بلوچ طلباء تنظیموں میں یکجہتی کا فقدان

Spread the love

تحریر: سرتاج وحید مری


بر صغیر پر انگریزوں نے اپنی حکومت کی بنیاد رکھنے اور اپنی حکومت کو مستحکم رکھنے کے لیے ایک پالیسی کا انتخاب کیا تھا جسے انگریزی میں "Devide and Rule policy” کہتے ہیں اس پالیسی کے تحت انگریزوں نے برصغیر )یعنی اس وقت کے ہندوستان) پر اسی پالیسی کی تحت قریباً دو سو سال تک حکومت کی ۔ اس پالیسی میں یہ ہوتا ہے کے لوگوں کو تقسیم کرکے ان کے اندر اختلافات پیدا کرکے انہیں اپس میں لڑا کر ان کے اوپر آرام سے حکومت کی جاتی ہے یہ اختلاف نہ صرف قومیت کی بنیادوں پر پیدا کیا جاتا ہے بلکہ مختلف رنگ ، نسل ، پیشہ ، زبان، مزہب ،فرقہ، سوچ ، نظریہ ، علاقہ ، سرحد اور حتیٰ کہ جنس رکھنے والوں کے درمیان بھی مختلف سازشیں اور ہتھکنڈے استعمال کرکہ یہ اختلاف پیدا کیا جاتا ہے تاکہ اِن اختلافات اور دوریوں کی پاداش میں ایک دوسرے کو الجھا کر انکے سرپرستی کی جائے۔
بلوچ قوم پر اس پالیسی کا استعمال برسوں سی جاری و ساری ہے جس کی سب سے بڑی مثال زبان کی بنیاد پر بلوچوں کی تقسیم کا معاملہ ہے۔ بلوچ قوم میں مختلف زبان رکھنے والے لوگ ہیں۔ جن میں خاصم خاصہ براہوی ، خود بلوچی اور سرائیکی بولنےوالے بلوچ ہیں ۔ اگر زبان کی بات کی جائے تو مختلف تحریروں ، تدریسی کتابوں اور اشاعتوں میں براہوئی بولنے والے بلوچوں اور دوسرے بلوچی بولنے والے بلوچوں کو دو مختلف قومیں ظاہر کرکے یہ اختلاف اور فرق پیدا کرنے کے ناکام کوششیں کی گئیں
اختلافات کا ہونا اپ کی تنظیمی سیاسی و سماجی بلوغت کو ظاہر کرتی ہے لیکن ان اختلافات کی آڈ میں آپ نے اپنے اندر ایک فرق اور تقسیم کو واضح کیا ہےجس کا دشمن ایک بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ تنقید برائےتعمیر ، تنقید برائے تقلید ایک تنظیم کو منظم اور مستحکم رکھنے کا بہترین راستہ ہوتی ہے لیکن تنظیم میں اپنی رائے اور تنقید کو پیش کرنے کا ایک مستقل طریقہ ہوتا ہے جس سے نہ صرف تنظیم کی ساخت بلکہ اسکی بقاء کو خطرات لائقِ کو بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے
بلوچستان اور بلوچوں کی سیاست اس حد تک اختلافات کی بھینٹ چھڑ کر کمزور ہو چکا ہے کہ کہیں سے بھی اس میں اتفاق رائے کا مادہ پیدا ہوتا نظر نہیں اتا اور اسی وجہ سے بلوچستان کی سیاست پاکستان کی کمزور ترین سیاست کہلائی جاتی جو متفق ہو کر وفاق سے اپنے صوبے کا حق مانگنے کا حوصلہ تک نہیں رکھتی۔
طلباء تنظیموں کا اور ان تنظیموں کے اندر کارکنان کا ایک دوسرے سے سیاسی و نظریاتی اختلاف رکھنا تو عام سی بات ہے اور یہ اختلاف ان کی سیاسی و سماجی تعمیر و تقلید میں ان کو فائدہ دیتی ہے ہیں لیکن جب یہ اختلافات نظریاتی و سیاسی ہونے کے بجائے زاتی ، فطری اور تعصبی ہوں تو ناسور بن جاتے ہیں اور ایسے ناسوروں کا طلباء سیاست اور تنظیمی پختگی کو برباد کردیتی ہیں۔ ایسی طلباء سیاست پھر قوم کے کسی کام نہیں اتھیں۔
آجکل بلوچ طلباء سیاست ایک نئے فیشن کو اپنا چکی ہے جو ان اختلافات کی ہونے کی دوسری بڑی وجہ بن رہا ہے ان اختلافات کا تعلق نام کمانے سے ہیں اگر اس بات کو اور واضح کیا جائےتو انگریزی کے یہ دو الفاظ اس بات کو بیان کرسکتے ہیں جنھیں ” FAME” اور ” CREDIT TAKING ” کہتے ہیں۔.
اج کل بلوچ طلباء سیاست اور بلوچ طلباء تنظیموں میں نظریہ اور فکری سوچ کم نام کمانے اور خود کو ان گراؤنڈ پیش کرنے کا زیادہ رواج زیادہ چل رہا ہے۔ جدوجہد فکری سوچ اور نظریہ سے منسلک ہوتی ہے۔ اپ انفرادی یا زاتی سوچ نہیں بلکہ قومی سوچ و فکر رکھتے ہیں اپ ایک فرد یا خود کو نہیں ایک قوم کا نظریہ پیش کرتے ہیں اپ خود کی زات سے بالاتر ہوکر اپنے وطن اور قوم کا مقدمہ لڈتے ہیں۔ جب تک اپ نام کمانے اور عہدوں کے پیچھے بھاگیں گے تب تک اپ اپنے قومی سوچ کو زندہ نہیں کر پائیں گے۔
اپنے اندر اتفاق پیدا کریں مل بیٹھ کر ہر مسلہ کا حل نکل سکتا ہے اپنی غلطیاں مانیں اور دوسروں کے غلطیوں کو درگزر کریں ایک قومی دائرہ جمع ہوکر اپنی سوچ کو زاتی سے نکال کر قومی بنائیں اور بلوچ قوم اور بلوچ طلباء کی پیش نظر مفادات میں اپنی جدوجھد کو جاری رکھیں تاکہ عالم دنیا میں اپنے قوم کے لیے ہماری جدوجھد اور کوششوں کو ایک مثال کے طورپر یاد کیا جائے۔
اپنےہمیشہ کامیابیاں ایک دوسرےپر یقین و بھروسہ کر کے ، ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو کر ، ایک دوسرے کا احترام کر کے اور اپنے اندر اتفاق پیدا کر کے حاصل کی ہیں اور یہ چیزیں اگر اپ میں رہی تو اپ ہمیشہ اپنے اصولی مقاصدکو حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ ایک سوچھی سمجھی سازش کے تحت بلوچ طلباء تنظیموں میں بے ضابطگیاں ، گروہ بندیاں اور اختلافات پیدا کی جارہی ہیں خدارا اس جدوجہد کو ان اختلافات کی بھینٹ چڑھنے نہ دیں اور اپنے اندر ایک دوسرے کے لیے خلوس پیدا کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!