بلوچ حصولِ تعلیم کے لیے سراپا احتجاج ہیں

Spread the love

تحریر :نعیم بلوچ


بلوچستان پاکستان کا رقبہ کے لحاظ سے بڑا اور قدرتی معدنیات سے مالا مال صوبہ کہلایا جاتا ہے یہاں تعلیمی پسماندگی عروج پر ہے تعلیمی ادارے آٹے میں نمک برابر ہیں
ترقیاتی کام صحت کا نظام تو پہلے سے تباہ ہے لیکن یہاں کے باسیوں کے لئے بنیادی ضروریاتِ زندگی میں سے تعلیم ہے وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے ۔
بلوچستان کے طلباء و طالبات ذہین و محنتی ہیں جنہوں ہر مقابلے کے میدان میں اپنا لوہا منوایا ہیں لیکن شومئی قسمت بلوچستان کے ودیشی استحصال کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں غربت اور پسماندگی کا اعلیٰ مثال ہیں اس خطے کے لوگ تمام تر قدرتی وسائل کے باوجود تعلیم حاصل کرنے میں کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے
لیکن پھر بھی ان کے حوصلے پست نہیں، انکے والدین خود کو بھوکا رکھ کر بھی اپنے جگر کے ٹکڑوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔ بلوچستان میں چونکہ یونیورسٹی اور کالجز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جس کی وجہ سے یہاں کے طلباء و طالبات مختلف مشکلات کا سامنا کرکے پنجاب کی مختلف یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں۔ تاکہ وہ تعلیم حاصل کرکے اپنے صوبے و ملک کی ترقی میں کردار ادا کرسکیں لیکن بلوچستان کے لوگوں کے حق میں روزِ اول سے محرومیاں ہی محرومیاں ہیں۔
چند ایک نشتیں پنجاب کی مخلتف یونیورسٹیوں میں بلوچستان کے طلبہ کے لئے مختص تھیں، لیکن اب وہ بھی نہیں رہے، چونکہ جدید دور ہے تعلیم کا رجحان بھی بڑھتا جارہا ہے اور بلوچستان کے کافی طلباء و طالبات کا پنجاب کی جانب رُخ ہوتا گیا۔ المیہ ہے کہ بلوچ کے لئے تعلیم دشمن فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں بلوچستان کے مختص نشستوں کے حوالے سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بلوچستان حکومت بھی اس میں کردار ادا کرتی اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے انہیں مزید بڑھایا جاتا لیکن سیٹوں کو بڑھانے کے بجائے ختم کرکے بلوچستان کے طلبہ کے ساتھ ایک زیادتی کی گئی۔ اور انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جس پر طلبہ نے ایک ماہ سے زیادہ یونیورسٹی کے سامنے پر امن احتجاجی کیمپ لگایا ۔لیکن اس ملک کے بے حس حکمرانوں چند سیاسی مفادات کے لیے ماتم کناں ہیں آخر کار طلبہ نے مجبوراً گزشتہ روز ملتان سے اسلام آباد اپنے مطالبات کے لئے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔ اس وقت حکومت پنجاب، بلوچستان اور ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے والی یوٹرن سرکار کے لئے باعث شرم کی بات ہے کہ طلبہ سڑکوں پر ہیں اور وہ اپنے محلات میں محصور ہیں۔ صرف ایک ہی یونیورسٹی نہیں بلکہ پنجاب کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی سوچی سمجھی سازش کے تحت یہ تعلیم دشمن اقدامات کرکے طلبہ کو ذہنی پریشانی میں مبتلا کرکے تعلیم سے دور کیا جارہا ہے۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں بھی اوپن میرٹ کوٹہ پر بلوچستان اور فاٹا کے طلبہ کی کوئی فیس نہیں تھی لیکن اس سال بلوچستان کوٹہ کی تمام اسکالرشپس کو وائس چانسلر نے ختم کرکے فیسیں وصول کرنا شروع کردی ہے۔
پنجاب یونیورسٹی لاہور میں بھی بلوچستان کوٹہ کی نشستوں کو کم کیا گیا اس سے یہ ثابت ہوتا کہ بلوچستان کے طلباء کے لئے پنجاب کے تعلیمی اداروں کے دروازے بند کیے جارہے ہیں جس پر حکمران وقت بھی خاموش ہیں کیونکہ بلوچستان کے منتخب نمائیندوں کو ان طلبہ سے کیا لینا دینا انکے اپنے بچے تو دیگر ممالک میں زیر تعلیم ہیں وہ تو چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے محنت کش و دیگر مزدوروں کے بچے جہالت کے اندھیروں میں ہوں اور ہم با آسانی انکے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے رہیں پنجاب سے میرا یہ شکوہ ضرور ہوگا کہ بلوچستان کے ان طلبہ کو چند ایک اسکالرشپ مل رہی تھیں ۔انہیں بھی ختم کردیا گیا آپ کو یہ بھی یاد ہو کہ سوئی سے گیس بھی آپکو ہی ملتا ہے اوچ پاور کی بجلی بھی آپ لے رہے ہیں سی پیک میں آپکے لوگ بھرتی ہیں۔ تو یہ تعلیم دشمن پالیسیاں بند کرو۔
بلوچستان کے طلبہ پرامن ہیں انکے حوصلے بلند ہیں اور وہ جمہوری طریقے سے اپنے حقوق کی جدوجہد کررہے ہیں وہ کوئی نوکری، یا دیگر عیش وعشرت نہیں محض تعلیم مانگ رہے ہیں وہ پڑھنا چاہتے ہیں خدارا انہیں مایوس نہ کیا جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!