ہمارا جرم کیا ہے؟

Spread the love

تحریر:اورنگ زیب نادر


ہم ایک ایسے ملک میں زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں ہم کو ملک کے باسی نہیں سمجھاجارہاہے۔ہم بلوچ قوم کو پاکستانی سمجھا نہیں جاتاہے اور اس ملک میں انسانی جان کی اہمیت ہی نہیں ہے
گزشتہ روز تربت سے تعلق رکھنے والے طالبعلم حیات بلوچ کو ایف سی اہلکار نے گولیاں مارکرشہیدکردیا۔


شہید حیات بلوچ کے بھائی مراد محمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے والد کھجور کے ٹھیکیدار ہیں اور حیات بلوچ کو چونکہ کرونا کی وجہ سے یونیورسٹی سے چھٹیاں تھیں اس لیے وہ اپنے والد کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔


’13 اگست 2020کو تقریباً ،دن ساڑھے 11 بجے کے قریب جس باغیچے میں حیات کام کر رہا تھا اس کے قریب سڑک پر سے فرنٹیئر کور کی گاڑی گزر رہی تھی جب اچانک دھماکہ ہوا۔’


انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد فرنٹیئر کور کے اہلکار باغیچے میں گھس آئے اور انھوں نے حیات بلوچ کے والد کے بقول ’حیات بلوچ کو تھپڑ مارے‘۔


وہ مزید بتاتے ہیں کہ ‘اس کے ہاتھ، پاؤں باندھے گئے اور روڈ پر لا کر آٹھ گولیاں ماری گئیں جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔’


مراد محمد کے مطابق والد نے بتایا کہ اس موقع پر انھوں نے فرنٹیئر کور کے اہلکار سے منتیں کیں کہ ان کے بیٹے کو چھوڑ دیں کہ ‘وہ صرف باغیچے میں کام کر رہا ہے مگر انھوں نے ایک نہ سنی اور انتہائی بے دردی کے ساتھ پہلے تشدد کیا گیا اور پھر گولیاں ماری گئیں۔’


شہید کے والدین نے کس مشکل سے اپنے بچے کو کراچی میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجا۔


والدین کے کیا ارمان ہونگے کہ بیٹا کل ہمارا نام روشن کردےگا اور بڑھاپے میں ہمارا سہارا بنےگا لیکن شہید کے والدین کے ارمان آنسوں میں بہہ گئے۔کیا بیتی ہوگی شہید کے گھر والوں پہ۔


شہید حیات بلوچ کی ایک تصویر جو سوشل میڈیامیں بہت وائرل ہوئ ہے جس میں شہید حیات بلوچ کو ایف سی اہلکار نے گولیاں مارکرشہید کردیا ہے’ والدین کی آنکھوں کے سامنے جوان بیٹے کو شہید کردیاگیا اس وقت ان ماں باپ پر کیا بیتی ہوگی ان کے درد کو کوئی اور محسوس نہیں کرسکتا۔


کیا جرم کیا تھا ‘کیا قصور کیاتھا…؟ بےگناہ جوان بیٹے کو شہید کردیا اور ایف سی کی جانب کہاجارہاہے یہ حادثاتی موت ہے۔ کیا حادثاتی طور پر ہاتھ پاؤں باندھ کر ماراجاتاہے۔افسوس صدا افسوس کہ اس میں قانون نام کی کوئی چیزہی نہیں ہے۔۔۔اگر یہ کسی ایم این اے یا ان حکمرانوں کا بیٹا ہوتاتو قانونحرکت میں آ جاتا لیکن یہ ایک غریب گھرانے اور بدقسمتی سے بلوچستان سے تعلق رکھتا ہے۔
آئے روز ہمارے بھائیوں کو اغوا اور لاپتہ کیا جارہاہے ۔اب تک کئی بہنوں کو بھائیوں سے محروم کردیاہے۔چند ماہ قبل تربت کے علاقے سری کہن میں شادی کے عین رات دولہاکو اغوا کرلیاگیا۔اس کے والد اپنے بچے کا غم دوسال تک سہتے سہتے اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔اس کا کیا قصور تھا اور اس نے کیا جرم تھا۔


آخر میں ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتےہیں کہ خدارا ان کے والدین کو انصاف دیاجائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!