واشک کی فریاد

Spread the love


تحریر کامریڈ ابرار برکت


واشک کو 2005 میں ضلع کی درجہ ملی
‏ضلع واشک رقبہ کے لحاظ سے بلوچستان کے دوسرا بڑا ڈسٹرکٹ ہے جو کہ تعلیم سے محروم ہے 176000 کے آبادی ہے۔ضلع کے درجہ ملنے کی بعد یہاں کے لوگوں میں ایک نئے ولولہ اور خوشحالی خوآب دیکھنے کو ملے ۔
ضلع ہونے کی بعد یہاں کے لوگوں کے حالات زندگی بہتر ہو گا اور تمام تر زندگی کے ضروریات تعلیم صحت روزگار سے مستفید ہونگے۔ اس ضلع میں ترقیاتی کاموں کے جال بچھایا جائے گا ۔
بڑے بڑے تعلیمی ادارے بنائیں جائیں گے ۔ صحت کے حوالے سے ہسپتال بنایا جائے گا ۔ خیر وقت چلتا گیا لوگ خواب دیکھتے گئے ۔
اس ضلع کے بے بخت لوگوں کو پتا نہیں تھا یہ خواب صرف خواب رہے گے۔
آج سے 15 سال بعد بھی لوگوں کے حالات زندگی ایسی ہے جیسا رئے گا ۔
اس علاقے سے ہر ہمشہ منتخب نمایندے غیر سیاسی انداز میں یہاں روایات قائم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے ۔
اس علاقے کو ضلع عوام کے فلاح و بہبود کیلئے نہیں بلکہ اپنے سیاسی حلقے کا جہداگانہ حثیت قائم کرنے اور اپنے سیاسی فوائد کیلئے بنایا گیا ۔
البتہ شہنشاہیت کے رحم و کرم آج بھی اس پورے ضلع کسی قسم کے اچھی سے کالج نہیں پورے ضلع میں صرف ایک انٹر کالج ہے وہ بھی بیلڈنگ سے محروم ہے۔
باقی کسی قسم کے اچھی سے تعلیمی ادارہ اس ضلع میں موجود نہیں ۔
اس خوش قسمت علاقے سے منتخب نمائندے ہر ہمیشہ وزارتوں مزہ لیکر اپنے دستہ روایتی اور قبائلی معتبرین کے سنگتی میں مضبوط رکھنے میں کامیاب و کامران ہوئے ۔ خیر زراہ توجہ کو اس روایتی دوڈ کے طرف معتبرین کا مرکوز کرنا چاہتا ہوں ۔
ایرانی تیل براستہ پنجگور سے بسیمہ اور سے بلوچستان کے مختلف علاقوں تک رسائی کی جاتی ہے ۔ ان چیک پوسٹوں سے ان کے مرضی کے تعانیات انتظامیہ کے سربراہان کے آشیرباد حاصل ہے۔
یہاں کے معتبرین کیلئے چیک پوسٹس سے ماہنامہ رقم مختص کیے گئے ایک شرط کی بنیاد پر جی رقم کے بدلے میں اپنے قبیلے کے ووٹ لیکر دیں گے۔
اور ہیڈکوارٹر واشک میں معتبرین کو شیخ کے طرف آٹا راشن میں خوش کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب اس ضلع کے بیشتر تعلیم یافتہ آفیسر ز کے تعلق تحصیل بسیمہ سے ہیں ۔ ان تمام آفیسران کو انتقام طرزِ کاروائی سے ڈرا کر اپنے پنجرے میں بند کیا گیا ہے۔ اگر ووٹ نہیں کریں گے تو ملازمین کو ٹرانسفر اور اعلیٰ عہدوں کے چارج واپس کیا جائے گا جس وجہ سے بزدل آفیسران اور ملازمین کچھ نہیں کر سکتے ۔
2018 کے الیکشنز میں اس علاقے کے عوام نے انقلابی تحریک کا شروعات کیے جس کا اندازہ روز اول سے تھا کہ یہ انقلاب شروعات سے رد انقلاب ہے۔ 25 جولائی کو ضلع بھر میں انتخابات ہوئے تبدیلی لانے والوں کے جیت اور دھول پہ رقص ہونے کی بعد صبح ٹپہ پہ ٹپہ کے صورت میں نتیجہ کو تبدیل کیا گیا ۔
آرو کے دفتر کے گہراو اور کچھ ملازمین ایمانداری اور بہادری نے آر او کے سامنے حقیقی بیانات دینے سے یہاں کے چہروں میں تبدیلی یقینی بنایا گیا لکین ایک بار پھر شہنشاہوں نے الیکشن کمیشن سے نتائج کو روکنے میں کامیاب ہوکر 2 پولینگ اسٹیشنوں پہ دوبارا الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا گیا خیر ان دو پولینگ اسٹیشنوں پہ الیکشن ہوا تو تبدیلی کے خواہاں گروہ کو کامیابی حاصل ہوئی۔
