بلوچ اور بلوچستان کے ساتھ زیادتی

Spread the love

تحریر:اورنگ زیب نادر

بلوچ اور بلوچستان کے ساتھ ہمیشہ زیادتی کی جارہی ہے یہ کوئی نہیں جانتا کیوں کیاجارہی ہے۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے سرزمین بلوچستان قدرتی معدنیات سے مالامال ہے۔
بلوچستان کا تعلیمی بجٹ بہت ہی کم ہے۔بلوچستان کے اکثر طالب علم پاکستان کے دیگر صوبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں کیوں؟ اس لئے کہ بلوچستان میں تعلیم نام کی کوئی چیز نہیں ہے اگر ہے تو برائے نام ۔ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں اسکول موجود ہی نہیں ہے ۔ جن علاقوں میں ہے وہاں سہولیات کا فقدان ہے۔
اکیسویں صدی میں انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہ ہونا قابل غور بات ہے! بلوچستان کے بیشتر شہروں میں انٹرنیٹ سہولت میسر نہیں ہے انٹرنیٹ آج کل انسان کی ایک بنیادی ضرورت بن چکاہے بدقسمتی سے بلوچستان ہر چیز سے محروم ہے لیکن کیوں کیا بلوچستان کے عوام پاکستان کے شہری نہیں ہیں؟ اس بات کی مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے کہ بلوچ اور بلوچستان کے ساتھ زیادتی کیوں کی جارہی ہے؟
کچھ روز قبل بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں آن لائن کلاسز کے خلاف طلباء کا احتجاج ہوا جس میں مظاہرین کو گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔احتجاج کرنا آئینی حق ہے لیکن اس کے باوجو طلباء پر تشدد اور گرفتار کرلیاگیا یہ تعلیم دشمن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بلوچستان میں ترقیاتی کام صرف برائے نام ہے بلوچستان میں کچھ ایسے اضلاع موجود ہیں جہاں سڑک نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ گوادر کو سی پیک کا جھومر کہاجاتاہے لیکن سی پیک کے پیسے پنجاپ ودیگر صوبوں میں خرچ ہورہےہیں۔
پاکستان میں سب سے بڑے گیس کے ذخائر بلوچستان کے سوئ میں ہے۔افسوس کا مقام ہیکہ سوئی گیس سوئ اور اس کے مضافات میں دستیاب نہیں ہے لیکن سوئی گیس اسلام آباد، لاہور، ملتان ،فیصل آباد ودیگر شہروں میں جاپہنچی ہے۔
آخر میں کچھ اشعار آپ کے پیشِ خدمت ہے۔
کون اس دیس میں دے گا ہمیں انصاف کی بھیک
جس میں خونخوار درندوں کی شہنشاہی ہے
جس میں غلے کے نگہباں ہیں گیدڑ جس سے
قحط و افلاس کے بھوتوں نے امان چاہی ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!