آن لائن کلاسز اور حکام بالا

Spread the love

تحریر: عامر نذیر بلوچ

پچھلے مہینے ایچ ای سی کی تعلیمی پالیسیوں میں کووڈ19 کے سبب آنلائن کلاسز کا اعلان ہوا جس میں تمام جامعات سے آنلائن کلاسز کی تیاری کا حکم صادر کیا گیا اور اس خبر نے بلوچستان جیسے پسماندہ علاقے کی زمینی حقائق کو پس پشت ڈال کر طلبہ کو یہ تک کہا جو آنلائن کلاسز کے خلاف ہیں وہ مفت میں پاس ہونا چاہتے ہیں بجائے کہ حقائق کو سمجھنے کے طلبہ و طالبات کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کا سلسلہ شروع ہوا اور پورے بلوچستان کے دیہی و شہری علاقوں میں آنلائن کلاسز کے خلاف طلبہ و طالبات کی احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا۔
جیسا کہ موجودہ حالات میں دنیا گلوبل ولیج کی جانب گامزن ہے اور ترقی کی راہ میں ایک اونچے مقام پر پہنچ چکی ہے اور جدید سہولیات سے مستفید ہیں تو رہا بلوچستان کا سوال تو یہاں وہ بنیادی سہولیات سرے سے موجود ہی نہیں تو کن بنیادوں پر آنلائن کلاسز کا اجراء ہوا پچھلے کئی سالوں سے مختلف سیکیورٹی ایشوز کی بناء پر انٹرنیٹ پر مکمل پابندی عائد ہے جن میں اکثریت علاقوں میں انٹرنیٹ جیسی چیز کا پتہ ہی نہیں کسی کال یا ایس ایم ایس کے لئے کسی اونچے مقام کا انتخاب لازم ہے ورنہ کال کی سہولت سے بھی محروم ہیں اور اسکے علاوہ شہر و دیہاتوں میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے جلتی آگ میں ایندھن کا کام کیا ہے ان سخت حالات میں خصوصاً طلبہ کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا جسکی وجہ سے بیشتر طلبہ و طالبات سڑکوں اور بازاروں میں اپنے تعلیمی حقوق کی حفاظت کے لئے سراپا احتجاج ہیں جن میں طلبہ تنظیموں کا اچھا خاصہ کردار رہا اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے بلوچستان ہائی کورٹ میں آنلائن کلاسز کے خلاف پٹیشن دائر کیا جس میں کئی انکشافات سامنے آئے کہ یہاں چوراسی فیصد اضلاع میں انٹرنیٹ کا نام و نشان تک موجود نہیں، اگلی سماعت تیس جون تک ملتوی کردی اور ساتھ ساتھ جامعات سے فیس کے معاملے میں خصوصی رعایت کا حکم دیا۔
بلوچستان میں کہیں بھی حکام کی جانب سے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لئے طلبہ کا ہاتھ پکڑ کر انکی تعلیمی رکاوٹ دور کرنے و انکی مستقبل کو محفوظ رکھنے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کے بجائے الٹا گزشتہ دنوں طلبہ و طالبات کی پرامن احتجاج میں طلبہ کو اپنی بنیادی حق تعلیم کے دینے کے بدلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سر عام غنڈہ گردی نے مظلوم طلبہ کو لاتوں، گھونسوں اور ڈنڈوں کے ساتھ بلوچستان کی روایات کو پائوں تلے روند ڈالا اور مظاہرین میں موجود طالبات پر سخت جارہیت نے مسلط شدہ حکمران کی تعلیم دشمن ہونے کا عملی مظاہرہ کیا جسکی جتنی مزمت کی جائے کم ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ کیا بلوچستان میں ہمیشہ طلبہ کو اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر ڈنڈہ بردار محافظوں کی تشدد کا نشانہ بننا پڑے گا؟ اپنی تعلیم کو بچانے کے خاطر ہمیشہ ظالم کی اذیت سہنا پڑے گا؟ آخر کب تک یونہی قوم کا مستقبل سڑکوں پر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگی؟ طلبہ کو دانستہ طور پر سڑکوں پر نکلنے کے لئے کیوں مجبور کرتی ہیں؟ جیسا کہ ریاست اور عوام کے درمیان اصولی طور پر یہ معاہدہ طے شدہ ہیکہ ریاست ہمیشہ عوام کی بنیادی حقوق دینے کی پابند ہے اور ہر حال میں عوام کی حفاظت کرتی ہے لیکن یہاں معاملہ بلکل اسکے برعکس ہے حقوق دینے کے بجائے تشدد کا راستہ اختیار کر کے مظلوم طلبہ کو لاچار ہونے کا احساس دلاتی ہے آخر کب تک ظلم کا یہ نظام چلتا رہے گا ہم قلم سے محبت کرنے والی قوم ہیں ہمیں پڑھنے دو، ہمیں آگے بڑھنے دو۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!