سرخ رنگ کا قتل

Spread the love

تحریر:عبدالعزیز

دو زندگیوں کے لیے کس مہ پرسی کے دنوں میں ہاتھوں پہ مہندی کا سرخ رنگ ان کی زندگی میں انقلاب کی کرن ہوتا ہے۔ ایک ایسا انقلاب جس میں خوشحالی ہوگی، اشرافیہ کے سامنے سر جھکانا نہ پڑے گا، عزیز و اقارب میں عزت ہوگی اور وطن عزیز کی ترقی میں انکا نمایاں حصہ ہوگا۔ ان تمام خوابوں کی تعبیر کے لئے ایک امید جنم دیتے ہیں اس امید کی بناء پر کئی سرخ محل تعمیر کرتے ہیں۔ جس کے باعث ان میں بیک وقت کئی انقلابی کردار سما جاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ اس امید سے انکے تعلق داروں کو بھی انقلاب کی چاہ ہوتی ہے۔ یوں امید بھوک پیاس گزار کر جہد مسلسل کی ٹھان لیتی ہے۔اسکی یہ جہد کہیں نہ کہیں کسی طبقہ کے لئے خطرے کا باعث بھی ہوتی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو خود کو زمینی خدا مانتے اور منواتے ہیں۔ انکے اختیار میں کیا کچھ نہیں حتیٰ کہ زندگیوں پر بھی انکا اختیار ہے۔ شک کی بنا پر کسی کی زندگی چھین لینا انکا معمول ہے، جس پر آسمانی خدا بھی مطمئن ہے، اسکی قدرت میں بھی کوئی اضطراب پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایک روز دن دہاڑے پر مسرت فضا میں امید انقلاب کے پیٹ میں خنجر گھونپ دیا جاتا ہے۔ خواب دیکھنے والے خود کو کوسنے لگ جاتے ہیں کہ کاش ہم نے خواب نہ دیکھے ہوتے جن کی تعبیر مہندی کا نہیں خون کا رنگ ہے۔ اس کرب میں زندگیاں کچھ عرصے کے لئے سرخ چنگاری، پھر جلد ہی راکھ بن جاتی ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!