بنیادی صفحہ / اردو / چلو آو بیٹا افطاری کرتے ہیں

چلو آو بیٹا افطاری کرتے ہیں

افسانہ نگار: شاد بلوچ

امی، امی، امی… نوید کی چیخیں نکل رہے تھے۔ وہ سہماہوا تھا۔ جی بیٹا! کیا ہوا؟ امی! ابو پچھلے رمضان تو ہمارے ساتھ تھے اور کتنے خوشی سے رمضان کے ایام گزرہی تھیں، ابو کی بہت یاد آرہی ہے، کہیں مہینوں سے ابو ہمارے پاس نہیں آیے ہیں ۔ رشیدہ آہ بھرنے لگی اور کہنے لگی…. بیٹا تمارے ابو ہمیشہ ہمارے ساتھ ہیں ۔ تم گھبراؤ نہیں، ابو کچھ دن بعد لوٹ آئینگے۔ اپنی باتوں میں مگن ہوکر رشیدہ پوری طرح ماضی کی ان دریچوں میں چلی جاتی ہے۔
رشیدہ، رشیدہ جلدی کرو…. آج کہیں جاناہے اور بتایا بھی تھاکہ آج بچوں کے لیئے نئے کپڑے اور نئے جوتے بھی لانےہیں۔ جی ابھی آئی ، رشیدہ پہنچتی ہے اور انور کے چہرے پر خوشی اور محبت کا نور دیکھ کر کہتی ہے، واہ جی واہ! آج تو بڑے خوش نظرآرہے ہیں آپ۔ ہاں تو آج مزدوری کے پیسے ملنے ہیں اور آج بچوں کے لیئے نئے کپڑے اور نئے جوتے بھی تو خریدکرلانے ہیں ۔ کیونکہ عید بھی قریب آتی جارہی ہے، رشیدہ بہت خوش ہوتی ہے اور وہ سیدھا انور کے جسم سے لپٹ جاتی ہے اور انور انکی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے کہتاہے، رشیدہ دیکھو میری جان، ہم بہت خوش نصیب ہیں ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں لیکن اللہ نے اتنی اچھی زندگی سے نوازا ہے کہ ہم دونوں ہمیشہ اسکے شکرگزار ہونگے۔۔
محبتوں کی اس سنگھم میں انور اور رشیدہ اپنی خالق کے شکرگزاری کررہے ہوتے ہیں۔ کہ اچانک دروازے پر دستک ہوتی ہے اور زمینی خداؤں نے گھرکا دروازہ توڑتے ہوئے اندر تشریف لاتے ہیں۔ چہرے پر کالے رومال، جسم ہتھیاروں سے لیس، پیروں میں بڑے جوتے اور منہ میں گالی لیکر پوچھ رہے ہیں….. انور کہاں ہے؟؟؟
رشیدہ ایک دم انور آگے یوں کھڑی ہوتے ہوئے کہتی ہے۔تم میری لاش سے ہوکر انور تک پہنچ جاؤ۔ انور آگے بڑھتا ہے اور کہتاہے جناب کیا ہوا؟ میں ہی انور ہوں۔
نقاب لگائے چہروں نے انور کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔ انور نے حیرانگی سے پوچھا۔ جناب میرا جرم کیا ہے؟ ان ظالموں میں سے ایک آگے بڑھا اور انور کے سینے پر کلاشنکوف کی نلی رکھ کر کہنے لگا،تم نے ملک غداروں کے ہاں جاکر انکی گھر کی لپائی کی ہے۔
انور سہمے سہمے جناب میں مزدور ہوں اور میرا کسی کے زاتی معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے،میں بس اپنی گھر اور اپنے بچوں کی کفالت کے لیئے مزدوری کرتاہوں۔
یوں یہ معصومانہ الفاظ کسی ڈھکی چہرے کو پسند نہیں آئے۔اور وہ بندوق کی پیٹ سے انور پر حملہ آور ہوا اور انوراپنے آپ کو برقرار نہ رکھ پاتے ہوئے زمین پر جا گرا۔ رشیدہ یہ ماجرہ دیکھ نہ سکی اور بے ہوش ہوکر گرگئی۔ اورجب اس نے ہوش سنبھالا ۔ تو خود کوپسینے میں شرابور پایا ،جسم ڈھیلا، دماغ سن اور ہاتھ کانپتے ہوئے محسوس کر کےانور کو صدائے بلند کرتی ہوئی باہر نکلتی ہے تو وہاں سوائے اپنی چیخ کے نہ کسی کو سنتی ہے نہ ہی اپنے علاوہ کسی کو دیکھتی ہے۔۔
نوید کی آواز آتی ہے…. اماں، اماں افطاری میں بس دس منٹ باقی ہیں۔ رشیدہ آنسو پونچھ لیتی ہے اور کہنے لگتی ہے ”چلو آؤ بیٹا افطاری کرتے ہیں۔“

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

ایک شعوری سوال

تحریر : عامر نذیر بلوچ   کائنات میں ہمیشہ سے روایات چلتا ...

مختلف سوچ اقوام کی مضبوطی کا سبب ہے

تحریر: نعیم قذافی   انسان جسم و قد، رنگ یا دیگر اعتبار ...

اردو اور کھیترانی

  تحریر ۔ جان گل کھیتران بلوچ اردو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھیترانی کیا حال ...

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کے نو منتخب وائس چیئرمین کی حلف برداری

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر (ایس ایس ایف) کے نو منتخب وائس چیئرمین کی ...

بلوچ طلبہ کو مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے

تحریر: احتشام بلوچ   انسان کئی ہزار سالوں سے اس کرہ ارض ...

error: Content is protected !!