بنیادی صفحہ / اردو / بلوچ طلبہ کو مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے

بلوچ طلبہ کو مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے

تحریر: احتشام بلوچ

 

انسان کئی ہزار سالوں سے اس کرہ ارض پر رہ رہا ہےـ مختلف ضروریات اور واقعات سے سیکھتا رہا ہے اور منظم سے منظم تر ہوتا چلاگیا ہے۔ یہی ایک خاصیت انسان کو دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اور آج بھی وہی قومیں طاقتور ہیں جو ماضی پر ڈٹے رہنے کے بجائے حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنی ضروریات کے مطابق پالیسیز ترتیب دے رہے ہیں ۔

تو کیوں نہ ہم بھی اپنی موجودہ ضروریات کو سامنے رکھ کر ٹھوس حکمتِ عملی تریب دیں۔ سیاسی بحران پہلے سے موجود ہے۔ کچھ طلبہ تنظیمیں پارلیمانی جماعتوں کے ونگ کے طور پر کام کر رہی ہیں تو کچھ اس کے بالکل برعکس محض بلوچ ہونے کے ناطے ایک غیر سیاسی چھتری تلے کھڑے ہیں۔ سٹوڈنٹس کی خدمت اور رہنمائی ہی اِن کی منشور میں شامل ہے اور کچھ تنظیمیں طلبہ سیاست کے نام پر اکٹھے ہیں۔ سیاسی تو ہیں لیکن کسی پارلیمانی و غیر پارلیمانی جماعت کے ونگ نہیں۔ اِن میں ہر کوئی اپنی بصیرت کے مطابق قومی خدمت کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ہر کسی کے ہاں قومی خدمت کے الگ خدوخال ہیں۔ ایک دوسرے کو سننے، سمجھنے اور تعاون کے بجائے غدار اور قومی دشمن ٹہرا کر ایک دوسرے کا گریباں چاک کرنے کے کوشش میں ہیں۔ اِس باہمی نفرت اور حقارت کا فائدہ یہ ہوا کہ ایک مشترکہ اور حقیقی حریف کو ڈھونڈنے میں سب ناکام رہے۔ ایک ستم یہ ہوا قومی دانشوروں اور لیڈروں نے یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی کبھی اس پر بات کرنے کا گوارا نہیں کیا کبھی اپنے مستقبل کے ان چراغوں کو صحیح ڈگر پر لے جایا جا سکے۔

اب بلوچ طلبہ دو اہم مسئلوں کو سامنا کر رہے ہیں۔ ایک حالیہ دنوں طلبا کی جبری گمشدگیوں میں آنے والی تیزی ہے۔ جس میں پنجاب ،اسلام آباد، بلوچستان اور دیگر صوبوں میں زیرتعلیم بلوچ نوجوانوں کو روز لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ اس پر بلوچ تنظیموں یا بلوچ کونسلز کی طرف سے کوئی ری ایکشن دیکھنے کو نہیں ملا۔ نا ہی کوئی متفقہ لائحہ عمل سامنے لایا گیا ہے۔ اور مزید باشعور نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اب ضرورت اِس انر کی ہے کہ ہم ایک باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے طرف پہل کریں۔ اور کوئ گمشدہ بلوچ طالب علم جس علاقے سے ہو یا جس سیاسی یا غیر سیاسی جماعت کا حصہ ہو۔ اس کو بطور بلوچ سٹوڈنٹ اپنائیں۔ اور ان سب اسیران کیلئے مشترکہ طور پر سوشل میڈیا پر کیمپین چلائیں۔ اپنے مستقل کے معماروں کو بچانے میں اپنا مجموعی کردار ادا کریں۔

دوسرا اہم مسئلہ یکم جون سے آن لائن کلاسز کے اجراء کا اعلان ہے۔ اس سے بھی سب سے زیادہ نقصان بلوچ سٹوڈنٹس کو ہوگا۔ بلوچستان کے اکثروبیشتر علاقوں میں نیٹ کی سہولت تک نہیں ہے۔ قلات،تربت، ڈیرہ بگٹی، کوہلو، واشک، اوآران اور دیگر علاقوں میں بھی طلبا کو آن لائن کلاسز لینے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض علاقوں میں بجلی تک نہیں اور اکثر سٹوڈنٹس غریب گھرانوں سے ہیں جن کے پاس اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کی سہولت تک میسر نہیں۔ ان سب کے لئے ایک مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے تب ہماری آواز پراثر ہوگی اور ہمارے مسائل ہائی لائٹ ہوں گے۔

لاک ڈاون کی وجہ سے اگرچہ مشکلات زیادہ ہوسکتی ہیں۔ مگر ھم سارے بلوچ سٹوڈنٹ پلیٹ فارمز کے چئیرمین جو صوبہ بلوچستان میں کام کر رہے ہیں یا دیگر صوبوں میں، ایک ہنگامی رابطہ کمیٹی کے ذریعے آپس میں رابطہ کر کے ایک دوسرے کو اعتماد میں لے سکتے ہیں. تو کیوں نہ اتفاق اور اتحاد سے مشترکہ جدوجہد کی لئے ایک قدم اٹھا کر اپنے طلبہ کو اور ان کی مستقبل کو بچانے کی حتی الوسع جدوجہد کی جاۓ۔

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

ایک شعوری سوال

تحریر : عامر نذیر بلوچ   کائنات میں ہمیشہ سے روایات چلتا ...

مختلف سوچ اقوام کی مضبوطی کا سبب ہے

تحریر: نعیم قذافی   انسان جسم و قد، رنگ یا دیگر اعتبار ...

چلو آو بیٹا افطاری کرتے ہیں

افسانہ نگار: شاد بلوچ امی، امی، امی… نوید کی چیخیں نکل رہے ...

اردو اور کھیترانی

  تحریر ۔ جان گل کھیتران بلوچ اردو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھیترانی کیا حال ...

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کے نو منتخب وائس چیئرمین کی حلف برداری

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر (ایس ایس ایف) کے نو منتخب وائس چیئرمین کی ...

error: Content is protected !!