انسانیت کی قدر

Spread the love

تحریر:لالا رحمت بلوچ


کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا خوف میں متبلا ہیں اموات تیزی سے بڑھ رہا ہے لوگ ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے ہیں ہر کوئی پریشانی کی عالم میں زندگی گزر رہے ہیں
حالات کیسے بدلیں حالات بدل نہیں سکتے جب تک ہم خود کو نہ بدلیں گے
انسان اکیلا نہیں رہ سکتا اسے زندگی گزارنے کے لیے دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنا پڑتا ہے مل جل کر رہنے سے خوشی اور غم بانٹنے سے معاشرے میں نکھار آتا ہے
بہتریں انسان ایک دوسروں کی بوقت ضرورت بڑھ چڑھ کر مدد کرتا ہے
دنیا میں ہزاروں بندے پھرتے ہیں مارے مارے
پر انسان وہ ہے جو معاشرے میں ہمددی یا مدد کو فروغ دے
تو آئیں انسانیت کی قدر کریں
بلارنگ و بلا نسل دوسروں کے درد کو اپنے درد سمجھ لیں
ابھی تک کئی افراد کرونا کو شکست دے کر صحت یاب ہوئے ہیں مگر اپنے پلازمہ عطیہ نہ کرنے کی وجہ سے بہت سے لوگ بچھڑ گئے ہے ہم سے ان کا موت کا زمہ دار اب ہم کیسے ٹہرائے ظاہریں ہم ہے
کیا یہی انسانیت ہے کہ ہم ایک دوسرے کا جان تک نہیں بچا سکتے
اب بھی وقت ہے کہ کرونا سے صحت یاب مریض اپنا پلازمہ عطیہ کر کہ انسانیت کو زندہ رکھے
جس سے ہم کافی حد تک انسانوں کی زندگی کو بچا سکے گئے اور یقین کے ساتھ کرونا کو شکست دے کر پھر سے وہی دن لینے میں دیر نہیں لگے گئی
ایک انسان کی جان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانا

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!