ساکران

Spread the love

تحریر: منور جان جلبانی

ایک گاؤں ہے جہاں ٹھنڈی
چھاؤں ہے
ساکران لسبیلہ کا کشمیر
کچھ وقت پہلے کی بات ہے میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ جس گاؤں سے میرا تعلق ہے آخر اس گاؤں میں لوگ کیوں دور دور سے گھومنے آتے ہیں ہیں کیا یہ سکون والی جگہ ہے؟ کیا وہ لسبیلہ کا کشمیر ہے ؟ کیا وہ بہت ہرا بھرا ہے ؟ جی تو میں بات کر رہا ہوں ساکران کی جہاں میرا بچپن گزرا میرے آباؤ اجداد کا وقت گزرا میں نیچر لور ھوں تو کیوں نہ کرتا اپنے ساکران کو ایکسپلور ۔
میرا اتنا تجربہ تو نہیں اور نہ ہی میں اتنا پرانہ ھوں تو مجھے ساکران کی کہانی سننے اور سمجھنے کہ لئے ساکران کی ایک معزز شخصیت سے رابطہ کرنا پڑا میرے محترم سررمضان رمل جنہوں نے ساکران کو ایکسپلور کرنے میں میری رہنمائی فرمائی
جب میں نے پاکستان کے مختلف علاقوں کا سفر کیا تو مجھے بہت ساری باتوں کا پتہ چلا اور بہت کچھ سیکھنے کو ملا سندھ اور بلوچستان کی کیا خوبصورت دھرتی ھے تو بات کرتے ہیں ساکران کی جہاں مختلف فصلوں اور پھلوں کی کاشتکاری کی جاتی ھے اور یہاں کے باشندے کتنے خوش نصیب ہیں کہ اللہُ تعالیٰ نے اتنی خوبصورت زمین سے نوازا ھے خدا پاک میرے دیس کو ہمیشہ خوش اور کامیاب رکھے
اب ساکران کو ایکسپلور کرتے ہیں ساکران تحصیل حب کا ایک وسیع وعریض زرعی علاقہ ہے جو دریائےحب اور پب کے درمیاں تا لنگ لوہار تک کسی زمانے میں تحصیل حب کے ایک موضع کے طور پہچانا جاتا تھا۔
ساکران..ساکران میں آباد ایک گاؤں کے وڈیرے ساکران واہورہ کے نام سے موضع مشہور ہوا تھا۔ جسے انکے پوتے مرحوم حاجی محمد ہاشم واہورہ جو ماضی میں ایک مشہور و معروف قبائلی معتبر کے طور جانے پہچانے جاتے تھے ۔اپنے گاؤں کے نام کو تحصیل حب کے ایک بڑے موضع کے طور روشناس کروانے میں کامیاب ہوئے۔حب تا لنگ لوہار تک موضع ساکران A.B.C کےنام سے تین زیلی علاقوں میں بعد میں معروف تھا۔جو اب تین یونین کونسلوں۔ساکران حسن پیر اورپنڑیا اور باقی علاقہ A میونسپل کارپوریشن حب کی حدود میں شامل ہے ۔یہ علاقہ قدیم زمانے میں مال چراہی اور بارانی طریقہ کاشت سے منسلک تھا۔اور اکثر خشک۔بنجر۔ بے آب وگیاہ ۔بھٹوں۔میدانوں اور جنگلی خردرو درختوں۔ببول۔کنڈو۔ڈیڈار ۔کلیر ۔املی۔کیکر غیرہ سےکہیں کہیں آباد تھا۔ وسیع چراگاؤں میں بارشوں کے بعد یہاں بسنے والے مقامی لاسی قبائل کے مویشی چراکرتے تھے ۔ اس پورے علاقے میں میٹھے پانی کی قلت ہوا کرتی تھی۔البتہ دریائے حب میں بارشوں کے بعد کہیں پانی نظر آجاتا تھا۔
ساکران اور بندمراد کے علاقے قدیم ساربانوں کے کافلوں جو سندھ سے مکران جاتے یا خضدار و قلات یہ علاقہ انکے سراہے ہوا کرتا تھا۔
عظیم سسئ نے زمانہ قدیم میں یہی راستہ اختیار کیا تھا ۔آج بھی انکا مزار پب پہاڑ کے دامن میں واقع ہے
کم و بیش۸۰ یا ۹۰ سال پہلے بارانی کاشت کے بجائے یہاں زرعی کاشت کے ماہر بلوچ اور براھوی قبائل کے کئ طائفوں کی ہجرت اور آباد کاری سے کوش ۔رہٹ جیسے بالائ بلوچستانی زرعی تیکنیک سےآباد کیا جانے لگا تھا اور پھر اسکے بعد کراچی۔ ملیر و سندھ کے دیگر علاقوں سے لوگوں نے یہاں زمینیں خریدی تھیں ۔ان ہاری۔زمیندار اور کسانوں نے اس وقت ٹیوب ویلوں کے زریعے اس زرخیز وادی کو سرسبز باغات کا علاقہ بنادیا ۔اور یوں کئ نواحی گاؤں آباد ہونا شروع ہوئے۔ جو پہلے مختلف چھوٹے چھوٹے علاقوں کے طور الگ قدیم ناموں سے مشہور تھے۔اب یہاں بسنے والے قبائلکی نسبت مشہور ہونے لگے۔اور جو یہاں مشہور مرکزی علاقہ کانٹو ندی کے کنارےآباد ہونے والے کوہ پب اوردوسری طرف کے واہورہ قبیلے کی سکونت اور اسکے سرکردہ مرحوم ساکران واہورہ کی نسبت ساکران گوٹھ مشہور ہوا۔
بلوچستان میں قحط سالی سے یہاں بلوچ اور براھوی قبائلکی آمد شروع ہوئ۔ جنہوں نے یہاں اس علاقے کو
زرعی اجناس۔سبزیوں اور پھلوں کا زرعی علاقہ بنا دیا ۔اس سے پہلے یہاں بارانی کاشت کا طریقہ رائج تھا۔یہاں قدیم زمانے سے قبائل میں خاصخیلی گڈرا ۔ واہورہ۔موندرہ۔شیخ اور کئ دیگر لاسی قبائل رہتے آرہے تھے
ان میں سیاہ پاد خارانی و دیگر علاقوں کے ۔محمدحسنی۔کیازئی ،کمبرانی،کلندرانی،میروانی،سمالانی،رودینی،نیچاری۔شیخ احمدی ،محمدشہی،بیزنجو،ساجدی، کولواہی،آوارانی۔جھاؤگی ،بھٹی،لوڑی،گریشگی، چنال،درزادگ،جلبانی،لاکھہ۔چانڈیہ۔مری،مینگل،زہری،مکران اور ایرانی بلوچ شامل ہیں
خدا پاک ھم نیچر سے محبت کرنے والوں کو صدا خوش رکھے اور ہماری دیس میں رہنے والے باشندوں کو صدا سلامت رکھے۔
میرا دل کشادہ ھے میرے گاؤں کے آنگن کی طرح۔
چلتا ہوں پھر کبھی ملتے ہیں
خدا حافظ!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!