بنیادی صفحہ / اردو / کورونا اور ہماری عوام

کورونا اور ہماری عوام

تحریر : علی گل سرپرہ

کرونا کو لیکر ایک عجیب سی بحث چل پڑی ہے ،گھروں میں بیٹے لوگ دانشور ،ڈاکٹر،سائنس دان، نجومی،کفار کی سازشوں کو منظر عام پے لانے والے لکھاری بن چکے ہیں ۔دیوبندی کو تبلیغ کے خلاف سازش لگتی ہے،بریلوی کو مزار بند کرنے کی سازش تو شیعہ کو جلوس کے خلاف سازش،تاجروں کو کاروبار کے خلاف سازش ،پراویٹ اسکول والوں کو تعلیم کے خلاف سازش کوئی بھی اسے سازش سے کمتر نہیں سمجھتا ۔

وفاق کو غریبوں کا درد ستا رہا ہے کہ لاک ڈاون سے غریبوں کو نقصان ہے توصوبے بھی پریشان کے لاک ڈاون کے خلاف تو ساری عوام ہے ،عام بندے سے لے کر اپوزیشن تک سب سیاست کرنے میں مصروف ہیں۔
مسلمان ممالک کی اکثریت نے نماز مسجد میں پڑھنے پر پابندی لگا دی لیکن ہمارا مذہبی جذبہ ساری دنیا سے زیادہ ہے ایمان پختہ ہے کیا مجال کوئی ہمیں مسجد جانے سے روکے،کیا مجال اس کافر کرونا وائرس کی جو ہمیں نقصان پہنچائے، ہم مسجد خود بھی جائیں گے ،بچوں کو بھی لے جائے گےاور ہاتھ تو کیا گلے بھی ملیں گے۔غرض یہ کے حکومت کی دجالی سازشوں کو کامیاب ہونے نہیں دیں گےکیونکہ جو حکومت ہمارے مطابق نہیں چلتی تو وہ دجالی حکومت ہو گی۔حکومت نے اتنے دن لاک ڈاون لگایا فائدہ کیا ہواہم نے تو کسی کرونا وائرس کو نہیں دیکھا،مسجدیں آباد کیں کچھ بھی تو نہیں ہوا۔

ہمارا معاشرہ ابھی تک ان باتوں میں الجھا ہوا ہے کیونکہ ہم اتنے بے حس لوگ ہیں جنہیں کبھی کسی کا درد محسوس نہیں ہوتا جب تک وہ خود یہ درد محسوس نا کریں۔ہمیں تنقید کرنے کا موقع چائیے۔

کرونا وائرس کہاں سے آیا کسی کی سازش تھی یا قدرتی آفت یہ بحث اس وقت ہمارے کام کی نہیں کیونکہ اس وقت سوال یہ ہے کہ کرونا وائرس کی حقیقت ہمارے معاشرے میں کیا ہے۔

