ذہن سازی اور فرسودہ روایات

Spread the love

تحریر: ایمل خان

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کے احساسات میں بھی اضافہ ہوتی رہتی ہیں اور یہ احساسات مختلف لوگوں میں مختلف طریقے سے اور مختلف عمر میں رائج ہوتے ہیں۔ انسان کی سوچ اس معاشرے میں موجود لوگوں کے ساتھ ملتی جلتی ہے کیونکہ اس کا انحصار ماحول پر بھی ہے۔ جس معاشرے میں تعلیم عروج پر ہے ایسے معاشرے کی سوچ اور تعمیری کام بھی اتنا ہی آگے ہیں اور جس معاشرے میں فرسودہ روایات جنم لیتے ہیں وہ معاشرے زوال پزیر ہو کر مٹ جاتے ہیں۔ تعلیم انسان کے لئے کیوں ضروری ہے اس لئے ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی میں ہر معاملے کو دیکھنے اور اس سے نمٹنے کے لیے عقل کی بنیاد پر سوچے اور اس کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ تعلیم انسان کے لئے اس لئے ضروری ہے کہ وہ ان روایات سے چھٹکارہ پاسکے جو ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ تعلیم انسان کے لئے اس لئے ضروری ہے کہ انسان شعور کی اس سطح پر پہنچ جائیں کہ وہ نسلی تعصب اور قومیت کو چھوڑ کر رحم دلی کو اپنا کر انسانیت کی بنیاد پر سوچے۔ فرسودہ روایات معاشرے میں جس تیزی سے پھیلتی ہیں اور ان پڑھ لوگوں کو ان روایات پر جس قدر یقین ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ عقل کی بنیاد پر ثابت شدہ ہیں اس کی اصل وجہ ان روایات سے لا علمی ہے۔ ہر چیز سے بخوبی واقف ہونے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ انسان کے پاس جہاں بھر کے تفکرات اور علم ہو کم ازکم انسان میں ایک تخلیقی ذہن اور تخلیقی سوچ ہونا چاہئیے تاکہ ہر چیز کے لئے عقل کی بنیاد پر سوچ سکے کہ آیا یہ چیز ثابت شدہ ہیں یا سنی سنائی باتوں سے اس کو پروان چڑھایا گیا ہے۔ تخلیقی ذہن اور تخلیقی سوچ کے لئے غور و فکر کرنا ضروری ہے اور غور وفکر کے پیمانے کو پروان چڑھانے کے لئے مشاہدہ ضروری ہے مشاہدہ کرنے والے فرسودہ روایات کو تسلیم نہیں کرسکتے وہ صرف اس دلائل اور منطق کو مانتے ہیں جو ثابت شدہ ہو اس لئے ایسے لوگوں کی ذہن سازی فرسودہ روایات کی بنا پر نہیں کی جاسکتی کیونکہ وہ سوال کرےگا اور سوال ہی وہ ہتھیار ہے جو انسان کی تعمیری سوچ کا مرکز ہے اور سوال کرنے والے لوگ کبھی پیچھے نہیں رہ جاتے ایسے لوگوں کو ان کا روشن دماغ اور بہترین سوچ آگے لے جاتے ہیں۔ سوال اٹھانے کے لئے علم و آگہی کی ضرورت ہے اور علم و آگہی انسان کے اپنے مشاہدات اور مطالعہ سے ہی حاصل ہوتی ہے لہذا اگر آپ نے سوال کرنا نہیں سیکھا تو آپ کی تعلیم ضائع ہوگئی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!