سانحہ تربت اصل زمہ دار کون؟

Spread the love

سوکھی لکڑی کی آڑ میں گیلے پتے کیوں بھسم ہوئے


تحریر:ندیم الرحمٰن بلوچ


حیرت ہوتی ہے جب اسٹیٹ ہولڈرز نان اسٹیٹ ہولڈرز کی طرح اپنے مطالبات تسلیم کرانےکے عنوانات کا بھرم قوت کے زور پر رکھنے کی ٹھان لیتے ہیں حالانکہ انسانی فطرت کو اب تک اس موضوع پر قاہل نہیں کیا جاسکا لفظ طاقت کو لفاظی حد تک مؤثر کہا جاسکتا ہے اور کہا جاتا ہے لیکن معاملہ لفاظی حدود سے نکل کر جب عمل کی دنیا میں گردش کرنے لگتا ہے تو محض مخاطبین کے مظلوم رہنے پر آمادگی طاقت کو اوسط درجے تک موثر رکھ سکتا ہو (شاہد) لیکن اگر طے شدہ امر کے طور پر رعایا کی اکثریت ظلمتوں کی طویل شب کو ناقابل برداشت سطح سے رد کرکے زنجیروں کو توڑنے کا عزم بھر لے تب طاقت کا استعمال آگ پر جلتی کا کام منٹوں میں کر گزرے گا اور یہی کھیل تربت کے بوڑھی ماں کے حیات بلوچ کے کمزور کندھوں کے ساتھ کھیلا گیا
تصویر کے اس ظاہری پہلو سے بات یہاں ختم نہیں ہوتی
رد عمل کا سراغ لگانے کے لئے ناگزیر ہے کہ عمل کے پس منظر اور پیش نظر محرکات کو سمجھ کر حل تلاشنے کا انداز اپنایا جائے۔
بلوچستان میں آگ اور بارود کی فصل بونے میں سراوان و جھالاوان کے ایمان فروش سرداران نے پوری ایڑی چوٹی کا زور لگایا
نوجوانوں کو عصبیت کا ٹیکہ لگا کر آگ و خون میں دھکیلتے گے کھوٹوں پر چڑھ کر اور چوکوں چوراہوں سے نفرت آمیز مصنوعی ولولہ ذہنوں میں انڈیلنے والے آج بھی وہی کام نئ پیکنگ کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔


گزشتہ کہی دہائیوں سے سوداگر طبقہ نت نئے نعروں سے کبھی محب وطن بن کر وزارتوں کے مزے لوٹنے کے ساتھ ساتھ حالات اور ضرورت کے مطابق نیم محب وطن کا روپ دھارنے اور بالآخر ناراض بلوچ کے عنوان سے کشت و خون کی ہولی کھیلتا رہا۔


نتیجتا نوجوانوں کی فکری بنیادوں کا سنورنا اور بکھرنا شام و سحر کے طلوع و غروب ہونے کی مانند
ڈھلتے اور ابھرتے رہے خشک لکڑی کی آڑ میں گیلے پتے بھی جلتے رہے المیہ یہاں تک آن پہنچا کہ قوم پرست آزادی پسند سوداگر بلیک میلنگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بغل میں دباے نیم محب وطن بننے میں عافیت جان کر شخصی نکھار اور ہشاش بشاش رہنما کے طور پر ابھر گے
اور لحد کی مٹی حیات بلوچ کے مقدر میں آئی کیوں ۔۔۔۔۔؟
کتنے حیات آرام جاہ مرقدوں تک جا پہنچے کتنے اور حیات نگلنے کا انتظار ہے ۔۔۔؟
لیکن آج بھی آزادی کا خوشنما نعرہ دینے والے مزمت کرنے کو سعادت سمجھتے ہے
اس پورے پس منظر میں جس کج فہمی نے ارباب اختیار یعنی ریاستی اسٹیک ہولڈرز کے تھوبڑے لال کر رکھے ہے وہ محض یہی سرداران وطن کے سوداگروں کی متفاوت چالیں ہے جو برسوں سے کرتب دکھاتے آرہی ہے
لگتا تو یہی ہے کہ ارباب اختیار الجھن سے سلجھن کا سفر کرنے پر عاجز ہوچکی ہے ورنہ جن لوگوں کے معاملے پر نرم گوشہ اختیار کر کے ان سے ملکی ترقی میں کردار ادا کرنے کی بھیگ مانگنے والے معاہدوں پر بار بار دستخط کرائے گئے وہی لوگ بھیڑ کی کھال میں نہ صرف ملک کے لے بھیڑے ثابت ہوے بلکہ یہاں کے سادہ لوح غیرت مند بلوچ نوجوانوں کے دروازوں پر دستک دے کر مخفی طرز پر آزادی اور ناراضگی کا منجھن بھی بھیچتے رہے
جن قوتوں کا قلع قمع کرنا چاہیے ان کو قلعہ فراہم کردی اور جو محبت کے محتاج ہے جو تعلیم سے آشنائ کے متقاضی ہے ان پر بندوق تھان لی ۔۔۔۔؟
واے نادانی کن کے لیے آج ایوانوں کے دروازے کھول دہے اور اطمینان کی چادر اوڑھ کر حکمت کے تقاضے پورے کرنے کی خوش فہمی سر پر سوار کرکے آستین کے سانپ پالنے لگ گے ۔۔۔۔۔۔؟ گویا
عشق خالق سے بھی ابلیس سے یارانہ بھی
یہ بتا کس سے عقیدت کی جزا مانگے گا
اور جہاں محبت ہونی چاہیے جہاں ڈاہیلاگ کی سیاست اور مزاکرات کی میز سجنی چاہے وہاں گولیاں سجانے سے کلیجے کی ٹھنڈک کا سامان بنا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو ۔۔
وللہ و اعلم ۔۔۔۔؟
حیات بلوچ کی سفاکانہ شہادت ملک کی اساس و فکر کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کے لے زہر قاتل ثابت ہوسکتا ہے سدباب کیا جائے
روکا جائے احمقانہ طرز حکومت
اور طرز عمل کو
تیز دھار سے نرم اشیاء نہیں سلجھاے جاتے
(خود کلامی)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!