میں نے لاک ڈاون میں مطالعہ اور بچو ں کو گھر میں پروگرامنگ پڑھانا شروع کر دیا تاکہ میں اور بچے مصروف رہیں اور گھر سے نکلنے کا سوچیں بھی نہیں،گھر کے باقی لوگو ں سے بھی التجا کی کہ نماز گھر پر پڑیں گھر سے باہر نماز کے لیے بھی نا نکلیں لیکن مسجد سے روکنا ان حالات میں بھی مشکل ثابت ہوا،مجھے خوف تھا کے گھر کے بچے اور بزرگ اس وبا سےمتاثر نہ ہوں ، وہی ہوا جس کا خوف تھا،میرے والد گھر سے نماز کے لیے نکلتے تھے،ان کا کہنا تھا اسلامی نظریتی کونسل کے ایس او پیز کے مطابق مسجد میں نماز ادا کی جا رہی ہے تو فکر کی کوئی بات نہیں!رمضان کے پہلے جمعے سے ان کے کبھی گردے تو کبھی مثانے تو کبھی معدے میں تکلیف تھی وہ ڈاکٹر کے پاس بھی گئے اور دوا بھی لینا شروع کیالیکن فرق نہیں پڑ رہا تھا کچھ دن بعد میرے بھانجے کے گردے میں تکلیف شروع ہوئی اور ان کے گردے سے ایک چوٹا پتھر بھی نکلا لیکن تکلیف کم نہیں ہوئی تو وہ سول ہسپتا ل چلے گئے الٹرا ساونڈ بھی کروایا ڈاکٹرنے کہا پتھر نکلنے کے بعد انفیکشن ہو ا ہے دوا لے لو ٹھیک ہو جاو گے، جسم کے ایک ایک جوڑ میں شدید درد جاری رہا پھر میں نے جب اس سے تفصیل پوچھنا شروع کیا تواُس کے ایک جواب نے مجھے یقین دلایا کے یہ گردے کی بیماری نہیں اْس نے کہا کہ یہ درد مجھے زندگی میں پہلی بار ہو رہا ہے۔ جب میں نے والد سے پوچھا تو یہی جواب اور بھائی سے پوچھا تو بھی یہی جواب ملا۔اب میں نے صحت سے منسلک دوستوں سے معلومات لینا شروع کر دیا تو مختلف لوگو ں کی مختلف رائے تھی ،کچھ لوگوں کا کہنا تھا کے حکومت پازیٹو کیسز کو بڑھانے کے لئے سب کو پازیٹو کر رہی ہے تو ٹیسٹ کروانا فضول ہے لیکن کراچی کے ایک ڈاکٹر دوست نے کہا کے کراچی میں بھی دو قسم کے ڈاکٹرز ہیں کچھ اسے حکومتی ڈرامہ کہتے ہیں کچھ اسے حقیقی وبا،تو آپ لوگوں کی باتو ں کو چوڑ کر ٹیسٹ کروا لو ، اُن کی بات مان کرمیں نے اپنا اور دو فیملی ممبرز کا ٹیسٹ کروایا اگلے دن پتا چلا میر ا نیگیٹو ہے اور باقی دو کا پازیٹو، مجھے یقین ہو گیا کے ٹیسٹ بلکل صحیح ہیں ۔اب گھر کے تمام افراد کو اُن کے صحت کے حساب سے الگ الگ کمروں تک محدود کر دیا،پھر میں نے ہیلپ لائن ۱۱۲۲ پر کال کیا اور گھر پر ٹیسٹ کے لئے ٹیم کا مطالبہ کیا تھو ڑی دیر بعد ان کی کال آئی اور سب کچھ بتانے کے بعد مجھے سننے کو یہ ملا کہ آپ یہ دوا ئی استعمال کریں اور جوس کا استعمال زیادہ کریں،مجھے حیرت ہوئی کے یہ لوگ تو مشورہ دے کر کال کاٹ رہے ہیں تو ایسے ہیلپ لائن کا فائدہ کیا؟

ساتھ ہی بھانجے کے نمبر پر سرویلنس ٹیم کی کال آئی تفصیل جاننے کے بعد انہوں نے ٹیم بھیج دی لیکن عجیب بات یہ تھی ان کے پاس کٹس کم تھے صرف ان لوگوں کے ٹیسٹ کئے جن میں علامات تھیں،اب ہم گھر میں بغیر کسی حکومتی سرپرستی کے مریضوں کا علا ج کر رہے ہیں ،حکومتی دعوے مجھے آج بھی بے معنی نظر آرہے ہیں،اور اس پریشانی میں مجھے یہ بھی سننے کو ملا کے لاک ڈاون میں نرمی کر دی گئی ہے۔جب کے مجھ سے اکثر لوگ رابطہ کر رہے ہیں کے یہ علامات تو ان میں بھی ہیں لیکن وہ بدنامی سے ڈرتے ہیں یا پھر یہ ڈر ہے کے کہیں ہمیں اسپتال منتقل نا کردیا جائے،ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں سرکاری ڈاکٹرز کہہ چکے ہیں کہ آپ کو کرونا وائرس نہیں ہے جبکہ علامات سارے یہی ہیں۔مجھے تو یہ وائرس پورے کوئٹہ میں نظر آگیا لیکن حکومت کو پتا نہیں کیو ں نظر نہیں آ رہی۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کے فورا ہمارے علاقے کی سرولنس شروع ہو جاتی جو ہوا نہیں۔
حکومت ،اسلامی نظریائی کونسل اور عوام اس وائرس کے پھیلاو کو روکنے میں برابر کے قصور وار ہیں۔

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

ایک شعوری سوال

تحریر : عامر نذیر بلوچ   کائنات میں ہمیشہ سے روایات چلتا ...

مختلف سوچ اقوام کی مضبوطی کا سبب ہے

تحریر: نعیم قذافی   انسان جسم و قد، رنگ یا دیگر اعتبار ...

چلو آو بیٹا افطاری کرتے ہیں

افسانہ نگار: شاد بلوچ امی، امی، امی… نوید کی چیخیں نکل رہے ...

اردو اور کھیترانی

  تحریر ۔ جان گل کھیتران بلوچ اردو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھیترانی کیا حال ...

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کے نو منتخب وائس چیئرمین کی حلف برداری

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر (ایس ایس ایف) کے نو منتخب وائس چیئرمین کی ...

error: Content is protected !!