بلوچستان کی فریاد

Spread the love

تحریر: عامر نذیر بلوچ
(یونٹ سیکرٹری بی ایس او لوامز یونٹ)

بلوچستان میں جاری گزشتہ کئی مہینوں سے قتل و غارتگری کا سلسلہ غریب بے بس و بزگ عوام پر بغیر کسی چوں چراں کے جاری ہے پہلے برمش کا واقعہ پھر ناز بی بی، قیصر مری کے گھر کی چادر و چار دیواری کی پامالی پھر بارکھان میں صحافی انور جان کا قتل اور ابھی نیا واقعہ تربت میں کراچی یونیورسٹی کے طالب علم حیات مرزا کی شہادت نے قوم کو جھنجوڑ دیا ہے۔ بلوچستان میں نسل کشی کا یہ سلسلہ نیا تو نہیں اسکی تاریخ بہت پہلے ہمارے بزرگوں سے برطانوی سامراج کے قتل و غارت سے شروع ہوتی ہے جنہوں نے اپنی وطن کی ننگ ناموس و حفاظت کے خاطر ہر روکاوٹ کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
بیش بہا قیمتی ہیرے جواہرات سونا چاندی کی معدنیات و ساحل وسائل سے مالامال خطہ جو دنیا میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتا ہے اور جنوبی ایشیا کے لئے گیٹ وے کی مانند ہے جنکے باسیوں کے ساتھ گزشتہ بیس سالوں سے ایک منصوبے کے تحت خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔
موجودہ سال گزشتہ سال سے زیادہ مختلف تو نہیں لیکن خونی ہتھکنڈے مارو اور راج کرو کا پالیسی کسی صورت تبدیل نہیں ہوا بلکہ مزید شدت نظر آرہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کو طول دینے کے خاطر اقوام متحدہ کی جانب سے سال کے ہر دن میں کسی کو یاد کرنے کا دن مقرر ہوتا ہے کبھی فادرز ڈے ، کبھی مادرز ڈے اور نا جانے کون کون سے دن ہیں لیکن ہمارے خطے کے رہنے والے مظلوم عوام دنیا کی خوشیوں سے محروم ہیں روزانہ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے ہیں عید کی مقدس تہوار کے دن بھی اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ کشمیر اور فلسطین پر واویلہ مچانے انسانی حقوق کے کارکن تھکتے نہیں ہیں کہ انسانی حقوق کی پامالیاں دنیا کے لئے خطرناک ہے لیکن بلوچستان میں جاری ظلم و ستم پر ان کا منافقانہ طرز عمل بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے اور دوہری امتیاز ظاہر کرتا ہے اور ساحل وسائل سے مالامال خطے کے باسی کیوں کیپیٹلسٹ اقوام متحدہ کے آنکھوں کے سامنے نہیں آیا اور نہ کوئی ایکشن لیا گیا انکی دوغلا پن دنیا میں نازی ازم کو بڑھاوا دینے کی ناکام کوشش ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ خواتین، مرد اور بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے انسانی جان اور عزت نفس کی کوئی حیثیت نہیں رہی لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں انسانی اقدار کی پاسداری گناہ کبیرہ بن چکا ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ بیس سالوں سے مسلسل کشت و خون کا بازار گرم کرنے کے بعد ایک پورا نسل تباہ ہوا کیا نتائج برآمد ہوئے وہ سب ہمارے سامنے ہے ہزاروں جانوں کا نقصان اور جنگ نے ہمیں عہد حاضر میں بہت پیچھے دھکیل دیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلسل ظلم و جبر بمب و بارود کے سائے تلے ہم ایک قوم کیوں نہیں بنیں آپسی اختلافات باہمی رنجشوں اور وہ خیالات جن کی وجہ سے دشمنوں کو ہماری صفوں کو نیست و نابود کرنے کا موقعہ ملا اور وہ قوم جو مہر و محبت کی وجہ سے اپنی الگ پہچان رکھتا تھا آج سرسری ذاتی یا سیاسی اختلافات کی بھینٹ چڑھ گیا اور ذاتی دشمن بن گئے۔
آج اکیسویں صدی کے جدید دور میں جب دنیا مختلف بلاکس میں تقسیم ہورہا ہے اور سرد جنگ کا آغاز ہوا ہے جن میں ہزاروں بلوچوں کی قیمتی جانوں کے نقصان کے بعد ہم ایسے موڑ پر کھڑے ہیں کہ ان سخت حالات میں ہمارے پاس کامیابی کا راستہ صرف اور صرف اتحاد اور اتفاق کے بدولت ہی ممکن ہے تو کیوں نہ ہم یکجہتی کا مظاہرہ کرکے یک مشت ہوکر مکالمہ کی فضا بنائیں اور جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آپسی اتحاد کا ایک مضبوط و منظم پلیٹ فارم بنائیں جو علمی سائنسی اور مظبوط موقف کے ساتھ موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مؤثر لائحہ عمل تیار کریں جو صرف سنگل ایجنڈا بلوچ اور بلوچستان کے حقوق اور بلوچستان میں جاری کشت و خون کے سلسلے کو آپسی اتحاد کے ذریعے اس کا خاتمہ ممکن بنا سکیں۔
ابھی تربت میں حیات مرزا کو شہید کیا گیا ہے تو کل میرا بھی نمبر آسکتا ہے پھر آپ کا بھی سامراج کی اس آگ میں کوئی محفوظ نہیں رہے گا پھر اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہے گا ضروری تو نہیں کہ ہمارے ہاں کوئی المیہ ہو تو ہم یکجان ہوں محض شدید جذبات کی بناء پر اپنی جدوجھد جاری رکھیں بلکہ جذبات تو ہمارے حوصلے بلند کرنے کے لئے ہوں نہ کہ صفحہ ہستی سے اپنا نام و نشان مٹائیں جذبات کا استعمال بھی دور کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر کریں اگر ابھی نہیں اٹھیں اتحاد اور اتفاق کا نعرہ اور مکالمے کی فضا پیدا نہیں کی گئی پھر کل حیات کی صورت میں کوئی اور مارا جائے گا تو پھر ہمارے آنے والی نسلیں بھی ہمیں برے ناموں سے یاد کرے گی اور ظلم و جبر کا قانون یوں چلتا رہے گا۔
بش متورے
مش مریرے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!