شہید میر محمد مراد ابڑو ایک معتبر شخصیت

Spread the love

تحریر :طائب امیر پہوڑ

5اکتوبر شہید ابن شہید میر محمد مراد ابڑو کی برسی کی مناسبت سے میر صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں.

کہتے ہیں یہ دنیا فانی ہے اس دنیا میں یوں تو ہزاروں لوگ روزانہ جنم لیتے ہیں اور اسی حساب سے لوگ کوچ بھی کر جاتے ہیں مگر ایسے لوگ بہت کم ہیں کہ جن کے جانے کے بعد بھی ان کی یادیں اور خدمات دوسرے لوگوں کو یاد رہتی ہیں یقیناً ان لوگوں کے عزیز و اقارب بلکہ چاہنے والے لوگ بھی بھول نہیں سکتے۔ بلوچستان جو کہ تاریخی اور مردم خیز صوبہ ہے ۔ صوبے میں قبائل کو خاص اہمیت حاصل ہے جبکہ قبائلی سربراہوں۔ سرداروں۔ اور معتبرین۔ کا اپنا ایک مقام ہوتا ہے ہر قبیلہ زعماء کی نہ صرف حد سے زیادہ عزت کرتا ہے بلکہ ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کے لیے لوگ اپنی جانیں نچھاور کردیتے ہیں۔ اور اس طرح قبائل کا سرکردہ شخصیات اور زعماء اپنے اپنے لوگوں اور حامیوں کی خاطر ہر ممکن کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں جو کہ یہ سلسلہ صدیوں سے چلتا آرہا ہے جو کہ آج بھی برقرار ہے۔
ان قبائلی شخصیات میں میر محمد مراد ابڑو شہید بھی شامل ہیں جو کہ آج اس دنیا میں موجود نہیں مگر ان کی خدمات اور یادیں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ سیاست اور خدمت کے جذبے سے بہت کم عرصے میں شہرت حاصل کی میر صاحب ہمیشہ بلا رنگ و نسل علاقے کی عوام کی خدمت کرتے رہتے تھے اور ہمیشہ حق اور سچائی کا ساتھ دیتے تھے اور قبائلی تنازعات کے خاتمے اور علاقے کے دیگر مسائل کے حل کی خاطر اپنا بھر پور کردار ادا کرتے رہے تھے علاقے میں آباد بیشتر لوگ اپنے اپنے مسائل کا تذکرہ میر صاحب سے کرتے رہتے تھے جنہیں حل کرنے کیلئے وہ ہر ممکن کردار ادا کرتے تھے وہ ایک ملنسار غریب پرور غریب کا مسیحا اور عوام دوست شخصیت کے مالک تھے وہ نہ صرف جاموٹ قبیلے کے لوگوں کے مسائل میں دلچسپی لیتے تھے بلکہ دیگر قبائل کے لوگ بھی انہیں اپنا رہبر سمجھتے تھے۔ شہید میر محمد مراد ابڑو کا ہمارے گھرانے سے ایک بہت گہرا رشتہ تھا ہمارے والد محترم حاجی امیر بخش پہوڑ کے ساتھ اس کا خونی رشتوں جیسا تعلق تھا وہ جب بھی ڈیرہ مراد سے بھاگناڑی کے دورے پر آتے تو ہمارے غریب خانے ہمارے والد محترم سے ملنے ضرور آتے تھے اور علاقے کا ہر فرد یہ سمجھتا تھا شہید میر محمد مراد ابڑو میرا بھائی ہے میرا دوست ہے میرا رہنما ہے سب کے ساتھ وہ پیار محبت سے پیش آتے تھے ان کے اس پیار محبت کی وجہ سے لوگ اسے اپنا رہبر سمجھتے تھے۔
میر صاحب کا پیشہ زراعت تھا زمینداروں کے مسائل کیلئے بھی پیش پیش رہتے تھے۔ آپ ایک نظریاتی شعوری اور سیاسی فکری جذبہ بھی رکھتے تھے تنگ نظری اور لالچ سے ہر وقت دور رہتے تھے۔ بھاگناڑی سمیت نصیر آباد جعفرآباد سبی کوئیٹہ اور صوبہ سندھ میں بھی قبائلی حوالے سے کافی شہرت کے حامل سمجھے جاتے تھے۔ عوامی خدمات کے جذبے نے ان کو سیاست کا شوقین بنا دیا تھا اس لیے وہ عملی سیاست کا آغاز کیا۔ اور بلوچستان میں نگران صوبائی بھی رہے۔
آج برسی کے دن میر صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اللہ پاک میر صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!