سفر نامہ نوشکی

Spread the love

تحریر: نجیب اللہ زہری

کچھ لمحات زندگی میں ایسے بھی آتے ہیں جنہیں قرطاس کی زینت رکھنا لازم رہتا ہے وہ لمحات سیاسی و سماجی بھی ہو سکتے ہیں جغرافیائی و تاریخی اور ادبی بھی ہو سکتے ہیں ایسے میں دیکھیں تو یہ امر من الشمس ہے کہ طلوعِ اُفق سے لیکر غروبِ شفق تک زندگی مسلسل سفرِ طویل کی مانند ہے سماجی و خاندانی مصروفیات یقیناً بندے کو دائرۂ مقرر میں جامد رکھتے ہیں – ان سب معاملات کو پسِ پُشت رکھیں تو نظامِ زیست سُست روی کا شکار رہتا ہے تمام تر مصروفیات کے باوجود بھی سماجی و سیاسی زندگی کو وقت دینا ہوتا ہے –
بلوچستان کی اپنی تاریخ ہے اور بلوچستان کے کچھ ایسے جغرافیائی سرحدیں ہیں جو کہ اپنے حدود اور تاریخی اعتبار سے منفرد اعزاز رکھتے ہیں اسی طرح ضلع نوشکی بھی بلوچستان کی تاریخ میں اپنی اہمیت رکھتا ہے
میرا نوشکی کا یہ سفر ارادتاً نہیں تھا بلکہ مرکز کے حکم پر میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ پاکستان سنی تحریک کے تنظیمی دورے پر تھا تنظیمی اجلاس کے لئے مجھے خاران جانا تھا چونکہ کوئٹہ سے خاران کا سفر کم و پیش طویل ہے میں نے سوچا کیوں نہ نوشکی تک سفر کروں کچھ وقت استراحت کے بعد سفر کروں ایسے میں مجھے ہمارے محسن دوست چیئرمین صدام بلوچ صاحب کی کال آئی اور چیئرمین صاحب بھی نوشکی سے تعلق رکھتے ہیں میں نے انہیں سنے بغیر کہہ دیا کہ چیئرمین میں آپ کے شہر جا رہا ہوں آپ کے ہاں رات بسر کریں گے چیئرمین صاحب نے ویلکم کہا خیر ہم رات گیارہ بجے نوشکی پہنچے رات چیئرمین صدام بلوچ کے ہاں گزاری صبح صبح ہمیں خاران کے لئے نکلنا تھا جیسے ہی صبح میں نے موبائل دیکھا نوشکی کے بہت سے دوستوں کے میسجز ملے جن میں سردار اسد شیر جمالدینی جو کہ جمالدینی قبیلے کے سردار، سردار آصف شیر جمالدینی صاحب کے بڑے صاحبزادے ہیں، سول جچ محترم نور مینگل صاحب جو کہ سپریم کورٹ اسلام آباد میں ہوتے ہیں، سید ذولقرنین شاہ ہاشمی، ایڈووکیٹ کے بی بلوچ، سوشل ایکٹوسٹ امیر حمزہ بلوچ، سوشل ایکٹوسٹ عطاء مینگل اور بہت سے دوستوں کے میسجز ملے کہ ماما آپ نوشکی میں ہیں تو ہماری محبتیں قبول کرنا میں خود ڈبل مائنڈڈ ہو گیا کہ اب تنظیمی اجلاس کے لئے خاران جاؤں یا دوستوں کو ٹائم دوں ایسے میں سربراہ پاکستان سنی تحریک انجینئر محمد ثروت اعجاز قادری صاحب کی کال آئی اور حکم ہوا کہ آپ خاران میں اجلاس کو کینسل کریں اور کراچی پہنچے –
میرے لئے یہ خبر بہت سی خوشیاں لیکر آیا ایک تو میں نوشکی میں کچھ وقت گزار سکتا تھا دوسرا یہ کہ مجھے خاران کی گرمی سے بہت ڈرایا گیا تھا –
سردار اسد شیر جمالدینی صاحب، چیئرمین صدام بلوچ صاحب کی دعوت پر نوشکی میں دو دن سکونت سے نوشکی کے حوالے سے جو کچھ دیکھنے اور سمجھنے کو ملا سوچا اپنے قارئین تک پہنچاؤں
