بلوچستان میں اکثر دیہی علاقے ایسے ہیں جہاں آج بھی تعلیم کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی چئرمین بلاول پیچوہو جاموٹ جاموٹ اسٹوڈنٹس کونسل

Spread the love

بلوچستان میں بیشر علاقے ایسے ہیں جہاں سکول و کالجز سرے سے ہیں ہی نہیں۔


بہت کم ایسےاضلاع ہیں جہاں سیکنڈری سکول اور کالجز کی تعمیر پر توجہ دی گئی ہے۔ نتیجتا پرائمری سکول سے فراغت کے بعد بچوں کی تعلیم کا آگے کوئی مستقل نظام نہیں ہوتا ہے۔ پرائمری سکولز میں ایسے سینکڑوں سکول شمار کیے جاسکتے ہیں جو اساتذہ کی عدم توجہی، قابلیت کی کمی اور مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔
بلوچستان انہیں محرومیوں کی وجہ سے اپنی نوجوان نسل کو تعلیم فراہم کرنے میں تاحال بری طرح ناکام ہے۔
کئی سکول ایسے ہیں جو محض ایک ہی کمرے پر مشتمل ہیں۔ اس معاملے میں اساتذہ کا تناسب قابل غور ہے۔ بلوچستان میں اساتذہ کا شدید فقدان ہے۔ کئی مڈل سکولز تین سے چار استادوں پر ہی چل رہے ہیں اور کئی میں صرف ایک استاد تعلیمی عمل کو یقینی بنانے میں سرگرداں ہیں.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!