نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے درمیان اتحاد وقت کی اہم ضرورت

Spread the love


تحریر:مقبول عیسی زئی بلوچ


نیشنل پارٹی , بلوچستان نیشنل پارٹی, بلوچستان میں مقبولیت رکھنے والے سیاسی جماعتیں ہیں نیشنل پارٹی جس کے سربراہی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کر رہے ہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہی سردار اختر جان مینگل کر رئے ہیں ۔
یہ جماعتیں بلوچ قوم کے حقوق کیلئے جدوجہد کر رئے ہیں پارلیمانی سیاست پہ یقین رکھتے ہیں ۔ بلوچستان کے مسلہ سیاسی ہے اور اس مسلے کا حل بھی سیاسی انداز میں ہونا چائیے اس کیلئے ضروری ہے بلوچستان میں موجود قوم پرست سیاسی جماعتیں ایک پیج پہ ہوجائے ۔ المیہ یہ ہے دونوں بڑے جماعتیں ایک پیج پہ ہونے کی بجائے شدید اختلافات رکھ رہے ہیں ۔ بہت عرصے بعد اگر ان دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی یا نزدیکی نظر آئی ہے۔ اس کی وجہ میر جمہوریت حاصل خان بزنجو کے ناگہانی جدائی ہے ۔ اگر میر غوث بخش کے بعد بائیں بازو کے صحیح معنوں میں کوئی سیاسی ورکر رئی ہے تو وہ میر حاصل خان جنہوں نے طلباء سیاست سے پارلیمانی سیاست تک بائیں بازو کے سیاست سے جڑا رہا .20 اگست کو جب میر جمہوریت میر حاصل خان ہمیشہ کیلئے جدا ہوا تو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے سیاست میں انکی کمی محسوس کرکے سیاسی ورکرز انکو بھرپور خراج عقیدت پیش کیئے ۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے قیادت نے بھی بھرپور میر صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور انکے نماز جنازہ میں بی این پی کے لیڈرشپ نے شرکت کی۔ جب صوبائی اسمبلی میں ایک سردار ہاؤس کے اندر غیر مناسب الفاظ میر صاحب کیلئے استعمال کیا بی این پی کے اراکین اسمبلی نے باقی جماعتوں کے اراکین کے ساتھ واک آؤٹ بھی کیئے۔
دوسری جانب نیشنل پارٹی نے انکا شکریہ بھی ادا کیا اور انکو جمہوری جماعت بھی کرار دیا ۔
اگر گزشتہ الیکشنز پہ اپنے توجہ مرکوز کریں جن سیٹوں پہ 2013 میں نیشنل پارٹی نے کامیابی حاصل کیا تھا ۔ 2018 میں ان میں سے کسی بھی نشست پہ بی این پی نے کامیابی حاصل نہیں کی ۔
نیشنل پارٹی نے جن نشستوں پہ کامیابی حاصل کیا تھا 2013 میں ان کا تفصیل زرہ اس طرح ہے۔
تربت ۔
بلیدہ
پنجگور 1
پنجگور 2
خضدار
قلات
مستونگ
اور بی این پی نے جن نشستوں پہ 2018 میں کامیابی حاصل کیا تھا وہ کچھ اس طرح ہے
کویٹہ کے تین نشست
نوشکی
خاران
گوادر
وڈھ
اسی طرح نیشنل پارٹی کے پوزیشن بارکھان کولہو اور صحبت پور اور آواران میں بھی مظبوط یہ وہ نشستیں ہیں جہاں سے اسٹبلشمنٹ نے نیشنل پارٹی کو ٹپہ لگا کر ان کے جیت کو ہار میں تبدیل کیا تھا ۔
بی این پی کے اسی طرح کویٹہ نصر اللہ والے نشست پہ پوزیشن کافی مضبوط ہے اور کیچ کے علاقے دشت میں بھی زمنی انتخابات میں اچھی پوزیشن دکھائی دیا ۔ میرے خیال میں اگر یہ دونوں جماعتیں ایک پیج پہ ہوجائیں اور مضبوط اتحاد قائم کریں تو ہرگز بلوچستان میں باپ جیسے یا دیگر وفاقی جماعت فایدہ نہیں اٹھا پائیں گے ۔ اسٹبلشمنٹ کو بھی بڑا دھچکا لگ سکتا اور ان کے اتحاد سے اسٹبلشمنٹ کے نیندیں حرام ہونگے اسٹبلشمنٹ کیلئے کافی مشکل ہوگا نتائج تبدیل کرنا اور انکے اتحاد سے بلوچستان میں حکومت سازی کرنا اور قانون سازی کرنے کیلئے بلوچستان کو اچھی پوزیشن ملے گا ۔
بلوچستان کے مسلہ کا حال اور یہاں کے عوام کے محرومیوں کا ازالہ ان دونوں بڑے جماعتوں کیلئے آسان ہوگا ۔
بلوچستان کے عوام ان دونوں جماعتوں کو آپس میں نزدیک لانے میں مہم چلانا اور کردار ادا کرنا ہوگا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!