بنیادی صفحہ / اردو / معاف نہ کرنے کی وجوہات اور اس کا حل

معاف نہ کرنے کی وجوہات اور اس کا حل

تحریر:_ نعیم قذافی

 

سوال: سر! لوگوں کو معاف کرنے کے بعد بھی اگر دل میں کھوٹ اور بات نہ کرنے کا رویہ رہے تو کیا کرنا چاہیے؟

جواب: جس کو آپ دل خیال کر رہے ہیں درحقیقت وہ دل نہیں بلکہ ذہن ہے۔ آسان لفظوں میں یوں کہیں کہ یہ دل کا معاملہ نہیں بلکہ ذہن کی کٹھ جوڑ ہے کیونکہ دل کے آگے ذہن ہمیشہ حائل بن کر رہتا ہے۔

معاف نہ کرنے کی وجوہات اور اس کا حل:
پہلی وجہ:
کہیں نیت میں کوئی کھوٹ تو نہیں چناچہ ایمان کمزور ہو تو وہ نیت پر اثرانداز ہوتا ہے جس پر دل معاف یعنی احسان نہ کر کے بات کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا؛ اگر یوں کہے تو یہ بےجا نہ ہو گا کہ آپ کے دل پر مہر تو نہیں لگا جس کی وجہ سے آپ دوسروں کو معاف کرنے کے لیے آمادہ نہیں یا معاف نہیں کر پا رہے۔ آپ دوسرے کو معاف کر دیں۔ اسے معاف کرنے سے آپ اس پر احسان کرتے ہیں۔ احسان کرنے والا کس پر احسان کرتا ہے؟ اپنے آپ پر احسان کرتا ہے۔ دوسرے پر احسان دراصل اپنے آپ پر احسان ہے۔

دوسری وجہ:
کہیں آپ کے قلب میں انتقام لینے کا ارادہ تو نہیں جس کی وجہ سے اپنے اندر آپ کی آگ لگی ہے۔ اپنے اندر کا آگ نکالنے کے لئیے آپ دوسرے پر احسان کرے کیونکہ اپنے اندر سے وہ ناسور نکالنا ہے جو ناپسندیدگی کا ہے، نارضامندی کا ہے اور دوسرے کی بے وقوفی کا ہے اور دوسرے کے ظلم کے خیال کا ہے۔ پھوڑا تو آپ کے اندر ہوتا ہے اور تکلیف میں بھی آپ ہو، چاہے جس حوالے سے آپ کا کوئی بھی ارادہ ہے اسے بدل ڈالئے پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ کا دل نہ صرف معاف کرنے کے لیے آمادہ ہو گا بلکہ وہ پھر بات کرنے کے لیے بھی بیتاب ہو سکتا ہے۔

 

سوال: سر! اس الجھن کا حل تو مل گیا۔ اب آپ جناب احسان کے بارے کچھ بتائیں کہ احسان کیا ہے یہ جاننے کی مجھے بہت تجسس ہے، بڑا بیتاب ہوں۔ یہ معاملہ بھی حل کر دیجئے؟

جواب: نامور شخصیت حضرت واصف علی واصف بلکل واضح اور مدلل الفاظ میں احسان کے حوالے سے کہتے ہیں کہ جو آدمی آپ کی طرف بُری نیت کے ساتھ آئے اور وہ آپ کی طرف سے کوئ اچھا عمل لے کے جائے تو سمجھ لیں کہ آپ نے اس پر احسان کیا۔ مثلا:ً_ آپ کے گھر کے اندر ایک چور چوری کرنے کی نیت سے آتا ہے اور آپ پکڑ کر اسے معاف کر دیتے ہیں، رپورٹ کرنے کی بجائے اس کے برعکس آپ اسے کچھ پیسے دے دیتے ہیں جس کے لیے وہ آیا ہے؛ شاید تھوڑی سی رعایت کرنے پر پھر وہ انسان بن جائے۔ دوبارہ آپ حضرت واصف علی واصف فرماتے ہیں کہ احسان، معافی کا اگلا درجہ ہے۔ اگر تم احسان کر دو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔ اگر تم معاف کر دو تو تمہارے لئے بہتر ہے اور تمہارے لئے یہ کرنا آسان ہے۔ تم معاف کر دو تاکہ تم معاف کئے جاؤ۔

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

ایک شعوری سوال

تحریر : عامر نذیر بلوچ   کائنات میں ہمیشہ سے روایات چلتا ...

مختلف سوچ اقوام کی مضبوطی کا سبب ہے

تحریر: نعیم قذافی   انسان جسم و قد، رنگ یا دیگر اعتبار ...

چلو آو بیٹا افطاری کرتے ہیں

افسانہ نگار: شاد بلوچ امی، امی، امی… نوید کی چیخیں نکل رہے ...

اردو اور کھیترانی

  تحریر ۔ جان گل کھیتران بلوچ اردو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھیترانی کیا حال ...

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کے نو منتخب وائس چیئرمین کی حلف برداری

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر (ایس ایس ایف) کے نو منتخب وائس چیئرمین کی ...

error: Content is protected !!