ہمارا معاشرہ اور انکی نفسیاتی بیماریاں

Spread the love

تحریر: نجیب یاسین


جب قومیں یا معاشرے نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں تب وہ علم اور شعور سے علیدہ راہ اختیار کرتے ہیں۔ جہاں وہ کئ طرح کے مشکلات سے دو چار ہوتے ہیں اور ایک درندگی زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں۔
اکیسوی صدی میں بھی ہمارا معاشرہ ایسے وقت سے گزر رہا ہے جہاں لوگ (%98) فیصد نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہیں اور علم و شعور تو انکی تصور میں بھی نہں آتا۔
کیا میں اپنے معاشرے کی بات کر رہا ہوں؟ ہاں میں اپنے معاشرے کی بات کر رہا ہوں۔ جہاں نفرتیں اور قتل و غارت عام ہیں ۔ جہاں بغض ، کینہ، حسد کی آگ لوگوں کی دماغ میں بڑک رہا ہیں۔جہاں انسانوں کی مدد کی بجائے انکے لیئے کانٹے بچایا جاتا ہے۔ جہاں انسانوں کو قوم ، مذہب اور ذات کی بنیادوں پر تقسیم کیا جاتا ہیں۔ جہاں ادیب، دانشور اور فلاسفر کو بیوقوف ، پاگل ، کافر اور کمیونسٹ جیسے القاب(Title) سے نوزا جاتا ہیں۔ اس معاشرے میں لوگ درندہ اور وحشی زندگی گزاریں گے  نہ کہ وہ علم و شعور کی سیڑھی پر چڑھ کر اپنے دماغوں کو اسکی شمع سے روشن کریں گے۔ کیونکہ ایسے معاشروں میں جہالت عروج پر پہنچتی ہے اور اسکی اندھیرا ہر طرف لوگوں پر چا جاتی ہیں اور لوگ اپنی پہچان کرنے  سے قاصر رہتے ہیں۔ایسے معاشرے میں نفسیاتی بیماریاں قابو سے نکل جاتے ہیں اور لوگ کریڈٹ کمانے ، اپنے کو اچھا، ذہین  اور طاقتور سمجھنے کی دوڑ میں لوگوں کی جوتوں تک چاٹ لیتے ہیں ۔
جسکی وجہ سے معاشرہ نام نہاد کم علم ، دانشور ، ادیب اور مذہبی عالموں سے بھر جاتا ہیں۔جہاں لوگ حقیقت ڈھونڈنے کی بجائے تصوراتی/خیالی باتوں پر اندھا ہو کر یقین کرتے ہیں اور معاشرے میں منطق(Rationality) اور دلیل جیسے چیزوں کی نام و نشان مٹ جا تی ہے۔جب تک معاشرہ کے لوگ خود چیزوں پر غور و فکر نہں کرتے تب تک جہالت کی زنجیروں اور نفسیاتی بیماریوں کی  لپیٹ میں قید رہتے ہیں۔
جیسا کہ ایک فرانسیسی فلاسفر والٹئیر کا کہنا ہیکہ” انسانی دماغ کو جتنی ہو سکے علم میں مصروف رکھو ” کیونکہ بغیر علم کے انسانی ذہین کو کنٹرول کرنا مشکل ہے۔وہ معاشرے کے لئے بگاڑ کا سبب بنتا جائے گا۔
آجکل جو تعلیم ہم اسکول ، کالج، یونیورسٹی، وغیرہ سے حاصل کر رہے ہیں وہ ہماری وحشیت اور حالت کو کیوں تبدیل نہں کر رہا؟
ہماری تعلیم ہماری وحشیت اور حالت کو اسلئے تبدیل نہں کر رہا کہ ہم وہ علم ہی حاصل نہں کر پارہے ہیں جو ہمارے ذہنوں کو چاہیے ، بلکہ ہم ایک کورس ، سلیبس تک ہی محدود ہے۔ جو ایک انسانی ذہین کے لئے بہت کم ہے۔ ہاں اگر کچھ لوگوں نے پڑھا بھی ہے تو وہ دو چار کتابیں پڑھے ہیں جو آگہی سے زیادہ گمراہ کرتے ہیں۔
کیا آج تک ہمارے معاشرے کے نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں نے یہ سوچا ہیکہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی سوچ بنانا ہیں۔ انکے لئے گھروں یا اپنے معاشروں میں لائبریری قائم کرنا ہے قطعاً نہں بلکہ ہم نے  اُنکو یہ سوچ دیا ہیکہ آپ کو کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا ہے اور ایک نوکر بننا ہے پھر لوگ آپکو عزت دینگے۔ ایسے نفسیاتی بیماریوں نے ہمارے تخلیقی صلاحیتوں کو ناکارہ ، ناسود بنایا ہیں۔ہم نے آج تک اسلئےاچھے دانشور اور ادیب پیدا نہں کیے کہ ہم چیزوں پر سوچتے نہں ہے اور بغیر سمجھے چیزوں کو قبول کرتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!