آن لائن کلاسز اور بلوچستانی طالبعلم فدابلوچ

Spread the love

تحریر: پروفیسر انعام اللہ مینگل

جہاں عالمی وباء کورونا نے پوری دنیا کو معاشی، معاشرتی، سماجی، طبی، علمی اور صنعتی بحران سے دوچار کر چکا ہے۔ وہاں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معدنی، ساحلی اور سیاحتی وسائل سے مالامال، مگر انتہائی مفلوک الحال اور پسماندہ ترین صوبہ بلوچستان کے حصول علم میں مصروف طلباء/طالبات کو ایک امتحان میں ڈالا ہوا ہے۔
آن لائن کلاسز نے بلوچستانی طالبعلموں کو جس کرب و عذاب میں ڈالے ہوئی ہیں وہ انتہائی قابل توجہ ہے۔
بلوچستان کے تاریخی شہر، مکران ڈویژن اور ضلع کیچ کا صدر مقام تربت میں زیرتعمیر کیچ کلچرل کمپلیکس کی انتہائی شاندار اور قابل دید عمارت کو دیکھنے کا موقع ملا،
اس زیر تعمیر عمارت کے سامنے کام میں مصروف عمل مزدوروں سے تھوڑی سی دوری پر تربت کی اس شدید گرمی میں ایک پراگندہ بالوں اور متغیر چہرہ نوجوان دو کاپیوں، تین قلموں اور ایک موبائل لے کر تپتی اور گرم لو کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی دنیا میں مگن تھا۔
اس نوجوان کو دیکھتے ہی میرے ذہن میں اس نوجوان کے بارے مختلف سوالات نے بیک وقت جنم لیے،
یہ نوجوان اس زیر تعمیر عمارت کیچ کلچرل کمپلیکس کے ٹھیکہدار کا منشی ہوگا، جو استعمال شدہ مٹیریل کے اخراجات اور مزدوروں کے دیہاڑی کا حساب و کتاب میں لگا ہوا ہے؟
ہو سکتا ہے یہ جوان کوئی دیوالیہ دکاندار ہوگا، جو اپنے اوپر واجب الادا قرضہ جات اور کھاتہ داروں سے وصولیوں کے بارے میں سوچ رہا ہے؟
ہو سکتا ہے کہ یہ نوجوان کسی زمانے میں قسطوں پر تجارت میں نقصان کرنے کے بعد مفرور قرضداروں پر عائد باقی اقساط کا حساب لگا رہا ہے؟
ان تمام سوالات کے ذہن میں ابھرنے کے بعد اس نوجوان کے قریب جاکر اس کے زیب قرطاس کیے ہوئے ریاضی اور انگریزی کے خوبصورت سطور کو دیکھ کر مجبورا استفسار کرنے کی نوبت آن پڑی۔
میرے ہمراہ نوجوان سیاسی و سماجی شخصیت میر عبدالصمد بروہی نے اس نوجوان کو سلام کرنے میں پہل کرکے اس کے بیٹھنے کی نوعیت پوچھنے کی جسارت کی۔
جب نوجوان نے اپنی داستان نشست بیان کرنا شروع کیا تو جتنے سامعین وہاں استادہ تھے ان سب کے پائوں تلے زمین نکلنا شروع ہوگیا۔
نوجوان کا نام فدا احمد بلوچ اور تربت سے دور ایک گائوں کوشقلات کا رہائشی تھا۔
فدا احمد بلوچ دھرتی ماں بلوچستان کے ایک لائق و فائق فرزند اور وادی مہران میں سندھو دریا کے کنارے واقع سکھر شہر میں قائم سکھر آئی بی اے (یونیورسٹی) میں کمپیوٹر سائنس انجنیئرنگ پانچویں سمیسٹر کا طالبعلم تھا۔
آئی بی اے سکھر (یونیورسٹی) کے طالبعلم فدا احمد بلوچ نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیوں نے آن لائن کلاسز شروع کیے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے بلوچستان کے اکثر و بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ کجا، موبائل نیٹ ورک کی سہولت میسر نہیں ہے۔
فدا احمد بلوچ نے کہا کہ میں روزانہ 50 کلومیٹر سفر کرکے تربت شہر اس لیے آتا ہوں کہ یہاں موبائل نیٹ ورک کی سہولت دستیاب ہے۔ اس موبائل نیٹ ورک سے مستفید ہوکر میں اپنے اساتذہ کرام اور طالبعلم ساتھیوں سے ایس ایم ایس کے زریعے مختلف سوالات کے جوابات لیتا ہوں۔
اور یہاں اس زیرتعمیر عمارت کی سایہ کا انتخاب اس لیے کر چکا ہوں کہ یہ ایریا کسی کی ذاتی جائیداد نہیں بلکہ عوامی جائیداد ہے۔
فدا احمد بلوچ نے اپنا دکھڑا بیان کرتے ہوئے کہا کہ دنیا 5G کی دور میں داخل ہوچکی ہے اور ہم بلوچستان والے انٹرنیٹ 3G, 4G کی خواب دیکھنا چھوڑیں، ہمارے ہاں تو موبائل نیٹ ورکس بھی ناپید ہیں۔
مندرجہ بالا تحریر کا لب لباب یہی ہے کہ بلوچستان کے بچے پڑھنا چاہتے ہیں لیکن ارباب اختیار ان کو سہولیات فراہم کرنے یا کروانے سے کتراتے ہیں۔
یہ کہانی ایک فرضی یا من گھڑت نہیں بلکہ حقیقی اور چشم دید داستان ہے۔
فدااحمد بلوچ کو بغیر نیٹ پڑھتے ہوئے دیکھنے والوں میں میرے ہمراہی نیشنل پارٹی ضلع خضدار کے جنرل سیکریٹری میراشرف علی مینگل، نیشنل پارٹی ضلع کیچ کے صدر محمدجان دشتی سینیئر نائب صدر مشکور انور بلوچ شامل تھے۔
یہاں پر ان تمام چشم دید گواہوں کا نام اس لکھ رہا ہوں کہ بدقستی سے ہم جب کسی بھی بشری ضرورت کی حکومت یا ریاست سے طلب کرتے ہیں تو اس بشری ضرورت کو فراہم کرنے یا حل طلب مسئلے کو حل کرنے بجائے ہماری نیتوں پر شک کیا جاتا ہے۔
اکیسویں صدی میں انٹرنیٹ یا موبائل نیٹ ورک کا دستیاب نہ ہونا صرف ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے نوجوان طالبعلم فدااحمد بلوچ کا مسئلہ نہیں بلکہ بلوچستان کے ہر اس طالبعلم کا مسئلہ ہے جو پاکستان کے کسی بھی یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے ہزاروں فدااحمد بلوچ جیسے طلباء و طالبات سڑکوں پر دربدر ٹھوکر کھا کر موبائل نیٹ ورک و انٹرنیٹ کی سہولت طلب کر رہے ہیں۔ لیکن ان احتجاجی نوجوانوں کی احتجاج کو شک نگاہ سے دیکھ کر ایوان اقتدار میں براجمان بااختیار صاحبان مسئلے کو حل کرنے بجائے احتجاج کو بلا جواز ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!