میں اور میرٹ

Spread the love


تحریر:ایم قاسم

میرٹ میں کی طرح میم (م) سے شروع ہوتا ہے شاید اس لیۓ مجھے پسند آگیا لیکن ہمارے معاشرے میں اس کی کوٸ وقعت نہیں ۔سفارشی کلچر اور رشوت نے تو اسے کہیں کا نہیں چھوڑا ہے تمام ادوار کی طرح اس دفعہ بھی میں اس خوش فہمی میں ہوں کہ میری جیت ہوٸی ہے جب میں نے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں CTSP ٹیسٹ پاس کیا میرے حواس بحال ہوۓ پورے ایک سال کی تیاری کا ثمر میرے ہاتھ آگیا اور میں اپنی اڑان میں ہوں کہ مجھے میرا مقصد مل گیا ہے اب ایک چیز کا انتظار ہے کہ کب آرڈرز ملیں گے اور میں اپنے فراٸض انجام دونگا۔ انتظار کی گھریاں بڑی سخت ہوتی ہیں میں اس کرب میں مبتلا دن گزار رہا ہوں لیکن ہروقت کی طرح اس مرتبہ بھی مجھے احاس محرومی کا خوف کھاۓ جا رہا ہے کہ خدایا کہیں ڈاکو پھر سے میرٹ پہ ڈاکہ ڈال کر ہمیں محروم نہ کریں اور یہ خوف بےجا نہیں ہے
* پورے بلوچستان میں اساتذہ کی کمی کے باوجود۔۔۔۔
* صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کے باوجود۔۔۔
* کرونا وبا ٕ میں بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں رہنے کے باوجود۔۔۔
ہمیں آرڈرز نہیں دیۓ جارہے
اس اذیت میں میں اکیلا نہیں بلکہ 5500 اساتذہ میرے ساتھ ہیں۔
میری تمام تعلیم دوست افراد سے گزارش ہیکہ ہماری اس حالت زار کو حکام بالا تک پہنچا کر ہمیں اس تکلیف سے چھٹکارہ دلاٸیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!