اب ایک بار پھر یہاں کے عوام خوش و خرم ہوئے ۔ جیتنے والے نماہندہ حلف لینے کی بعد باقاعدہ اپنے ضلع کے لیئے آواز اٹھانا شروع کیا ۔ حلف لینے کے بعد بسیمہ تشریف لے گیا تو سب سے پہلے چیک پوسٹوں کے طرف رخ کیا اور اعلان ہوا میرے علاقے میں کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہوگا کہ وہ غریبوں سے پیسے وصول کریں ویڈیوز وائرل ہوئے ۔
کچھ دن بعد واپس یہ چیک پوسٹ کلچر شروع ہوا اس سے یہ ثابت ہوا جی سابقہ نمائندگان کے طرح ان کو بھی چیک پوسٹس سے اپنے حصے وصول کرنا ہے ۔
سابقہ کا طریقہ کار کو اپنانے کا پہلا ایپسوڈ تھا۔
بلوچستان اسمبلی کے اندر اپنے قابیلت کے مطابق علاقے کے مسائل کو اجاگر کرنے میں لگے رہے ۔
جناب نے سی پیک روڈ کو اس وقت تک بند رکھنے کا اعلان کیا تب تک سابقہ نمایندگان کے انٹرفیئرنس ختم نہیں کیا جاتا ۔
ہمیں ایسے محسوس ہوا حکومت کے طرف سے کوئی تشریف لاکر ان سے مذاکرات کیلئے تشریف لائیں گے یا بیوروکریسی ضلعی انتظامیہ سے کوئی تشریف لائے گے ۔ ۔خیر جناب کو خوش کرنے کیلئے کسی ایسے گروہ سے مذاکرات کیلئے آئیں جنہوں نے انتخابات میں سابقہ نمایندوں کیلئے ٹپہ لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور جن کے خلاف موجودہ ایم پی اے کے مرکزی قائدین نے آزادی مارچ کیے لیکن ایم پی اے صاحب نے واحد انصاف کے دروازے ان کے دروازے کو سمجھے جس کو بار بار دستک دیے یہ ان کے غیر سیاسی ہونے کھلا ثبوت ہے ۔ 2019 اور 2020 میں کروڑوں روپے 16 سے 17 کروڑ کے بجٹ کو خرچ کرنے کے پالسی کو دیکھنے کا موقع ملا امید تھا اگر ایم پی اے صاحب سیاسی حوالے سے ادراک اور تجربات نہیں رکھتے ان کو ایم پی اے بنانے میں اتحادی تجربہ کار سیاسی ورکرز سے کیا فائد اٹھا پائیں گے جن میں پیپلز پارٹی این پی اور بی این پی سہرفرست ہے ۔
خیر ان پارٹیوں سے پوچھنے کا اہم پی اے صاحب کو ضرورت محسوس نہیں ہوئی انہوں نے ایک بار سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے سابقہ نمائندگان کا طریقہ کار اپنا تمام تر بجٹ واٹر بورز پر خر خرچہ کیا کیونکہ اس میں ٹھیکداری کا آسان موقع ملتا ہے ۔
پہلے سے علاقے کے واٹر گرونوڈ لیول بہت نیچھے چلی گی مزید پانی جیسے ضرورت کو محفوظ کے بجائے اس مزید نیچھے لے جانے کیلئے کارنامہ دکھایا جو سراسر ان کے غلط پالسی تھی ۔
ضروریات کچھ یوں تھے علاقے میں ڈیم کے اشد ضرورت تھی تاکہ اسے علاقے کے پانی محفوظ ہو ۔ ہسپتالوں میں کسی مرض کو ڈاگونس کرنے کے سہولیات نہیں تھی ان کے زمہ داری بنتی تھی ان سہولیات کو میسر کیا جائے ۔
تعلیمی اداروں میں لیب کلاس رومز اور دیگر ضروریات کو پورا کرنا تھا اس میں پورے طرح ناکام ہوا ۔
ان تمام تر خیالات کو قلم بند کرنے کی مقصد واضح اور درست یہ سیاست کیلئے کسی سیاست سے منسلک شعور یافتہ لیڈر کے ضرورت ہے جو اس ضلع میں شعوری علمی اور سیاسی بنیادوں میں تبدیلی لاسکے اور سیاست کو سائنس سمجھ کر جدوجہد کریں۔
۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!