خوف کی وہ تنہا رات

Spread the love

تحریر؛ آصف بلوچ


احسان ایک میڈیکل کا طالبِ علم تھا
اسے اپنے داخلے پر بے حد خوشی ہوئی تھی اور آخر ہوتی بھی کیوں نہیں وہ بلوچستان کے میڈیکل کالج میں آگیا تھا
اسے زندگی بڑی حسین لگنے لگی تھی
بس اپنے پیشے میں رہ کر لوگوں کی خدمت کرنی تھی
وہ اپنے آنے والی زندگی کے بارے میں حسین سپنے دیکھتا رہتا اور خوشی سے جھوم اٹھتا. دُنیا کی بھاگ دوڑ سے کہیں دور اس نے اپنی خیالی دنیا بنا لی تھی جہاں وہ سکون سے رہتا تھا
آگے جا کر اپنے خاندان کا کفیل بننا تھا
آخر کب تک وہ غریبی کے مرض میں مبتلا اپنے خاندان کو دیکھتادن گزرتے گئے ایک سال مکمل ہوگیا.
اور پھر ایک دن جب وہ اپنے کالج جا رہا تھا تو اس نے کالج آتے وقت دیکھ لیا کہ تمام طلبہ اکھٹے ہوئے ہیں ایک احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیئے .مزید معلومات حاصل کرنے لیئے اس نے اپنے ایک دوست سے پتہ کیا کہ ماجرا کیا ہے تو پتہ چلا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں ایک اسکینڈل ہوگیا ہے۔
کئی عرصے سے طالبات کو ہراساں کیا گیا ہےجس کی مد میں قریباً 5000 ویڈیوز ظاہر ہوئی ہیں اور پھر ان کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے
احسان کا وہ دوست تو چلا گیا پر احسان وہیں دنگ رہ گیا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے
آخر اتنا بڑا ظلم رونما ہونا کسی قیامت سے کم تو نہیں
اسے احساس ہونے لگا تھا کہ اب آواز اٹھانی چاہیے اور وہ اس احتجاج میں شامل ہو گیا اور پھر آئے روز احتجاج ہوتے رہے پر مجال ہے کہ انصاف ملے
اب احتجاج وسیع ہوتا گیا بلوچستان کے کونے کونے میں احتجاج ہونے لگے اسمبلیوں میں آوازیں گونجنے لگیں
لکین وہی بات انصاف کی ہے کہ کہیں نظر تک نہیں آتا
خیر اب احسان اپنے آبائی علاقے چلا گیا
جب اسے احساس ہوا کہ ہر شہر میں احتجاج ہو رہے ہیں تو میرا یہ لاوارث شہر اتنے سکون سے سویا کیسے ہوا ہے
اس نے ٹھان لی کہ وہ بھی اپنے شہر میں ایک احتجاج ریکارڈ کروائے گا انصاف ملنے کی امید سے کہیں دور بس ایک آس دل میں جاگ گئی کہ ہوسکتا ہے کہ آٹے میں نمک کے برابر حق ادا ہوسکے
بس ہونا کیا تھا احسان اپنے دوستوں سے ملتا گیا اور اس احتجاج کے لئے انکے مابین باتیں ہونے لگیں
اب انہوں نے ہر اسکول اور کالج میں جاکر آگاہی مہم چلائی لیکن اکثر اسکولز کے ہیڈ ماسٹرز کی طرف سے انہیں مایوسی کا ہی سامنا ہوا
لکیں یہ چند مٹھی بھر دوست پُرعزم تھے کہ کچھ کر کے ہی دم لیں گیں اب ایک روز رہ گیا تھا احتجاج میں اور تیاریاں مکمل تھیں
یہیں سے اس خوفناک رات کی آمد ہوئی جب احسان کو نا معلوم افراد کی طرف سے کالز آنے لگیں بلکہ اس روز اس خوف کی رات نے احسان کے ہر اس دوست کی زندگی میں دستک دی جو اس مہم کے ساتھی تھے
جناب آپ احسان بات کر رہے ہیں
احسان وہیں ساکن رہ گیا مانو کسی نے اسکی جان نکال دی
جی میں احسان بات کر رہا ہوں
:نا معلوم
آپ کیا کر رہے ہیں. آپ کیوں یہ احتجاج کرنا چاہتے ہیں آپکے ساتھ کتنے لوگ ہیں اور
آپکا احتجاج کل کس وقت شروع ہوگا
اختتام کہاں پہ ہوگا؟
احسان صرف ایک مشین کی طرح جی سر کہہ کر خاموش ہوجاتا
اسکے دل میں اس خوف نے جگہ بنانا شروع کر دی کہ آخر ایسا کیا کر دیا اس نے وہ تو بس ظلم کے خلاف آواز اٹھانا چاہتا تھا
