کون اندھیری میدان میں

Spread the love

تحریر ۔ سلیم مینگل

کون کس وقت کس جگہ پہ کس کا کس لیڈر ،منصب کا ٹھکیدار ، (بیگانی) انسان سے ، سماج سے ، غریب عوام سے، ووٹر سے ، اس وطن کے پھنسے ہوئے باسیوں سے ، یہ وقت بھی گزر جائے گا ہونا تو یہ چائیےتھا موجودہ وقت ہو یا سابقہ ادوار میں اربوں روپے جمع کرنے والے سیاسی فن کار میدان میں ہوتے ایک ساتھ عوام کی خدمت کرتے مشکل کے اس سخت گھڑی میں
میدان بھی ایسا میدان جس پہ موجود ہونے والا زندگی بھر یاد رکھا جائے گا۔
ایسے حالات میں لیڈر کی پہچان ہی ہوتی ہے ایک طرف تھیلسیمیا کے مریض اور دوسری طرف غریب عوام بھوک سے کھلے آسماں میں مسیحا کے انتظار میں جن سے ہمارا ہر ایک کا ایک نہ ایک رشتہ ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس رشتہ کو قائم رکھنے میں کونسا سا انسان سر فہرست ہو کر ایک حقیقی لیڈر بن کر مادر وطن کے پھنسے ہوئے غریب عوام کو اپنا بنا کر ایک مخلص لیڈر کا کردار ادا کریں گا
دنیاوی زندگی میں بہت سے رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں مگر اصل رنگ وہ ہوتا ہے جو دوسروں کے درد و غم میں شریک ہو۔
آج جہاں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور کاربار بند ،خوف کا عالم ،لاک ڈاون کی وجہ سے اُن کے پاس کھانے کو کچھ بھی نہیں ایسے میں ہمارا کیا فرض بنتا ہے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔
آج بلوچستان جہاں کچھ سیاسی مداری اپنے آپ کو خدا بناکر لوگوں پر ظلم اور ستم کررہے ہیں جہاں لوگوں کو راشن اور احساس پروگرام کے نام پر خوار کیا جارہا ہے اور وہ راشن اور پیسہ بھی نالائق حکومت کے اپنے کمیٹی کے ممبران میں تقسیم ہو رہے ہیں۔
ایسے حالات میں ایک رہنماء جو غریبوں کے رہبر بن کے آئے ہے
تھیلسیمیا کے مریضوں کے لئے خود بھی خون کا عطیہ دیا اور اسی عمل کو اس کے ہمدردوں نے اپنا کر اپنے خون کا عطیہ پیش کر کے انسانی خدمت سے پیچھے نہیں ہٹے.اب آپ حیران ہونگے کہ اس مشکل کے گھڑی میں وہ مسیحا کون ہو سکتا ہے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی ہے تاریخ گواہ ہے ہمشہ مشکل کے گھڑی میں نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی صفہ اول میں پایا گیا ہے ، سلامت رہو

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

error: Content is protected !!