شہید فدا کی سرزمین پہ سمیر سبزل کا راج آخر کار ذمہ دار کون؟

Spread the love

تحریر ۔ ایڈوکیٹ میران کمال

عطا شاد ہاسٹل کی بندش کو ختم کیا جائے۔

مکران میں اگر دیکھا جائے تو کلاشنکوف کی کلچر نہ ہونے کے برابر تھا اور منشیات کے عادی افراد ادھیڑ عمر کے لوگ تھے نوجوانوں میں منشیات کا اثر ان چھ سالوں میں سب سے زیادہ بڑھا۔
اب وہ کونسی وجوہات تھے جو نوجوانوں کو منشیات کے عادی اور کلاشنکوف کی طرف گامزن کر رہےتھے اور یہی لوگ پھر ڈیت اسکواڈ کے کارندے بنتے ہیں۔

2013 کے بعد جب مکران میں فوجی آپریشن شروع ہوا تو سب سے پہلے عطا شاد ہاسٹل کی بندش، ڈیلٹا سینٹر بیلڈوز اور بلوچی لیٹریچر پر پابندی عائد کر دی گئی اس کے بعد مند سے لے کر آواران تک اسکولوں کو فوجی چھاونی بنائ گئی۔

اب 2013 کے بعدجب طلباء سیاست کا خاتمہ ہوا مکران سے سیاست پھر سے نام نہاد قوم پرستوں کے ہاتھ لگ گیا تو ذمہ دار کون ریاست، ریاستی دہشتگرد یا سیاسی قومپرست پنڈت۔

چھ سال طلباء سیاست کا خاتمہ مکران سے
چھ سال عطا شاد ہاسٹل کی بندش وہ پاک مقام جو سیاست کی نرسری تھی ہماری گروگل تھی۔

سیاسی پنڈتوں نے ان چھ سالوں میں مکران میں ڈیتج اسکواڈ اور منشیات کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
نام نہاد قوم پرست یا سیاسی پنڈتوں نے شہید فدا کی تربت کو سمیر سبزل کی تربت بنانے میں جو گناہ کیا ہے اس کا ازالہ عوام ضرور ان کو وقت آنے پر دینگے
شہید حمید کے کیچ کو کس طرح ناپاک عزائم نے دلالوں کا اڈہ بنایا ہے اس کا خمیازہ شاید ان کے سیاسی وارث عرصوں پوری نہیں کرپائیں گے؟

اگر مکران یا پوری بلوچستان کو بچانا ہے منشیات سے ،ڈیتھ اسکواڈ سے، تو پھراس کیلئے اسکولوں سے لے کر ہمیں اپنی نو نسل تک کو سیاسی شعور دینا ہوگا

عطا شاد ہاسٹل کی بندش کو ختم کرکے پھر سے کیچ کے طلباء کو ذہنی شعور دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے نوجوان منشیات اور ڈیتھ سکواڈ جیسے غلیظ ترین پیشہ سے پاک اور شعور سے لیس کرنا ہی بہترین مستقبل ہو سکتا ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!