آہ … بلوچستان

Spread the love


تحریر: زبیر بولانی


اس ریاست کی آزادی کو 70 سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن شاید بلوچستان اب تک ایک مفتوحہ یا مقبوضہ حصہ ہے اس ریاست کا ۔لیکن مفتوحہ یا مقبوضہ جگہ پر بھی اتنا ظلم نہیں ہوا ہو گا جتنا کے میرے اس سرزمین پر ڈھائے جا رہے ہیں ۔آج 70 سال بعد بھی بلوچستا ن میں ماں کے سامنے اس کے لخت جگر کو پھانسی دی جاتی ہےلیکن کوئی بولنے والا نہیں ۔۔آن بھی بوڑھے باپ کے سامنے اس کے بیٹے کو گولیوں چھلنی کیا جاتا ہے لیکن کو پکار سننے والا نہیں آج بھی بہن کو عید کے دن اس کے بھائی کی مسخ شدہ لاش بطور تحفہ دیا جاتا ہے لیکن کو دیکھنے والا نہیں ۔۔۔اور ان سب مظالم میں ہمارے اپنوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔۔کہتے ہیں کہ دشمن چاہے جتنی بڑی تعداد میں ہو آپ اسے ہرا سکتے ہیں لیکن دشمن کوئی اپنا ہو تو اس سے جیتنا نا ممکن ہوتا ہے۔۔ابھی حال ہی میں حیات بلوچ کو اس کے ماں باپ کے سامنے گولیوں سے بھوند دیا اور ہم نے کیا کیا ایک پر امن احتجاج برمش کے سامنے اس کی ماں کو شہید کیا گیا اور ہم نے کیا کیا اک پر امن احتجاج ۔۔۔اور پر امن احتجاج بھی ہم کونسی ریاست کے ساتھ کر رہے ہیں جس کو ہمارے خوں سے زیادہ گدھے کا زیادہ فکر ہے ۔۔اس ریاست میں پر امن احتجاج کر رہے ہیں جن کو ہمارے حیات سے زیادہ گاڑی کا شیشہ ٹوٹنے کا فکر ہو۔۔زرا سوچو جب ماں کے سامنے اس کے لخت جگر کو پھانسی دی جارہی ہو تو اس ماں پہ کیا گزری ہو گی ۔۔۔جب بوڑھے باپ کے سامنے اس کے نوجوان بیٹے کو شہید کیا جائے اس پر کیا گزری ہوگی۔۔جب اک معصوم سی بچی کے سامنے اس کی ماں کو بے دردی سے مارا گیا ہو اس پر کیا گزری ہوگی۔۔کب تک ہم لاشیں اٹھا اٹھا کے پرامن احتجاج کر کے انصاف کی بھیک مانگے گے۔۔اسی طرح ہمارے شعوری تعلیم یافتہ اور پڑھا لکھا طبقہ جس طنزلی کی طرف جا رہا جس طرح سے ذہنی غلامی کا شکار ہو رہے ہیں ۔۔۔شاید آنے والے وقتوں میں مجھے خوف ہے کہ یہ نوجوان کہیں پاگل نہ ہو جائے ۔۔۔ان کو اپنی زبان میں بات کرنے، لکھنے اور سمجھنے سے نفرت ہوتی جارہی ہے۔۔۔ابھی تو کچھ لوگوں نے بلوچ ثقافت کو اک مزاق بنا کے رکھا ہے۔۔کیا ہمارے ثقافت میں لکڑیوں کے تلوار ہوا کرتے تھے کیا ہماری ثقافت میں لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے ناچتے تھے کیا ہماری ثقافت مزاق تھا ۔۔۔آج پوری دنیا کے سامنے بلوچ ثقافت کو مسخ کرنے والے بھی اور کوئی نہیں ہمارے اپنے ہی ہیں۔اور دوسری بات ثقافت وہ قومیں مناتی ہیں جو آزاد ہوں ۔۔انھیں بولنے لکھنے پڑھنے رہنے اور بات کرنے کی آزادی ہو ۔۔ہمارے پاس شاید زمیں کا ٹکڑا تو ہے لیکن آزادی نہیں تو پھر ہم ثقافت کا دن کیوں منائیں۔۔ہم تو وہ قوم تھے کہ جن کے گھر کی چار دیواری کی طرف کسی غیر کی نظر پڑتی تو اس کی آنکھیں نکالی جاتی تھیں ۔۔ہم تو وہ قوم تھے جو اپنی ننگ و ناموس کے حفاظت کیلئے جان قربان کر دیتا تھا لیکن اپنی عزت پہ آنچ نہیں آنے دیتا تھا ۔۔آج ہم کہاں کھڑے ہیں ۔۔ہمارے مائیں بہنیں آج روڈوں پر ہیں کسی کو جوں تک نہیں رینگتی۔۔بلوچ کبھی ضمیر فروش نہیں ہوتا لیکن آج ہر تیسرا شخص اپنی ضمیر بیچ چکا ہے ۔۔۔ابھی بھی وقت ہے اپنے قوم اپنی زبان اور اپنی سر زمین کے بارے میں معلومات رکھو پڑھو اور اسےآگے بڑھاو ورنا آنے والے وقتوں میں شاید بلوچستان کا نام رہ جائے گا لیکن شاید بلوچ نہیں رہے گا..

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!