ذہنی زنجیریں

Spread the love

تحریر:ریحانہ بلوچ

کبھی آپ نے کسی کے پالتو کتے کو آزاد کروانے کی کوشش کی ہے؟ اگر نہیں تو کیجیے گا بھی نہیں۔
فرض کریں آپ اس نصیحت پر عمل نہیں کرتے تو آپ کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے۔ آپ اندھیری رات میں اسکے مالک کی نظروں سے بچ کر اس کتے تک پہنچیں گے۔ جیسے ہی اسکو آپکے قدموں کی اجنبی آہٹ آئے گی وہ غرانا شروع کر دے گا۔ آپ لاکھ پچکاریں اسکی غراہٹ بڑھتی جائیگی۔ اور وہ اپنی زنجیر سے بندھے بندھے اچھلنے لگے گا۔بھونکتے ہوئے وہ آپ پر حملہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ آپ کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ اس کے دانتوں سے بچتے ہوئے اسکی زنجیر کے سرے تک پہنچیں اور اسکو کھول سکیں۔مگر ایسا وہ آپ کو کرنے نہیں دے گا۔ وہ سمجھ ہی نہیں پائے گا کہ آپ اسکو آزاد کروانے آئے ہیں، بلکہ وہ آپ کو دشمن سمجھے گا۔ اور اب آپ کو دشمن بنے بنے ہی یہ سارا کام کرنا ہوگا۔
اب آپ کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ کسی بھی طرح بھڑتے بھڑاتے اسکی زنجیر کو کھول ہی ڈالیں۔ اس دوران وہ آپ کو کاٹ بھی سکتا ہے۔ آپ شدید زخمی بھی ہو سکتےہیں اور اگر جانور زیادہ خونخوار ہے تو آپ کی جان بھی جا سکتی ہے۔ ایسا ہی کچھ حال ذہنی زنجیروں کا بھی ہے۔ ذہنی زنجیروں میں بندھے آدمی کو رہا کروانا بھی کچھ ایسا ہی مشکل ہے۔ آپ کو زنجیر باندھنے والے کی طرف سے نہیں، زنجیر میں بندھے ہوئے غلام کی وفاداری سے لڑنا ہوتا ہے، اور اس میں آپکی جان تک جا سکتی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!