آو کہ اپنے حصہ کی شمع جلاتے چلے

Spread the love

تحریر:زوہان بلوچ

آج تک بنی نوع انسان نے جتنی بھی ترقی کی اس ترقی میں انسانی علم کے مسلسل اضافے نے ایک بہت بڑا کردار ادا کیا اور انسانی سماج کہ ارتقاء کو برقرار رکھنے کا سبب بنی جب انسان اس دنیا پر نمودار ہوئی تو انسان کو جو‌سب سے بڑا‌ خطرہ درپیش تھا وہ‌ فطرت کی طرف سے پیدا کردہ حالات تھے لیکن انسان کو فطرت پر قابو‌ مسلسل علم کے اضافہ کہ جدوجہد کے بدولت حاصل ہوا انسان نے اپنی انسانی عقل کو بروئے کار لاتے ہوئے موسم اور کی گرفت سے آزاد ہونے کے لیے آگ لگانے کے طریقہ کا دریافت کیے اور یہ خیال بنیادی طور پر انسانی عقل کی پیداوار ہی تھی ۔
یہ انسانی شعور ہی تھی جس نے انسان کو اس قابل بنایا کہ وہ شکاری جانوروں سے بچنے کے لیے پتھر کے نوکیلے اوزار بنائے اور انہی اوزاروں نے ہی انسان کو شکار سے شکاری بنایا اور خوراک کے نئے ذخائر حاصل کرنے میں مدد دی ۔
ہم آج کی دنیا کو ہی دیکھ لے اگر یہ دنیا اور آج کےانسانی سماج اور قدیم دنیا اور قدیم انسانی سماج سے زیادہ ترقی یافتہ ہے تو وہ علم کی پیداوار کی وجہ سے ہیں ہم آخر میں اس نتیجہ پر پہنچتے ہے اگر کل میں اور آج میں کوئی فرق ہے تو وہ صرف اور صرف شعور کا ہیں ایک مشہور لکھاری پیٹر واٹسن کے بقول "انسانی ترقی کی تاریخ دراصل انسانی عقل کی نشونما کی تاریخ ہے۔
"
انسان نے دنیا کی حدود کو پار کرکے آج دوسرے سیاروں میں ڈھیرا جمایا انسان نے یہ سب کام کسج جادوئی منتر سے نہیں بلکہ علم و دانش کی روشنی سے فیض یاب ہوکر کیا ۔

لیکن آج کی اس سرمایہ دارانہ دنیا میں ہم ایک واضح تفریق دیکھتے ہے کہ دنیا کا ایک حصہ جو مظلوم قوموں اور طبقوں کا سماجی معاشی اور علمی استحصال اور لوٹ کھسوٹ اور انسانی لاشوں کے کاروبار کی بنا پر عیش و عیاشیاں کر رہی تو دوسری طرف مظلوم قوموں کو اس مسلسل استحصال اورظلم وبربریت نے معاشی سماجی اور شعوری طور پر تاریکیوں میں دھکیل دیا ہے ۔

اسی طرح بلوچستان بھی گزشتہ دو صدیوں سے مسلسل سامراجی جبر اور لوٹ کھسوٹ کا شکار رہا اور جس کی وجہ سے آج ہمارا سماج مجموعی طور پر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت محروم ہوکر ذہنی طور پر پر مفلوج اور غیر مہذب ہو چکی ہے اور اس نظام نے ان عناصر کو سماجی رویوں میں اس حد تک جگہ دی ہے کہ آج ہمارے سماج میں رہنے والے لوگ سوال کرنے ہچکچاتے تاکہ اس کہ عوض اسے شرمندگی کا سامنا نا ہو آج لوگ عقلی اور علمی بات سننے سے گریز کرتے ہے
لیکن اسی سماج میں کچھ نوجوان ہاتھوں میں شعور کی شمع لیکر نکلے ہیں تاکہ ان تاریکیوں کو ختم کرسکتے جو لاکھوں زندگیاں نگل چکا ہے ان تاریکیوں کو ختم کرسکے جن تاریکیوں نے اس نظام کے مکروہ عزائم کی پردہ پوشی کی اور وہ تاریکیاں جس نے ہمارے ذہنوں کو زنجیروں میں جکھڑ رکھا ہے۔
اگر یہ نظام ہمارے بچوں منشیات کی اڈوں کی راہ دکھاتی ہے تو ان نوجوانوں نے ان کو لائبریریز کی راہ دکھانے کا عزم کیا ہے
پبلک لائبریری نال کی بحالی کے لیے طلبہ رابطہ کمیٹی نال کی کاوشیں قابل ستائش ہے اور یہ نوجواں روشنی کی گامزن ہے یہ نوجواں ایک زندہ سماج کا خواب دیکھتے ہے
اور یہ راستہ انتہائی کھٹن اور کانٹوں سے سجا ہوا راستہ ہے اور ان نوجوانوں کے لیے یہ سفر تنہا طے کرنا انتہائی دشوار ہوگا۔
ہم سب کا یہ فرض بنتا ہے کہ ان تاریکیوں کو مٹانے کے لیے ہم بھی ان نوجوانوں کا ساتھ دے کر اپنے حصہ کی شمع جلائیں اور ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!