نوشکی میں بنیادی طور پر مغل بادشاہت کی بھی تاریخ ملتی ہے جہاں مغل فوج کے دستوں کی لوٹ مار اور عوامی اراضی پر قبضہ، نوشکی میں موجود چھوٹے چھوٹے قبائل سے بیجا ٹیکس لینا جیسے واقعات مغل فوج کی طرف سے پائے جاتے تھے- چونکہ کہ مغلوں نے کابل افغانستان پر بھی حکومت کی جغرافیائی سرحدوں کے لہٰذ سے نوشکی بھی بلوچستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں شمار ہوتا ہے کابل سے زمینی رابطے کی وجہ سے مغل بادشاہت کے آثار اور تاریخ پائی جاتی ہے
گل خان نصیر بلوچ اور British gazetter کے مطابق بنیادی طور پر نوشکی میں آباد indigenous tribes میں سے سولہویں صدی میں ماندائی قبیلہ یہاں آباد ہوا ہے مغل بادشاہ کی ظلم و ستم اور Plunderin کی وجہ سے ماندائی قبیلہ مدد طلب کرنے اور لَٹھ بستی کے لئے رخشان میں موجود اپنے برادر قبائل جمالدینی اور بادینی کی طرف ہجرت کی جمالدینی اور بادینی قبائل کی طرف سے مدد ملنے کے بعد ماندائی قبیلہ اپنے برادر قبائل جمالدینی اور بادینی کے ساتھ واپس نوشکی میں آباد ہوئے اور اتحادی فوج کی تشکیل ہوئی جن میں ماندائی، جمالدینی، بادینی، قبائل کے لوگ شام تھے، اتحادی فوج کے ساتھ ان تین قبائل نے ملکر کر مغل بادشاہت کے خلاف جنگ کی اور مغل دستوں کو شکست دی مغل دستوں کو شکست دینے کے بعد نوشکی کے مقام پر آباد ہوئے –
ماندائی قبیلہ مالی اور افرادی قوت میں کمزور قبیلہ تھا اور اپنی سرداری بھی نہیں رکھتا تھا تو اس وقت جمالدینی اور بادینی دو بڑے قبائل تھے فیصلہ یہ ہوا کہ ماندائی قبیلہ ان دو قبائل میں سے کسی ایک کی سرداری میں آئے اس وقت بادینی قبیلہ نے ماندائی کو اپنی سرداری میں قبول نہیں کیا تھا مگر جمالدینی قبیلہ نے ماندائی قبیلہ کو دو شرائط پر اپنی سرداری میں قبول کیا تھا –
اول، جمالدینی قبیلہ کی سرداری ماندائی قبیلہ قبول کرے گا،
دوم، جمالدینی قبیلہ اپنی سرداری زمین سے سہیک یعنی تیسرا حصہ ماندائی قبیلہ کو دے گا،
ماندائی قبیلے نے یہ شرائط اس وقت تسلیم کیئے تھے جس کی بنیاد پر دورِ نو تک ماندائی قبیلہ جمالدینی قبیلے کی سرداری میں ساتھ ہے –
مینگل قبیلہ تاریخی اعتبار سے خان آف قلات کے حکم پر نوشکی میں آباد ہوا تھا مینگل قبیلہ سرحدی حدود کی حفاظت اور محصولات جمع کرنے کے لئے خان آف قلات کے حکم نامے کے ساتھ نوشکی میں سکونت اختیار کی تھی بعد ازاں مینگل قبیلہ نے مقامی قبائل جن میں جمالدینی اور بادینی سے چھوٹی چھوٹی لڑائیاں شروع کی تھی بعد میں ان تینوں قبائل کے درمیان خاران کے مقام پر تاریخی جنگ ہوئی تھی جس میں مینگل قبیلے کے جانی و مالی نقصانات بہت ہوئے تھے –
اس جنگ کا فیصلہ خان آف قلات نے کیا تھا اس فیصلہ میں جمالدینی اور بادینی قبائل نے مینگل قبیلہ کو دیت میں ڈاک جو کہ اس وقت نوشکی کا مشہور علاقے ہے وہاں پر جمالدینی قبیلہ اور بادینی قبیلہ نے مینگل قبیلہ کو اپنی جائداد میں سے بہت سے زمینیں دی تھی ان زمینوں پر جو آج کل ڈاک کے نام سے مشہور ہے میں مینگل قبیلہ آباد ہے-
