اتحاد, نظم اور وقت کی ضرورت

Spread the love

تحریر: نادان بلوچ

بلوچ قوم رَسی کے اُس سِرے پر ہے جہاں ایک چھوٹی سی غلطی ہمیں دس, پندرہ سال کیلئے ایک اندھیری گوفہ میں گِراسکتی ہے. غلطیاں ہمیں تاریخ کے اُن اوراق میں شامل کرسکتی ہیں جہاں داستانوں میں آنے کیلئے ہمیں ایک لمبا عرصہ درکار ہوگا. ہماری بےسود حکمت عملیاں دس سال کے کام کو تیس سال تک لے جاسکتی ہیں. ہماری لاشعوری ہماری نسلوں کو نقصان دےسکتی ہے. دنیا کا اگر مشاہدہ کیاجاہے تو وہ قومیں آگے آہی ہیں جنہوں نے تاریخ کا بغور مشاہدہ کرکے آگے بڑے ہیں. زمانہ ماضی کے لوگ اور آج کی ترقی یافتہ قوموں نے اپنی غلطیوں کو نظر انداز نہیں کیا. تاریخ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہمیشہ سکھانے کے عمل سے آگے بڑھتی ہے اور جنہوں نے اپنی خامیوں کو دیکھا اور تاریخ سے سیکھا اور اپنےکل کے بارے میں سوچتے تھے آج وہ ایک باشعور قوم اور ترقی یافتہ ملک جانے جاتے ہیں.

اور دنیا میں ہمیں ایسی بہت سی قوموں کی مثالیں ملتی ہیں جن کی دنیا بھر میں نوآبادیاتی حکومتیں ہواکرتی تھیں اور آج اُنکا نام ونشان تک نہیں مگر کچھ ایسی قومیں ملینگی جنہوں نے اپنی تاریخ سے سیکھا اور اپنی تقدیر بدل ڈالی جیسے انگریز قوم. دنیا میں ایسی کوہی جگہ شاز ونادر ہوسکتی ہے جہاں انگریزوں کے محسوسات نہ ہوں. زمانہ قدیم میں انگریز ایک ظالم, جابر اور لُٹیرے کے نام سے جانے جاتےتھے. دھشت, نفرت اور تقسیم کا دوسرا نام انگریز حکومت ہواکرتی تھی. جیسے کہتے ہیں تاریخ کا سب سے بڑا اُستاد وقت کسی بھی پہیہ کواُلٹ کر عمر جیسے اسلام مخالف کو اسلام کا سب سے اچھا خلیفہ اور ایک بادشاہ کو فقیر بنادیتی ہے اور انگریز قوم کو آج کے دنیا کی معظم اور تہذیب یافتہ قوم بناتی ہے.

دیکھا جاہے گیارہ ھزار سال کی تاریخ لیکر بہت سی مشکلات اور جنجال کے مختلف ادوار سے گزر کر بلوچ قوم آج بھی اپنی زبان اور ثقافت کیلئے دنیا میں جانی جاتی ہے. تاریخ کے پنوں میں خود کو منواتی ہوہی یہ قوم آج بھی محکوم اور مظلوم مخلوق کی طرح اپنے نقشے کی خاطر جدوجہد کر رہی ہے. چلتن کی سرزمین کے مالک کئی دھائیوں سے آج تک اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں. قطہ بلوچستان پاکستان کی گیس کی ذیادہ تر ضروریات پوری کرتاہے. اِس قطہ کا بیشتر حصہ اس سہولت سے محروم ہے. بلوچستان جو کوئلے کی ساٹھ فیصد ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ نوے فیصد اونیکس پتھر کی پیداوار دیتا ہے, جہاں لاکھوں ٹن تانبا زمین میں دبا ہوا ہے. جو سب سے طویل ساحلی قطہ ہے لیکں وہاں کی ایک کروڑ بیس لاکھ کی مختصر آبادی زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے.

مختصراً یہ کہ بلوچستان کو مسائلستان بنایاگیاہے. لیکں کیا یہ مسئلے کبھی حل بھی ہونگے؟ کیا کبھی بلوچ قوم کو زندگی کی بنیادی سہولیات ملینگی ؟ کیا گوادر کی سرزمین کے وارثوں کو فطری آذادی کی آسمان تلے سانس لینا نصیب ہوگی ؟ اگر ہونگی تو وہ کیا لائے عمل ہوگا ؟ وہ کونسی حکمت عملیاں ہونگی؟ ستر سالوں سے اِس مظلوم قوم کو ہر معاز پر صرف جھوٹے خواب دکھاہے گئے ہیں. ہر پلیٹ فارم سے اِس قوم کو صرف مایوسی ملی ہے.

بلوچ قوم کو ستر سالوں کی تاریخ کا بغور مشاہدہ کرکے ایک نئے منصوبے کیساتھ سامنے آنا ہوگا. اپنی غلطیوں سے سیکھ کے ایک نئی حکمت عملی بنانی ہو گی. اتحاد, نظم ونسق کیساتھ نیا لاۓ عمل بنانا ہوگا. ہماری سیاسی قیادت کو متعد ہونا ہوگا. یہی وقت کی ضرورت ہے یہی وقت ہے.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!