بلوچستان کا پسماندہ تعلیمی نظام اور ہماری ذمہداریاں

Spread the love

تحریر: ذاکر رخشانی بلوچ

تعلیم کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔
جن اقوام نے تعلیم کو فروغ دی آج وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی بدولت پوری دنیا پر حکمرانی کرتی دیکھائی دے رہی ہیں۔۔
اسی طرح دیکھا جائے قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان جوکہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔۔
تعلیمی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو باقی صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان کا شرح خوندگی نہ ہونے کی برابر ہے۔۔
بدقسمتی سے یہاں 63 لاکھ بچوں میں صرف 13 لاکھ بچے اسکول جاتے ہیں جبکہ 23 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر اور تعلیم جیسی نعمت سے محروم ہیں۔
36 فیصد اسکولوں میں پانی جیسی بنیادی سہولت ہی میسر نہیں 56 فیصد اسکولوں میں بجلی نہیں اور فرنیچرز، سائنس روم، ٹیچرز کی کمی وغیرہ شامل ہے۔۔
کالجز میں بھی انتہائی سہولیات کی فقدان میں طلباء و طالبات جدید و مہیاری تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں۔
لائبریری، سائنس روم، اور لیبارٹریز کی نہ ہونے کے ساتھ ساتھ ، و دیگر مسائل کا شکار ہے۔
یونیورسٹیز میں ریسرچ ورک کیا جاتا ہے بد قسمتی سے یہاں صرف عمارت کھڑی کی جاتی ہے۔
ان اعداد شمار کی تصدیق کے لیے آپ 2017 کی مردم شماری کے اعداد شمار نکالیں ان میں آپکو بچوں کی تعداد معلوم ہو جائیگی۔ اور پھر محکمہ تعلیم کی انرولمنٹ کو دیکھ کر ہر چیز واضح ہوجائیگی۔۔۔
انٹرمیڈیٹ کے بعد طلباء و طالبات کو مضمون چننے میں بہت سارے مسائل اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔
کیونکہ یہاں کی روایاتی طرز تعلیم میں MBBS اور انجینیرنگ کے علاوہ باقی کوئی بھی شعبہ معنی نہیں رکھتی۔
اسی وجہ سے طلباء و طالبات اپنی اندر کی ذہنی صلاحیتوں کو جاننے سے قاصر ہوکر اپنی پوری توانائی اسی پہ صرف کرتے ہیں۔
داخلہ نہ ملنے پر ذندگی کو بے مقصد سمجھ کر مایوسی کی صورتحال میں پڑھائی چھوڈ دیتے یا تو ذہنی اذیتوں سے سکون پانے کے لیے نشہ جیسی موزی مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
اور ذندگی کو بے معنی سمجھ کر بعض دفعہ خودکشی کرنے پر بھی مجبور ہوتے ہیں۔۔
ان تمام تر مسائل کی وجوہات ایک تو تعلیمی پسماندگی اور دوسرا کیریر کونسلنگ کی نہ ہونے کی وجہ ہے۔۔
بلوچستان میں طلباء تنظیم اپنی بنیادی اور ضروری مقاصد سے ہٹ کر غیر ضروری کاموں میں مصروف عمل نظر آتے ہیں۔
مضامین کی اہمیت، سکوپ، اور طلباء کو انکے اندر کی ذہنی صلاحیتوں کو جاننے اور سمجھنے کے لیے سٹڈی سرکل، سیمینارز، منعقد کرنا وقت کی ضرورت اور کیرئیر کونسلنگ کا اہم زریعہ بھی ہے۔ جوکہ طلباء تنظیموں پر ذمداری بنتی ہے۔
ان تمام مسائل اور وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے سماج کے ہر طبقے فکر سے تعلق رکھنے والے مہیاری تعلیم، ڈیجیٹل لائیبریری، اداروں میں سہولیات کی کمی پوری کرنے اسکولز ، کالجز ، یونیورسٹیز کی قیام کی صورت میں اپنی مطالبات ظاہر کرکے صوبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!