اس نے کوئی جرم تو نہیں کیا حالانکہ انہوں نے
شہر کے ڈپٹی کمشنر سے اجازت بھی لے لی تھی
احسان کے اس خوف میں اضافہ تب ہوا جب اسکے تمام دوستوں کو یہی کالز آئیں اور سب سے ایک ہی سوال کیا جا رہا تھا کہ لیڈ کون کر رہا ہے
آخر اتنی ہل چل کیوں مچ گئی تھی
اسکے اس بے جان سے جسم میں خوف نے گھر بنانا شروع کر دیا تھا اسے طرح طرح کے خیال آنے لگے
اس گھنی رات کی تاریکی اپنی خوف کی چادر اوڑھے احسان کے جسم و روح میں سمانا شروع ہو گئی تھی اور
اب وہ خوف سے نڈھال ہو چکا تھا
اسکی ماں باہر روٹیاں پکا رہی تھی اور وہ انکو دیکھ کر اور خوف میں مبتلا ہوتا گیا کہ اگر ابھی وہی نام نہاد نا معلوم آکر مجھے لے گئے تو میری ماں پہ کیا گزرے گئ.
آخر وہ کیسے یہ برداشت کر سکتی تھی کہ اسکے لخت جگر کو اسکے سامنے سے لے جایا جائے گا
وہ کیسے برداشت کر سکتی تھی کہ جو دوپٹہ وہ اپنے بیٹے کی جان بچانے کے لیے پھیلائے گی اسی دوپٹے سے اسکے بیٹے کی آنکھوں کو باندھ لیا جائے گا
اس نے سوچ لیا کہ وہ آج گھر میں نہیں رہے گا کم از کم اس اذیت ناک واقع سے اسکی ماں کو گزرنا تو نہیں پڑے گا
اور وہ باہر چلا گیا سوچا کہ دوستوں کے پاس چلا جائے پر پھر سے خیال آیا کہ اسکی وجہ سے اسکے باقی دوستوں کو کہیں نقصان نہ پہنچے
اب انہی خیالوں نے اسے گھیر لیا اور وہ اس شہر کے ویران سڑکوں پر آدھی رات میں بھٹکتا رہا
اور اس خوف نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا تھا
اب اس شہر میں احسان خود کو تنہا محسوس کرنے لگا تھا
اور اسکے ذہن میں پیچھے ہٹنے کے خیالات آنے لگے تھے
اب وہ واپسی کا راستہ ڈھونڈنے لگا تھا. ہاں وہ ڈر گیا تھا
ہاں احسان نے ظلم کے آگے سر جھکا لیا تھا
ہاں احسان ہار گیا تھا
اسے ایک طرف اپنے خاندان پہ گزرنے والی اذیت کا خوف کھائے جا رہا تھی تو دوسری طرف وہ یہی سوچ رہا تھا کہ اس کام میں اسکے ساتھ کئی معصوم دوست تھے جنہیں کچھ اندازہ تک نہ تھا کہ کیا نتیجا نکل سکتا ہے
وہ خود کو مجرم سمجھنے لگا تھا
اب اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ واپس گھر جائے گا اور وہ گھر کی طرف روانہ ہوا جیسے ہی گھر پہنچا تو پھر سے وہی خوف وہی تاریکی ….
وہ جاتا تو آخر کہاں جاتا
وہ ساری رات بیٹھ کر جاگتا رہا
اسی سوچ میں کہ اب کچھ ہو جائے گا ابھی وہ نا معلوم افراد گھر میں گھس کر سب کو گہری نیند سے جگا کر ان سب پہ قیامت برپا کر دیں گے اور اسے لے جائیں گے
احسان بس کبھی دروازے کی طرف دیکھتا تو کبھی سوتی ہوئی اپنی ماں کو دیکھتا
احسان چاہتا تھا کہ وہ پھر سے بچہ بن جائے اور اسکی ماں اسے اپنی گود میں سلا دے
جیسے بچپن میں جب احسان رات کو جانوروں کی آوازیں سن کر ڈر جاتا تھا تو اسکی ماں اسے اپنی گود میں سلا دیتی تھی جہاں وہ دنیا کے سارے خوف و گھبراہٹ سے لا تعلق ہو کر گہری نیند کی آغوش میں چلا جاتا تھا
اس نے وہ پوری رات جاگ کر گزار دی اگلی صبح وہ یہی سجھ رہا تھا کہ قسمت اس پر مہربان ہو گئی ہو جیسے اسے نئی زندگی ملی ہو
اس نے اگلے ہی روز اس احتجاج کو ملتوی کر دیا اور پھر واپس شال چلا گیا
لیکن اس نے اپنے زندگی میں ایک داغ چھوڑ دیا وہ داغ ڈر کا داغ تھا اور اسکے ماتھے پر ڈر کا داغ لگا رہا
ظالم جیت گیا مظلوم ہار گیا!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!