بلوچستان کی چیخ و پکار

Spread the love

تحریر :کامریڈ ابرار برکت

بلوچستان میں گزشتہ کئ عرصے سے شہریوں کو قتل کیا جارہا ہے انسانیات سوز واقعات بلوچستان کے کٹھ پُتلی حکومت شہریوں کو تحفظ دینے کے بجائے ان کے قتل و غارتگری میں برابر کے شریک ہے ۔


کبھی کسی بچے کی ماں کو شہید کیا جاتا ہے تو کبھی کسی ماں کے لخت جگر بچے کو شہید کیا جاتا ہے۔


صحافی ہو یا سیاستدان ،مزدور ہو یا کسان ،ٹیچر ہو یا طالب علم کسی کی جان و مال تحفظ نہیں کچھ واقعات کو آپ کے سامنے لانے کی کوشش کروں گا۔


”کچھ ہفتہ پہلے پوری بلوچستان سے ایک آواز اٹھی ایک تحریک بن گئی برمش کو انصاف دو”
بلوچستان کے ضلع کیچ تربت شہر کے علاقے ڈنک میں ڈکیتی کی واردات میں ایک بلوچ خاتون ملک ناز کو گولیاں مار کے قتل کیا گیا اور انکی کمسن بچی برمش بلوچ کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا گیا. ڈکیتوں میں ملوث ایک ڈاکو کو موقع واردات پر اہل خانہ اور اہل علاقہ نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا جس کے بعد پولیس نے مزید کاروائی کرتے ہوئے واردات میں ملوث دو اور ڈکیتوں کو بھی پکڑ لیا۔ ڈکیتوں کی شناخت ہو جانے سے یہ راز افشاں ہوا کہ ان دہشتگرد عناصر کو بلوچستان کی موجودہ حکومتی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کی پشت پناہی حاصل ہے۔


اس واقعے کے بعد رونما ہونے والے واقعہ ہرنائی کے علاقے نشپا میں ناز بی بی اور ان کے دو بچوں کو قتل کردیا گیا۔
ایک اور واقعہ کی زکر کرتا چلوں یہ وقعہ بلوچستان کے علاقے پنجگور کی دلخراش واقعہ ہے ایک کمسن بچہ فقیر محمد کو اغواء کیا گیا اور اس کو بے دردی سے قتل کرنے کے بعد اسکی لاش کو کسی لیٹرین میں جلایا گیا پنجگور میں ایک اور ماں سے اس کا لخت جگر کو ظالموں نے بے دردی قتل کرکے لاش کو مسخ کردیا۔
اس واقعے کے بعد خاران میں ایک واقعہ رونما ہوئی پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت,غیر قانونی اور غیرانسانی تشدد کی وجہ سے ایک ماں اپنے نوجوان بیٹے سے ہاتھ دو بیھٹا احسان اللہ کو پولیس لاک اپ کے اندر تشدد کرکے قتل کر دیتا ہے اور پھر اسے خودکشی ڈکلیئر کرتا ہے۔
ایک واقعہ ضلع خضدار کے تحصیل وڈھ میں رونما ہوئی ۔
وڈھ میں ایک ہندو تاجر نانک رام پر حملہ ہوا اور ہندوتاجر تاجر نانک رام کو قتل کر دیا گیا ۔
بلوچستان کے ضلع بارکھان جہاں زمینی خداؤں کا اپنا ریاست قائم ہے بارکھان میں دن دھاڑے ایک سوشل ایکٹوسٹ اور صحافی انور جان کھتران کو شہید کردیا گیا اس قتل کے ایف آئی آر صوبائی وزیر سردار عبد الرحمان کھتران اور باڈی گارڈز کے خلاف درج کی گئی بقول اہل علاقہ انہوں نے بار بار صحافی انور جان کو سچ لکھنے سے روکنے کی ناکام کوشش کی تھی۔
اسی طرح خاران کے رہائشی منظور بلوچ عیسی زئی کو پنجاب کے شہر گوجرنوالہ میں شہید کر کے مسخ شدہ لاش پھینک دیا گیا ہے منظور بلوچ گوجرنوالہ میں پیاز منڈی میں اپنی پیاز بھیجنے کے سلسلے میں گیا ہوا تھا منظور بلوچ کو چند لوگوں نے بازار سے اٹھا کر کسی مکان میں تشدد کر نے کےبعد قتل کیا اور لاش کے کئی حصوں کو کاٹ کرکے لاش کی بےحرمتی کر نے کے بعد پھینک دیا گیا ۔
اسی طرح اور بہت سارے واقعات بلوچستان میں روز رونما ہوئی ہے۔
یہ سارے واقعات اور قتل وہ لوگ کر رہے ہیں جن کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے ۔
اور ان کو کارڈ ہولڈرز کا نام دیا جائے تو یقیناً غلط نہیں ہوگا۔
آج کسی بھی شہری کے جان و مال محفوظ نہیں ہے روزانہ کی بنیاد پر بلوچستان میں عام شہریوں کو قتل کیا جاتا ہے ۔
جن میں اکثر بچے اور خواتین شامل ہیں بلوچستان کے تمام تر عوام کو یکجا ہو کر کارڈ ہولڈرز کے کارڈز واپس کرنے کیلئے آواز اٹھانا چاہیے۔
کل کے دن ہم میں سے کسی کے گھر میں اس طرح کا واقعہ پیش آئے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!