ہائے ۔۔۔۔یہ بے بسی !

Spread the love

تحریر:نوید لانگو

کھلے آسمان تلے ستاروں کی محفل میں حیات اور انکی والدہ محوے گفتگو تھیں۔اندھیرے میں ایک چمک جگنو کی تھی تو دوسری حیات کے کتابوں کا اجالا۔
بس اماں جی آخری صفحہ پڑھ لوں ۔ماں نے مسکراتے ہوئے کہا اب تو وقت دو کتابوں سے یاری پھر کر لینا زندگی ساری پڑھی ہے ۔
اب تم آرام کرلو صبح باغ پے بھی جانا ہے ۔ابا تمھارے اکیلے ہیں ۔انکا ہاتھ بٹاہیں گے ۔
اماں نے حیات کے ماتھے پر بوسہ دے کر اسے سونے کا کہا اور خود چلی گئ۔
سر تکیہ پر رکھ کر نگاہیں آسمان پے بلند کی اور سوچوں کی جھرمٹ میں جھوم گیا ۔خاندان کا یہ پہلا سرمایہ جس نے کیچ سے اڑان بھری کتابوں کو سینے سے لگا کر ممتا کی آنکھوں سے اوجھل اپنے مسقبل اور اماں ابا کی بے بسی کو ایک نوید نو میں بدلنے کی جتن کی۔۔


چڑیوں کی چہچاہٹ باد صباح کی سرگوشی نے آنکھیں کھولنے پے مجبور کردیا
اماں کے ہاتھوں کا چائے اور ابا کے قصے۔۔ ہائے ۔۔ہائے ۔۔۔۔ قسمت والوں کو نصیب ہوتی ہے۔
ابا نے چادر جاھڑ کر کندھے پے رکھا اور بیلچہ اٹھا کر باغ کی طرف روانہ ہوا کہ تم ماں اور بیٹے کے باتیں ختم ہو تو باغ آجانا۔
حیات "منی چک "میرے بیٹے پتہ نہیں کب تمھاری یہ پڑھائی ختم ہو مجھے تمھارے ہاتھوں میں مہندی لگوانا ہے۔


اماں کرلوں گا ہاتھ پیلے بس کچھ عرصے کی بات ہے پھر دمادم مست قلندر ہوگا آپ کا لاڈلا آفسیر لگے گا شہر جائیں گے خوب خدمت کروں گا کام تو بلکل نہیں کرنے دوں گا۔ ۔۔۔اچھا ابھی بس بھی کرو ابو تمھارے انتطار کررہے ہوں گے۔دھوپ کی تپش میں ان سے کام نہیں ہوتا!


بس آپ چلیں بغل میں کتاب دبا کر حیات باغ کی طرف چلا ماتھے کی جرہیوں پر پسینوں کی موج کا راج تھا ۔ہائے غریبی۔۔۔یہ بزگی۔۔۔۔!
بابا آپ درخت کے سایہ میں بیٹھ کر تھوڑی دیر آرام کر لیں ۔بیلچہ اٹھائے حیات زمین ہموار کرنے میں لگا کہ اچانک ایک زور دار آواز کانوں میں گونج اٹھا ۔اسکے بعد سلامی دی گئی آٹھ گولیوں سے حیات کو ایوارڈ کے لیے نامزدکیا گیا ۔کلیجہ نہیں پٹھا نہ ہی آسمان سے آنسو گرے ۔گرا تو اماں کا چادر ۔۔۔اترا تو ابا کا کندھا۔۔۔ زمیں لہو سے تر ہو کر بھی ہلانہیں۔۔ بس ایک گواڑخ مرجھا گیا۔ سرخ رنگ کی ہولی کھیلی گئ ۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!