی سانس تک جاری رہتا ہے۔ ہار مونز میں توازن نہ صرف اچھی صحت و زندگی کی ضمانت ہے بلکہ ان میں خرابی سے پورا جسم متاثر ہو سکتا ہے مثلاً ایک ہارمون قد کی بڑھوتری سے متعلق ہے اگر وہ کم خارج ہوگا تو بچوں کا قد نہیں بڑھے گا۔ انسولین ایک اور ہارمون ہے اگر اس کی پیداوار متاثر ہو تو شوگر کی بیماری ہو جاتی ہے۔ اگر مردوں کی آواز عورتوں کی طرح باریک ہو اور ان کے دیگر اعضا اور افعال میں نسوانیت جھلکتی ہوں تو اس کا تعلق جنسی ہارمونز سے ہے۔ انہی ہارمونز کی وجہ سے بعض عورتوں کی آواز مردوں کی طرح بھاری ہو جاتی ہیں اور ان کے چہروں پر بال بھی اگ آتے ہیں۔ ہارمونز کا ہماری جسم اور ہماری زندگی پر بہت ہی زیادہ گہرا اثر ہے گویا کہ مرد کو مرد اور عورت کو عورت بھی ہارمونز ہی بناتے ہیں۔ اگر ان ہارمونز میں ردوبدل کی جائے تو ایک مرد کو عورت اور عورت کو مرد بھی بنایا جا سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ انسان ان ہارمونز میں ردوبدل کرکے کچھ بھی کر سکتا ہے مثلا وہ اپنا قد، آواز ،وزن ، خوبصورتی کو کچھ سے کچھ بنا سکتا ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!