اخلاقی اقدار کا جنازہ!

Spread the love

تحریر:منان صمد بلوچ

اِس سُخن میں کوئی دو رائے نہیں کہ اخلاقی انحطاط تمام تر بحرانوں کی ماں ہے- جب معاشرہ اخلاقی پستی کی شکنجے میں جکڑ جاتا ہے تو "زوال” اُسکی مقدر بن جاتی ہے جس کے نتیجے میں پیار و محبت، عدل و انصاف، بھائی چارگی، ہم آہنگی، ہمدردی، یگانگت، مساوات اور اتحادواتفاق کی فضا جھٹ سے ختم ہو جاتی ہے-
المیہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ دن بدن اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ آج کا معاشرہ جھوٹ، نفرت، عناد، گالم گلوج، دھوکہ دہی، ظلم و ناانصافی، بدعنوانی، بددیانتی، بےحسی، تعصب، تنگ نظری، رجعت پسندی، عدم رواداری، مزہبی جنونیت اور فرقہ ورانہ تقسیم کی آگ میں سلگ رہا ہے- ذاتی غور و فکر سے معاشرے کا بھیانک چہرہ کھینچنے کی ہرممکن کوشش کی ہے-
رمضان اور عید جیسی مذہبی تہواروں کے موقع پر اخلاقی اقدار سے عاری ناجائز منافع خور اور ذخیرہ اندوز متحرک ہوجاتے ہیں جس سے ہر شے کی قیمتیں آسمانوں کو چھونے لگتے ہیں جبکہ مہذب معاشروں میں خصوصی دنوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں اور اللہ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے جب کہ وطن عزیز میں اُلٹی گنگا بہتی ہے-
خالص دودھ کا دعویٰ کرنے والا گوالا جب ملاوٹ آمیز دودھ بیچے، وبا پھیلتے ہی جب دکاندار سستے ماسک اور سینیٹائزر کو مہنگے کردے، پولیس جب غریب عوام سے رشوت لے، قوم کا معمار استاد جب گھر بیٹھ کر تنخواہ حاصل کرلے، زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہونے والا غریب مریض کو خاطر میں نہ لاکر جب ڈاکٹر دولت کا انبار لگانے کیلئے اپنی نجی کلینک میں بیٹھ جائے، انجینیئر کی بنائی گئی خستہ اور بوسیدہ عمارتیں جب کسی بھی وقت بڑے سانحے کا سبب بن جائیں، آفیسر جب کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہوجائے، جعلی ڈگری بنوانے والا پائیلٹ جب معصوم انسانی جانوں کی ضیاں کا سبب بنے، چند پیسوں کی عوض جب وکیل سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرے، سیاسی دکان چمکانے کی خاطر جب سیاستدان بڑے اعتماد سے جھوٹ پہ جھوٹ بولے، مزہب کے نام پر مولوی جب نفرتوں کا پرچار کرے، مجھ جیسا خاکسار جب قلم بیج کر دوسروں کی چاپلوسی کرے، جعلی دوائیاں بیج کر اربوں روپے کمانے والے میڈیکل اسٹورز جب قتل گاہیں بنیں تو سمجھ لینا کہ انسانیت آخری سانسیں لے رہی ہے-
پاکستان میں اوسطاً روزانہ تقریباً سات بچے جنسی ہراسگی کا نشانہ بنتے ہیں- اسلامی معاشرے میں کم عمر بچے و بچیاں جب جنسی استحصال کا نشانہ بنیں، جب آئے روز گینگ ریپ کیسز اخباروں کی شے سرخی بنیں، جب ہوس کے پجاری پاک مردوں کو قبروں سے نکال لیں، جب بلی کے بچے کو بھی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالیں تو معاشرہ تباہی اور بربادی کے دہلیز پر کھڑا ہی ہوجاتا ہے اور اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل ہی جاتا ہے-
اخلاقی زوال کا سب سے بڑا سبب اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ ہونا ہے- ہمیں زیادہ سے زیادہ سیرتِ رسول ﷺ کا مطالعہ کرنا چاہیے اور سیرت کے مختلف پہلوئوں کو اپنے زیست میں اپنانا چاہیے تاکہ انسانی زندگیاں اخلاق و کردار کی روشن کرنوں سے منور ہوں اور معاشرہ اخلاقی عروج کی طرف گامزن ہو-
معاشرہ بحیثیت مجموعی اخلاقی زوال پزیری کی لپیٹ میں ہے لیکن اس اخلاقی بگاڑ کا حل انفرادی اصلاح میں مخفی ہے- ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انفرادی اصلاح پر زور دیں- ہر شخص اپنے ضمیر میں جھانک کر سوچے کہ وہ کہاں کھڑا ہے- خدارا ہر کوئی اپنا طرزِ عمل اور رویے درست کرے اور احسن طریقے سے اپنے اپنے فرائض انجام دے-

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!