کھلونا بندوق اور بچوں پر ان کےمنفی اثرات

Spread the love

تحریر : ریاض حسین رونجھا

پاکستان میں ہر سال عید کے موقع پر کھلونا بندوقوں کی فروخت بڑھتی ہے۔اکثر آپ اپنے ارد گرد ماحول میں بچوں کو کھلونا بندوق سے کھیلتے ہوئے دیکھا ہی ہوگا بعض اوقات عید یا کسی خوشی کے دن بچے اپنے والدین سے کھلونا بندوق کی ضد کرتے ہیں اور والدین بھی باآسانی بچوں کی فرمائش پوری کردیتے ہیں آخر بچوں سے اتنی محبت جو ہے اور ہم یہ نہیں سوچتے کہ اس کا انجام کیا ہوگا اللہ نا کرے اگر کھلونا بندوق سے کھیلتے وقت کسی بچے کی آنکھ میں پلاسٹک کی گولی لگ جائے.
اور آج کل پڑوسی ممالک میں تیار ہونے والی یہ کھلونا بندوقیں اصل سے کچھ ہی کم ہیں۔ ان میں پلاسٹک کی گولیاں استعمال کی جاتی ہیں اور ان کا پریشر بھی اتنا ہوتا ہے جو بچوں کی آنکھوں، جلد اور نازک اعضاء کو نقصان پہنچانے کیلئے کافی ہے۔
اور یہ کھیل خطرناک رخ تب اختیار کرتا ہے جبکہ ایک ہی گلی یا دوسرے محلے کے بچے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو جاتے ہیں اور ٹولیوں کی شکل میں دوستانہ لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ اس تصادم میں بچے ایک دوسرے پر آزادانہ گولیاں برساتے ہیں جن کی زد میں آکر اکثر و بیشتر راہ گیر بھی متاثر ہوتے ہیں اور اگر یہ گولیاں کسی نازک اعضاء جیسے کہ آنکھ میں لگ جائے تو بھاری نقصان ہوتا ہے اور کئی بچے عمر بھر کیلئے اپنی بینائی سے محروم ہو جاتے ہیں
اور ماہرین بتاتے ہیں کہ کھلونا بندوقوں سے معاشی ذہنی اور جسمانی صحت پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے ایک اندازے کے مطابق کھلونا بندوقوں کے چھرے لگنے سے سالانہ سینکڑوں بچے زخمی ہوجاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق انڈر ورلڈ اور غنڈہ گردی کے موضوعات پر بنائی جانے والی بھارتی فلموں میں آتشیں اسلحے کی بے دریغ نمائش سے پاکستانی معاشرے پر بھی شدید منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، بے روزگار نوجوان راتوں رات امیر بننے اور طاقت کے ذریعے غلبہ حاصل کرنے کے لیے بھارتی فلموں جیسے ہی انداز اختیار کررہے ہیں، جس سے معاشرے میں محنت کرکے اپنا مقام بنانے کے بجائے جرائم کی راہ اختیار کرکے پیسہ کمانے کا منفی رحجان فروغ پارہا ہے۔ اس رحجان کی ایک جھلک لاہور شہر کی گلیوں میں کھیلنے والے بچوں کے مشاغل سے بھی ملتی ہے، اسلحے سے اپنے حریفوں کو زیر کرنے کا یہ کھیل بچوں کی شخصیت کا حصہ بننے کی صورت میں معاشرے سے برداشت اور تحمل ختم کردے گا جس کی روک تھام کے لیے والدین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ماہرین نے بتایا کہ کھلونا بندوقوں میں استعمال ہونے والے چھرے کا قطر 6.5 سے 8.5 ملی میٹر ہے اور مختلف رینج والی یہ بندوقیں8 سے 16 فٹ تک بآسانی ہدف کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ ان کھلونا بندوقوں میں کلاشنکوف کی فروخت سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ اس کی رینج بہتر ہونا ہے۔ ان کھلونوں کی وجہ سے نقصان بھی ہوتا ہوگا مگر کیا کریں ہمارا یہ کام ہے، ہماری روزی روٹی ہے، اس لئے مجبوراً کرنا پڑتا ہے۔بچوں کی ان کھلونوں میں دلچسپی کی وجہ سے دکانداروں نے رواں سال بھی بازاروں اور دکانوں میں ان کی زیادہ نمائش کی۔دکانداروں کے مطابق عید کے موقع پر ان کھلونوں کی مانگ باقی کھلونوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے کھلونا بندوق روک تھام کیلئے والدین اور ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا
ارباب اختیار کے ساتھ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسے کھلونے لے کر دیں جو ان کو مثبت رحجانات کی طرف راغب کریں تاکہ نونہال پاکستان جسمانی اور نفسیاتی نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔ اوّل تو بندوق کے بجائے بچوں کی دیگر کھلونوں میں دلچسپی پیدا کی جائے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم از کم اس بندوق کا پریشر ختم کر دیا جائے جس کی وجہ سے چھرّا زور سے لگنے کے باعث نقصان دہ بنتاہے
کھلونا بندوق بچوں کیلئے نفرت ،بداخلاقی اور تشدد کے رحجان سمیت منفی سوچ کا فروغ بن رھی ھے بالکل اس کے ساتھ ساتھ کھلونا بندوق سے بچوں کی جسمانی معاشی اور ذہنی حالت پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے یقیناً بچے قوموں کا مستقبل ہوتے ہیں بچوں کو پرورش و تربیت والدین کی عین ذمہ داری ہے۔۔
ایک پرامن اور تعلیمی یافتہ معاشرے کی تعمیر و ترقی کیلئے ہمیں بچوں کو تعلیمی سرگرمیاں میگزین اخلاقیات و دیگر ایکٹیویٹی کی طرف ذہن سازی کرنی چاہیے
ہم سب کو مل کر ایک پرامن اور تعلیمی یافتہ معاشرے کی تشکیل کیلئے جدوجہد کرنی چاہیے۔۔۔
کھلونا بندوق کے بڑھتے رحجان کو مدِ نظر رکھ کر لسبیلہ سے عبدالصمد گدور معاز عزیز اور اُن کی پوری ٹیم نے مل کر ایک مہم کا آغاز کیا ہے جن کی جدوجہد و کاوش کو سلام پیش کرتا ہوں یقیناً دوستوں نے معاشرے ملک و قوم کی بہتری کیلئے ایک مثبت پیغام کا آغاز کیا ہے اور میں خود اس مہم کا حصہ ہوں میں سمجھتا ہوں کھلونا بندوق کے روک تھام کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا تمام دوست اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے دوستوں کا ساتھ دیں اور جہاں معاشرے کے بہتری کی بات ہوگی ہم ضرور اُن کا ساتھ دیں گے شکریہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!