حیات کے آخری لمحات

Spread the love

تحریر : یسین بلوچ

بیٹا آج کل کے جوانوں میں دم ہی نہیں توڑا سخت کام کرنے سے جلدی تھک جاتے ہیں. حیات کے والد نے کہا,ایسے ہی تم بھی کمزور ہو مگر یہ اچھی بات ہے جلدی تھک ہار کر بیٹھتے نہیں. ابھی آمین(کھجور کے پکنے کا وقت) بھی ہے تو کام بہت کرنے ہیں.
بیلچہ لگانے کی رفتار تیز کرو تاکہ شام تک یہ کام مکمل ہو تو کل کا کام آج جتنا رہے گا.
حیات نے مسکراتے ہوئے کہا ابّا میں جتنا کام کرتا ہوں اتنا تو آپ نہیں کرتے یہ کہہ کہہ کر مجھ سے سارے باغ کا کام لیا.
حیات کے والد قہقہہ لگاتے ہوئے ہاں سارا کام تم نے کیا ہے تم سے تو ایک نِیَال لگایا نہیں جاتا.

اس وقت باغ کے بانہیں طرف میدانی جہاں سے کچا راستہ جاتا ہے وہاں سے ایف سی کے گاڑیاں گزررہی تھیں کہ اچانک ایک دھماکہ ہؤا جس سے ایک گاڑی کو نقصان پہنچا حیات اور اس کے والد کھجور کے درختوں کے درمیان سے راستہ بنا کر دیکھنے گئے کہ ہوا کیا ہے جب باغ کے آخری کھجور کے درخت تک پہنچے تو دور سے ایف سی والوں نے حیات اور اس کے والد کو دیکھ کر کہا یہ ہمیں مارنے آ رہے ہیں تو وہی سے انہوں نے بندوق کی نوک سے اشارہ کرتے ہوئے کہا زمین پر لیٹو. کچھ لمحے وہ حیران ہوئے کیا ہورہا ہے مگر تب تک کچھ وردی والے اُن تک پہنچ گئے,پہنچتے ہی حیات کو مارنا شروع کیا حیات کے والد نے ہاتھ جوڑ کر پوچھا میرے بیٹے کو مت مارو مگر وہ مارے ہی جارہے تھے.
کچھ ایف سی والوں نے حیات کو والد کو پکڑا اور حیات کو گھسیٹتے گئے. وردی والوں کے تشدد دیکھ کر
حیات کے والد ان سے بیٹے کے زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا.

مجھے چھوڑ دو میں نے کچھ نہیں کیا ہے مگر وہ کہے جارہے تھے یہ آئی ای ڈی تم نے بچھایا ہے تم نے ہم پر حملہ کیا ہے. حیات کو گھٹنوں پہ بٹھا کر ایک ایف سی والے نے اس پر گولی چلائی جو حیات کے سینے کو چھیر کر نکلی پھر بھی وہ اس حالات میں تھا خود کو سنبھال سکے اسی وقت اس کی والدہ دوڑی چلی آ رہی تھی. حیات سینے پر ایک گولی کھانے کے بعد بھی اس کوشش میں لگ گیا کہ ماں کو پتا نہ چلے کے گولی مجھے لگی ہے. لیکن ایف سی والے کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا اس نے سات اور گولیاں چلائیں حیات گر گیا. خون تھا کہ بہے ہی جارہا تھا. نزع کے عالم میں حیات اپنی ماں کو تسلی دینا چاہتا تھا پر پہروں کے انگلیوں سے نکلتے ہوئے روح جب سینے تک پہنچی تھی تب شاید وہ کہنا چارہا تھا کہ ہماری زندگیاں آزادی کے بغیر زندگی نہیں نہ ہی اس کی کوئی اہمیت ہوگی. تب بھی حیات کی والدہ ہاتھا اٹھا کر خدا سے کسی معجزے کی امید میں تھا پھر سے سانسیں لینے لگے پر وہ ہمیشہ کے لئے جاچکا تھا.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!