ماضی اور آج کا سماج

Spread the love

تحریر :لالا رحمت بلوچ


سماج ، انسان اس وقت تک مکمل انسان کہلاہی نہیں سکتاجب تک اسے اپنی بقاکے لیے تمام تر” معیاری” اور” مناسب ماحول”حاصل نہیں ہوتا
انسانوں کا مجموعہ سماج کہلاتا ہے
ماضی،
سہولیات کی کمی ، طلب اور رسد میں بڑا فرق ،مخلتف بیماریوں کا تشخیص کا نا ہونا، مواصلات و تعلیم کا کمزور نظام ،نسلی مزہبی تعصب پاک معاشرہ ،قول وفعل میں کوئی تضاد نہیں، اچھے اعمال اور بہترین اخلاق بہترین کردار کے مالک ،صادق اور امانتدار، احساس کے جزبوں سے سرشار ، بزرگوں کا احترام اور مساقین کا خیال رکھنا ، یتیموں کا خیال رکھنا ،پورے گاوں میں ایک فوتگی ہونے پر پورا گاوں اُن کے غم میں شریک ہوتا اور ہر قسم کی مدد کے لئے ہر وخت تیار رہتے۔
راتوں کو شمع روشن کرکے صبح صادق تک پیار اور امن کے مجلس ہوا کرتے ہر طرف امن بھائی چارا اور ایک دوسرے کی مدد جارہی رہتی۔
ال غرض تمام خوبیوں کے مالک تھے،
آج کا سماج ،
معاشرہ تمام سہولتوں سے آراستہ ،تعلیمی میدان میں ترقی ،
مواصلات کا نظام بھی قدرے بہتر ،
بڑھتی ہوئی آبادی کے باوجود صحت میں بہتری ،آپس میں رابطوں کا فقدان،کام چوری اور غیر زمہ داری کا مظاہرہ ،صبر تحمل کا نہ ہونا عدم برداشت کا بڑھتا ہوا رجھان ،چھوٹے بڑے کے تمیز سے بے پرواہ معاشرہ ،حسد اور تکبر کا زور ،دوسرے کے حقوق سے لاعلمی ،
آنے والے دونوں کے ساتھ نیا امتحان ،
ہر گزرنے والے وقت کی تکالیف نہ بیان کرنے والا ہوتا ہے ،
پیسے کا غلام آج کا معاشرہ جو کسی بھی طرح دنیا کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے ہر طرف خون کی ہولی جاری ہے احساس ،جذبات،کی کوئی قدر نہیں ہر طرف مطلب ،دھوکہ ،فریب کی ہوا چل رہی ہے ہر طرف درد ،خون ،کفن کا سودا جارہی ہے ہر رنگ میں لال رنگ نظر آتا ہے۔
کوئی چیز ماضی کی طرح نہیں رہے
میرے نزدیک ماضی اور آج کاموازنہ کیا جائے میں ماضی کو بہتر سمجھونگا،آپ لوگ اپنی آراءسے ضرور نوازیں _

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!