ایک حقیقت

Spread the love

تحریر:نجیب یاسین


فیروز باغ میں اپنے دوست احسان کے ساتھ چہل قدمی کے لئے نکلا اور راستے میں مختلف موزؤں پر بات کرتے ہوئے باغ کے قریب پہنچنے والے تھے کہ درختوں سے ٹھنڈی ہوا دل کو چھوم رہا تھا۔لیکن فیروز اور اسکے دوست کا دل بے چین\بے قرار تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کوئ بڑی طاقت نے اس باغ چمن کی زیب و زینت اور چین چھین لی ہے۔
اور اس بے چینی نے لوگوں کی زبان سے حقیقت بولنا اور گفتگو کی مٹھاس ہی ہڑپ کر لی ہے۔
فیروز اور اسکا دوست احسان اب بلکل باغ ہی میں تھے تو انہوں نے ایک دوسرے سے ایک عجیب واقعہ کے بارے میں باتیں کرنا شروع کئے جو شاید انکے محلے میں چند روز قبل پیش آیا تھا۔
فیروز۔ دوست آجکل ہمارے معاشرے میں کیسے بدامنی پائی جاتی ہے جیسا کہ جنگل کا قانون ہے۔ ہر روز بھڑیوں کی شکل میں انسان ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے جھگڑتے ہیں اور ایک دوسرے کو قتل کر دیتے ہیں۔لیکن جب کوئ قتل ہوتا ہے تو قاتل کا پتا نہں چلتا۔ وجہ کیا ہے؟یا تو یہاں کوئ قانون نہں اگر ہے بھی تو قاتل خود قانون کا رکھوالا ہے۔
احسان۔ بلکل فیروز بھائی گھر سے نکلتے وقت بہت ڈر لگتا ہے۔دل نکلنے کو جی نہیں کرتا۔جب گیٹ پر آتا ہوں تو بچے بھی گیٹ تک آکر رُخصت کرتے ہیں اور کہتے ہیکہ ” بابا جان واپس آنا”۔انکی یہ الفاظ دل کو چیر لیتے ہیں ایسا لگتا ہیکہ اس معاشرے کی بدامنی اور جنگل کی قانون نے بچوں کی خوشیاں بھی چھین لی ہیں اور وہ بھی اس خوف و ہراس کی وجہ سے  ذہنی دباؤ  کا شکار ہیں۔
فیروز،اچھا دوست ہمارے معاشرے میں اتنے بیماریاں کیوں ہیں؟ کوئ چین کی زندگی کیوں نہں گزار سکتا؟ کیا ہم انسان نہں ہے؟ یا ہمیں جینے کا کوئ حق نہں!
چلو خیر جو بھی ہو رہا ہے ہمیں ان مشکلات سے لڑنا پڑے گا ۔ کل ہمارے علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔
احسان۔ جی کیسا واقعہ دوست؟
کل اسی شہر میں کچھ مضبوط ہاتھوں نے ہمارے ایک غریب ہمسایہ کو لاٹھوں سے خوب وار کر کے ہلاک کر دیا ہے۔اور اتنے آسانی سے فرار ہوئے ہیں جیسا کہ رات کے اندھیرے میں بھڑیاں شکار کر کے فرار ہوتا ہے۔
احسان۔ دوست بہت افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ایک غریب آدمی کو قتل کر کے اسکے بچوں کو یتیم کرنا کہاں کی انسانیت ہے؟ ذرا بھی انسانیت کے نام پر رحم نیں آتا ۔
اچھا بھائ ان لوگوں نے بندوق سے بھی کوئ گولی مارا تھا؟
فیروز۔۔گولیوں کی کوئ نشان نہیں تھی لیکن عینی شایدین کے مطابق وہ ایک بڑی قیمتی گاڑی میں سوار تھے اور بندوقوں سے لیس تھیں۔
احسان ، اس معاشرے میں جینا بہت مشکل  ہے اور مرنا بہت آسان ۔یہاں موت اتنی سستی ہیکہ بس سو روپے کے دو گولیوں میں انسان کا وجود ہی ختم۔ایسا لگتا ہے کہ انسان اب جنگلی جانوروں کی شکار سے بھی زیادہ سستا ہوگیا ہے۔
فیروز۔ جی ہاں بلکل اسی طرح ہے یہاں کمزور کے لئے قانون الگ اور طاقتور کے لئے الگ۔جیسا کہ عظیم یونانی فلاسفر سقراط کا کہنا ہیکہ کہ قانون مکڑی کی جال کی طرح ہے جس میں تو کمزور پھس جاتے ہیں اور طاقتور جانور جال کو جڑ سے اُکھاڑ کر  اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہاں لوگوں کو پینے کے لئے پانی میسر نہں اور روڈوں پے روزانہ لوگ اتنے بے دردی سے قتل ہوتے جا رہےکہ روڈوں کے رنگ بھی سرخ ہو رہے ہیں۔
میرے دادا کہا کرتے تھے کہ ہمارے زمانے میں لوگ ایک دوسرے کے لئے دل و جان سے پیار کرتے اور جان قربان کرتےتھیں۔راستوں پر پڑے کانٹے و رُکاوٹ دور کرتے تھے۔
لیکن افسوس یہ وہ زمانہ نہ رہا ،جہاں لوگ جان دیتے تھے آج جان لے رہے ہیں۔ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔کانٹے اُٹھانے کی بجائے کانٹوں کا آر بچا رہے ہیں۔ کہاں گئی تیری، غیرت ،بلوچی روایات۔کل ہم عورتوں کے گھر آنے پر خون بخش دیتے تھے اور آج یا تو وہ جنسی ہراسگی کا شکار بن رہے ہیں یا اُنکو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے قید کیا جا رہا ہے۔وہ بھی اس لئے کہ وہ اپنی قانونی حق مانگ رہے ہیں۔
احسان۔۔بلکل درست۔ آج اس باغ کی ہوا بھی وہ نہں رہی جب میں چچا جان کے ساتھ یہاں آیا کرتا تھا۔پہلے دوسرے صوبوں کے لوگ آ کر ہماری ہمدردی سے متاثر ہوا کرتےتھیں اور آج میں وہی بد بخت بلوچ ہوں جو اپنی ہاتھوں سے اس باغ چمن کی چھین و سکون کو آگ لگایا ہوں اور اپنی پہچان بھول چکا ہوں۔ ہمدردی دور کی بات۔
فیروز۔۔آجکل اس باغ کی تازہ ہوا اور اس چمن کی زیب و زینت نہں رہی کیونکہ انکو خوبصورت انسان ہی بناتا ہے۔
مگر انسانوں نے زمین کو اتنا گرم کیا ہے کہ ہر روز اسکی تپش میں آکر کئی قیمتی جانیں ضائع ہو رہے ہیں۔
ایک مصنف کا قول یاد آیا جس کے سہارے سے ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ مصنف کہتا ہیکہ "دنیا کی ہلچل میں بھی ایک حقیقی اتحاد ہے کیونکہ ہر بار زمین گرم ہونے کے بعد تبدیلی ضرور لاتی ہے”
احسان۔۔جی بہت خوب آج کی گفتگو کافی خوشگوار اور لمبی رہی۔چلو اب گھر چلتے ہیں شام ہو رہی ہے کہی ہم اُن بھڑیوں کی شکار نہ بنے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!