جنسی ہراسگی اسکینڈل کے ملزم ڈائریکٹر کو دوبارہ جی ایس او کا سربراہ بنانا شرمناک عمل ہے۔ بی ایس او

Spread the love

کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان جنسی ہراسگی اسکینڈل کے ملزم و سابقہ ڈائریکٹر جی ایس او جنکو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا تحقیقات میں کلین چٹ دے کر اب پھر جی ایس او کا سربراہ بنا دی گئی ہے جوکہ بلوچستان کے روایات و جامعہ بلوچستان کے ساتھ مذاق اور دوبارہ جنسی ہراسگی اسکینڈل جیسے منفی حربوں کو پروان چڑھانا ہے جی ایس او کے سابقہ سربراہ کے دور میں ایم فل و پی ایچ ڈی کے داخلوں اسکالرشپس سمیت تمام امور میں کرپشن کا بازار گرم کی گئی تھی اسکے ساتھ داخلوں کے نام پر بھی بلیک میلنگ کے کئی کیسز سامنے آئے ادارے میں ایک دفعہ پھر سے منفی عناصر کو مسلط کرنے کا سلسلہ شروع ہوچکی یے سابقہ وی سی کے گروہ کو مرعات سے نوازا جارہا ہے اسی طرح داخلوں میں کمی کردی گئی ہے جسکا مقصد بلیک میلنگ و کرپشن کو طول دینا ہے ان منفی اوچھے ہتھکنڈوں و سازشوں کو کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی جی ایس او کے سابقہ سربراہ جنکو رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر عہدے سے برخاست کی گئی تھی اب تعنیاتی کو واپس لیکر انکو سزا دی جائے اگر کاروائی نہیں کی گئی تو شدید احتجاج کیا جائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!