نوشکی جغرافیائی اعتبار سے افغانستان اور ایران کے ساتھ لگتا ہے یہ باڈر اسٹرٹیجکلی بہت فائدہ مند ہے نوشکی کے مقامی افراد کی رشتہ داریاں ایران اور افغانستان میں میں بہت ہیں جس کی وجہ سے آنا جانا لگا رہتا ہے یہاں کے مقامی افراد کا کاروبار باڈر پر ہوتا ہے باڈر بند ہونے کی صورت میں مقامی افراد کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے – افغانستان باڈر امریکن اور پاکستانی افواج کے لئے اس لیئے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ یہاں مذہبی انتہاءپسندی جماعت تحریک طالبان کے کیمپس موجود ہیں
نوشکی کا ایک علاقہ احمد وال کے نام سے مشہور ہے تاریخ دانوں کے مطابق اس علاقے سے افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ادیبالی( ابدالی ) کا گزر ہوا تھا چونکہ نوشکی دو ریاستوں کے سرحدوں پر واقع ہے ایران اور افغانستان، جس کی وجہ سے یہاں فارس اور کابل کی تاریخ کی کچھ روایت بھی ملتی ہیں – افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالی نے کچھ وقت یہاں گزار کر آگے کے لئے سفر کیا تھا جس کی وجہ سے اس علاقے کا نام احمد وال رکھا گیا جو کہ اہلِ بلوچستان کا اہلِ افغانستان سے قربت کی علامات میں سے ہے –
نوشکی کا ایک علاقہ بٹو کے نام سے مشہور ہے یہ پہلے بٹ کے نام سے جانا جاتا تھا بعد میں کثیر الاستعمال کی وجہ سے بٹ سے بٹو پکارا جانے لگا یہاں قدیم مذاہب کے اعتبار سے زرتشت پائے جاتے تھے اس علاقے میں ان کی قبریں اور آثارِ قدیمہ بھی موجود ہیں-
نوشکی کی سر زمین سیاسی و ادبی اعتبار سے ہمیشہ سر سبز رہا ہے نوشکی کی سر زمین کا سیاسی و ادبی لہٰذ سے بلوچستان کی تاریخ میں بہت ہی اہم کردار رہا ہے گلُ خان نصیر بلوچ جن کی جائے پیدائش نوشکی ہے، عبداللہ جان جمالدینی صاحب اور آذاد جمالدینی صاحب کا ادب میں اہم کردار رہا ہے، سیاسی اعتبار سے سردار اسد اللہ جمالدینی کا ایک اہم کردار رہا ہے وہ 1970 کی دہائی میں نیپ کے صدر رہے ہیں-
نوشکی نے ہمیشہ سیاسی بصیرت اور ادبی بصیرت رکھنے والی شخصیات بلوچستان کو دیئے ہیں نوشکی کے مقامی افراد شروع دن سے ہی ہر اعتبار سے اپنی اہمیت رکھتے تھے اور رکھتے ہیں-
نوشکی میں خیصار پہاڑی علاقہ پکنک پوائنٹ اور زنگی ناوڑ ریگستان جو کہ شکار گاہ ہے اپنی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں –
میں نے کوشش کی کہ اپنے سفر نامے میں قارئین کو بلوچستان کے علاقے نوشکی جو کہ اب رخشان ڈویژن کا حصہ ہے کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کر سکوں ممکن ہے کہ میرے مطالعہ اور معلومات میں کمی پیشی ہو – میں اپنے سفر میں نوشکی کے مقامی افراد کو روایت اور ثقافت کے اعتبار سے بہت ہی اعلیٰ پایا وہاں کی مہمان نوازی محبت و الفت جیسے بہت سے معتبر روایت نے متاثر کیا،

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!