بلوچ عورت

Spread the love

تحریر:جان گل کھیتران بلوچ


بلوچستان میں بلوچ اور پشتون سٹوڈنٹس کے ساتھ ناانصافیاں عروج پر ہیں بلوچ سٹوڈنٹس کو اپنے حقوق مانگنے پے ان کو گرفتار کیا جاتا ہے ان کو جیلوں میں بند کیا جاتا ہے ان پر ڈنڈوں سے وار کیا جاتا ہے بلوچ مائیوں بہنوں کو گھسیٹا جاتا ہے ان کی چادروں کو اتارا جاتا ہے یہ جو بلوچستان میں ہر گز ہر حال میں ممنوع ہے بلوچستان وہ سرزمین ہے جہاں عورت کی بہت بڑی عزت ہے دشمن کی عورتوں کو بھی عزت بخشی جاتی ہے جہاں عورت کا نام آجاتا وہاں بلوچ ہر معاملات کو لاک دی جاتی ہے قتل کے قتل بھی معاف کئے جاتے ہیں اسلام نے بھی عورت اور بچوں کو کسی بھی صورت میں ان کے ساتھ برا سلوک کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور ہماری بہنوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک آخر کیو کیا جاتا ہے ہم تو اپنا حق مانگنے نکلے ہیں ہم آپ سے کوئ آپ کا حق نہیں چھین رہے ہمیں تعلیم دو ہم تعلیم بجانے نکلیں ہیں ہمیں سڑکوں پے نکلنے پے مجبور کیا جاتا ہے ہم علم کے پیاسے ہیں ہمیں ہمارا حق دیا جائے ہماری عزتوں کو عزت میں رہنے دیا جائے اس طرح اگر چلتا رہے گا تو ہم سڑکوں پے نکلتے رہیں گے سٹوڈنٹس کا دنیا میں بہت احترام کیا جاتا ہے سٹوڈنٹس بہت طاقت رکھتے ہیں لیکن افسوس بلوچستان میں سٹوڈنٹس کو مجرم کی طرح سمجھا جاتا ہے کیا ہم اپنا حق بھی نہیں مانگ سکتے اس طرح سے سٹوڈنٹس کو ڈرا نہیں سکتے اگر آپ ایک ڈرائیو گے دس اور آواز اٹھائیں گے آن لائین کلاسز کی جاتی ہیں ہم جب کال کے لئے پہاڑوں پے جاتے ہیں ہماری مجبوریوں کو بھی مدِنظر رکھا جائے ہم اپنی آواز کہا کس کے پاس لے جائیں ہماری آواز سننے والا کوئ نہیں ہے اگر ہم آواز بلند کرتے ہیں تو ہم دبائے جاتے ہیں ہمارے اوپر ظلم کیا جاتا ہے ہمیں فیک کہا جاتا ہے ہمارے مطالبے منظور کئے جائے خدارا ہمیں سکون سے رہنے دیا جائے آج شال میں سٹوڈنٹس پے ظلم ہوتا ہے آج اس نے گزاری تو کل ہماری ہے باری آج شال تو کل مکران کل مکران تو پرسوں تربت پرسوں تربت تو ترسوں بارکھان ترسوں بارکھان تو اگے بلوچستان پھر ہم سب کو باری باری یہ ظلم سہنے پڑھیں گے

ہم علم کے لئے سڑکوں پے کھڑے تھے۔

تم سکون سے گھروں میں پڑھے تھے۔
ہم حق کے لئے کھڑے تھے۔
ہم کو اس کے لئے ڈنڈے پڑھے تھے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!