مقتول صحافی انور جان کھیتران اور بلوچستان کے ساتھ میڈیا کا سلوک

Spread the love

تحریر:گورگین بلوچ


پچھلے دنوں پاکستان کے ایک معروف صحافی مطیع اللہ جان کو جب اغوا کیا گیا تو مین اسٹریم میڈیا سمیت پوری دنیا میں اس اغوا نما گرفتاری کے خلاف آواز اٹھائی گئی، مجبوراً اغوا کاروں کو اسی رات مطیع اللہ جان کو چھوڑنا پڑا۔
اگلے دن بلوچستان کے پسماندہ علاقہ بارکھان جو پنجاب اور بلوچستان کے بارڈر میں واقع ہے، مقامی صحافی انور جان کھیتران کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ صحافی کے بھائی نے بارکھان تھانہ میں موجودہ بلوچستان کے صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کے دو باڈی گارڈز کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروایا۔
اس قتل کے خلاف پورا بلوچستان سراپا احتجاج رہا۔ بلوچستان کے عوام نے طویل خاموشی اس وقت توڑی جب پچھلے مہینے تربت کے علاقے ڈنک میں ملک ناز نامی عورت ڈاکوؤں سے مزاحمت کرتے ہوئے شہید ہوئی اور اس کی ننھی بچی برمش شدید زخمی ہوئی۔ بلوچستان کے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور بلوچستان بھر میں اس واقعے کے خلاف تحریک چلی۔ شہید فدا چوک تربت میں مدتوں بعد عوام کے جمِ غفیر نے استحصالی قوتوں کے سامنے جھکنے کے بجائے مزاحمت کی راہ اختیار کی، قاتلوں اور ان کے سرغنہ کی گرفتاری کے خلاف فدا چوک نعروں سے گونج اٹھا، استعماری قوتوں نے عوام کی طاقت کے سامنے مجبور ہو کر اپنے پالے ہوئے ڈاکوؤں کو گرفتار کروایا۔
بلوچستان میں اس سے پہلے بھی ایسے واقعات رونما ہوتے رہے مگر کسی نے آواز اٹھانے کی جسارت نہیں کی تھی، سوائے سوشل میڈیا میں کچھ سنجیدہ نوجوانوں نے ہر جگہ سوال اٹھانے کی کوشش کی۔ ویسے بلوچستان کو پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا نے شروع سے نظرانداز کیا، یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ جب دو دن پہلے خاران سے تعلق رکھنے نوجوان منظور عیسیٰ زئی پیاز فروخت کرنے کی غرض پنجاب گیا ہوا تھا، وہاں اس پہ تشدد کر کے اس کی مسخ شدہ لاش پھینک دی گئی۔ اس وقت بھی مین اسٹریم میڈیا کو پنجاب کے بغیر ماسک والے بھیڑ بکریوں کی کوریج یاد آئی مگر اس نوجوان کو بھی بلوچستان کی طرح نظرانداز کیا گیا۔
صحافی مطیع اللہ جان چوں کہ خود پاکستان کے مرکزی میڈیا سے منسلک رہے ہیں اس لیے صحافی ہونے کے ناطے اور اسلام باد سے تعلق رکھنے کی وجہ سے پورا دن رات پاکستان کے اس صحافی کی اغوا نما گرفتاری کو کوریج دیتے رہے، رہائی تک صحافی اس کے ساتھ رہے۔ بلوچستان میں مجھے صحافی ارشاد مستوئی سمیت خضدار، تربت،گوادر، حب کے وہ صحافی بھی یاد آئے جن کو گولیوں سے چھلنی کر کے ان کی لاشیں پھینکی گئیں، مجال ہے جو مین اسٹریم میڈیا نے ان صحافیوں کے حوالے سے کوئی کوریج کی ہو۔ گزشتہ دنوں ایک دوست کہہ رہا تھا ایسے لگتا ہے ہم پاکستان کی کسی نامعلوم کالونی میں رہ رہے ہیں۔ مین اسٹریم میڈیا کا رویہ دیکھ کر لگتا ہے اس کا شکوہ برحق ہے۔
صحافی انور جان کھیتران کے قتل کے خلاف سب سے بڑا احتجاجی جلسہ اس کے علاقے بارکھان میں کیا گیا جہاں سیکڑوں لوگوں نے شرکت کی اور صحافی کے قتل کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کی قیادت نیشنل پارٹی کے مرکزی لیڈر کریم کھیتران کر رہے تھے۔ احتجاجی جلسے میں جمعیت علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی سمیت سول سوسائٹی کے رہنما شامل تھے۔
صحافی کے قتل کیس میں شامل سردار عبدالرحمن کھیتران نے اپنے پرسنل نمبر سے کسی وٹساپ گروپ میں ایک میسج سینڈ کیا ہوا تھا جہاں مقتول صحافی کو آئی ایس آئی کے تشکیل کردہ گروہ ڈیتھ اسکواڈ کا کارندہ ظاہر کیا ہوا تھا اور مزید وہاں لکھا تھا موصوف صحافی بلوچ نوجوانوں کے قتل اور اغوا میں شریک ہے، لیکن اس نیوز میں کسی مسلح تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا تھا، مقتول کوئی صحافی نہیں تھا بلکہ ایک بلیک میلر تھا، لوگوں کو بلیک میل کرتا تھا۔ اگر واقعی میں مقتول صحافی ایک بلیک میلر تھا تو ہزاروں کی تعدار میں لوگوں نے اس کے جنازے میں کیوں شرکت کی؟ کیوں وہ ہزاروں لوگ موصوف صحافی کے لیے آبدیدہ تھے اور آنسو بہا رہے تھے ۔
بارکھان سے تعلق رکھنے والے ہم ٹی وی کے صحافی نے یہ تصدیق کی ہے کہ مقتول صحافی راولپنڈی سے شائع ہونے والے ایک اخبار کے نمائندہ تھے۔
نوجوانوں کا غم و غصّہ آج بھی اسی طرح برقرار ہے۔ نوجوان طبقہ پاکستان کے تمام صحافتی حلقوں پر تنقید کرتا آ رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ بلوچستان حکومت میں بیٹھے ہوئے صوبائی وزیر کا فوری طور قلمدان واپس لیا جائے اور اسے گرفتار کیا جائے۔
گزشتہ دنوں پاکستان کے معروف صحافی و اینکر پرسن حامد میر، سلیم صافی نے سوشل میڈیا پر مقتول صحافی کے قتل کی بھرپور مذمت کی تھی اور حکومت سے اپیل کی تھی کہ قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ مگر معروف صحافیوں نے اب تک مین اسٹریم میڈیا میں اپنے ایک بھی پروگرام میں مقتول صحافی کے لیے کوئی بھی ایک پروگرام نہیں کیا۔ یہ بلوچستان کے ساتھ ان کے رویے کا عکاس ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!