اتحاد اور بد نیتی

Spread the love

تحریر:خالد رضا

بی این پی اور پی ٹی آئی کے اتحاد ختم ہونے سے حکومت کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں بیشتر اسکے کے پی ٹی آئی کی حکومت اتحادیوں کی بیسھاکیوں پہ چل رہی ہے ایسے میں شیخ رشید کو وزارت جانے کے خطرے نے حواس باختہ کردیا ہے تو حزب رسیدگی میں اپنے جذبات کا غلط انداز میں اظہار کرچکے ہیں موصوف نے سیاست میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ہے نواز شریف کے دور اقتدار میں وزیر اطلاعات کا قلمدان سنبھال چکے ہیں ایسے کی نواز شریف کے ہی دوسرے دور اقتدار میں بھی وزارت کے عہدوں پہ فائز رہے.


پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں چہیتے حمایتی کے طور پر اپنی پہچان رکھتے تھے اور مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کی جہاں پہلے وزیر اطلاعات کے منصب پہ فائز رہے بعد ازاں وزیر ریلوے کے منصب پہ براجمان رہے اور اب عمران خان کے حمایتی بننے کے عوض وزارت لینے میں کامیاب رہے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی پارٹیوں میں شمولیت اور اپنی زبان دانی کی بدولت مراعات لینے میں کامیاب رہے۔۔
بلوچستان کی عوام کو بیشتر اس سے بی این پی کے نکات سے حکومت کے انحرات نے مایوسی کا شکار کردیا ہے ایسے میں ایک تہذیب سے عاری انسان نے اپنی کم عقلی اور بد تہذیبی سے مزید پیچیدگیاں پیدا کردی موصوف 1998 کے ایٹمی دھماکوں کے وقت صحت کی خرابی کا بہانہ کرکے ملک سے راہ فرار اختیار کرچکے تھے سیاسی زندگی کے باوجود لطافت سے محروم رہا ایک غیر معروف شخصیت پر اتنی نوازشات نے اسے معروف تو کردیا مگر سیاسی بلوغت ہونے کے باوجود لب ولہجہ کے رظافت سے محروم ہے جس کی بنا پر غیر معمولی حد تک بد گفتاری کرتے گئے الفاظ کے چناڑ میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا اب ذہنیت کو بدلنے کا وقت ہے نکات کے اقتباسات کو ملحوظ خاطر رکھنے کے بجائے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا جبکہ اس حقیقیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ نکات صرف ایک پارٹی کے ایجاد کردہ نہیں تھے بلکہ اس میں ایک خطے ایک قوم کی آمادگی امن کی خوائش اور التجا بھی شامل تھی۔
بلوچستان تکلیف سے سسک رہا ہے تکلیف کو رفع کرنے کے بجائے زخم کو مزید کریدھا جارہا ہے ایسے حالات میں وزیراعظم کے اعشاتیے میں شمولیت کرنا کسی المیے سے کم نہیں گردانا جاسکتا تھا
بلوچستا نے بہت قربانیاں دی ہیں اپنی قدیم تہذیب و ثقافت جو 9000 سال پر محیط ہے مملکت خداد پہ قربان کرچکا ہے اس ملک میں بہتر سے بہتر وفا کرتا رہا ہے اتحاد سے پہلے اتحاد کے بعد حسب سابق صورتحال متعصبانہ نظر آرہی ہے ایک خطے کے مدبر سیاستدان اور سفید ریش کیلئے ایسے بد تہذیبی و متعصبانہ الفاظ کا چناو کسی صورت بہتر نتائج دینے سے قاصر ہے ایسےبےلطف کلمات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے
بلوچسستان بھروسے پہ بھروسہ کرتا رہا مگر بدلے میں ایسے جاہلانہ انداز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔۔
بلوچستان کے باسیوں کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ اسکی معاشی صورتحال بہتر نہیں
اسے محبت کے بدلے نفرت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
مگر بلوچستان کی تاریخی حیثیت یہ گورا نہیں کرتی کہ اسطرح اسکے متعبر صابر و سفید ریش سیاستدان کی میڈیا پہ یوں توہین کی جائے اسکی جتنی مذمت ہو کم ہے۔ حقیقت یہی ہو جو حسب رکھتے ہیں زوق بھی وہی رکھتے ہیں شیخ رشید جیسے انسانوں سے کسی حسب کی توقع رکھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!