سمندر میں سوکھا جسم

Spread the love

تحریر:اویس دانش

کچھ نفس کے مارے کوے کی نسل کے لوگ خود کو کبوتر سمجھتے ہیں اور جہاں اپنی خوراک دیکھتے ہیں تو غڑونبوکو لگا کے لوگوں کو اپنے چالاکی​ اور شیطانی چال سے ورغلاتے ہیں اور کہیں غلیظ و نا پاک جوڑا بنا لیتے ہیں اور باز معصوموں کی زندگیوں سے چین اُڑا لیتے ہیں جب وہ کوے کے مردار نسل کی پلید شخص پاک دامن بچیوں کو ہراس کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر کوئی ایسی بات کہتے​ ہیں جس کیلئے اس کے ماں باپ بھائی خاندان اور ہر نیک دفاع کے لئے مکمل تیار ہوتے ہیں لیکن لڑکی یہ سب جانتے ہوئے بھی نہیں بتاتی کسی کو تاکہ اس کے گھر میں بوڑھی ماں پریشان نا ہو اور خود بھی ان درندوں سے نہیں لپٹ سکتی بس وہ اتنا کر سکتی ہیکہ اس بے حیاء انسان کو بلاک کر دے یا جہاں اس کیلئے دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اُس جگہ کو چھوڑ کر اُس کم ذات انسان کے ہڈے کو کامیاب بناتی ہے۔ ایسے کرنے سے اس جیسے اور گھٹیا لوگ جنم دیے جا رہے اور معاشرہ خراب ہوتا جا رہا ہے۔


جیسے کہ موجودہ دور میں ایک بہن نے ہمت دکھائی ایک پروفیسر کے خلاف ریپورٹ لکھوائی میری بہنوں سے عرض ہیکہ ایسی کوئی بات بھی ہوتی ہے آپ لوگ اس کے خلاف آواز اٹھائیں اپنا معاشرہ اور ایسے کم ظرف لوگوں کو بے نقاب کریں تاکہ کوئی اور آگے اس طرح کرنے کا سوچے بھی نہ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!