آن لائن کلاسز کا اجرا،بلوچستان کےسٹوڈٹنس کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔سوشل ایکٹیویسٹ مھران حبیب جالب بلوچ

Spread the love

آن لائن کلاسز کا اجرا،بلوچستان کے سٹوڈنٹس کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔سوشل ایکٹیویسٹ مھران حبیب جالب بلوچ


کورونا وباکے باعث ہائریجوکیشن کمیشن کی جانب سے ملک بھر میں آن لائن کلاسزکے اجراکا اعلان کیا گیا ،یہ اعلان زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہے ،ہائرایجوکیشن کی آن لائن کلاسزکااعلان ہی قابل تشویش ہے جو کمیشن کی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے ،بھاری فیسوں کی وصولی کےلئے آن لائن کلاسز کا اجراکیا گیاجو بری طرح ناکام ہوا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں مھران حبیب جالب بلوچ نے کہا کہ بلوچستان 60فیصد علاقے انٹر نیٹ جیسی سہولت سے محروم ہیں دوسری جانب صوبے میں 18,,,18 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے انہوں نے سوال اٹھایاکہ بلوچستان جیسے پسماندہ علاقے میں کیسے آن لائن کلاسز کااجراممکن ہوسکے گا؟؟۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت پر لازم ہے کہ وہ ہائرایجوکیشن کمیشن کو بلوچستان کے معروضی حالات سے آگاہ کرے،تاکہ طلباوطالبات کی مشکلات میں کمی آسکے ،انہوں نے ملک کے تعلیمی ادارے کے سربراہان سے اپیل کی کہ وہ زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا کریں ،مھران بلوچ نے کہا کہ آج کورونا وائرس نے دنیا کے ہر شعبے کو متاثرکیا ہے۔دوسری جانب اس جدید دور میں جہاں دنیا انٹرنیٹ جیسی سہولیات سے مستفید ہورہی ہے۔ لیکن آج بلوچستان کے طلباوطالبات انٹرنیٹ سروس کی سہولت سے بھی محروم ہیں ،مھران جالب بلوچ نے کہاکہ کیشن جب بھی فیصلہ کریں تو بلوچستان کے حالات کو مد نظر رکھ کر کریں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!