بنیادی صفحہ / اردو / ذہنی سکون

ذہنی سکون

تحریر: صابر محمد حسنی

 

انسان کے زہنی سکون کا دارو مدار اسکے سوچ سے وابستہ ہے ایک انسان اگر زہنی طور پر سکون میں رہنا چاہتا ہے اور زہنی سکون جیسے آساٸش سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے تو وہ اپنی سوچ کو ہر اُس کام کی طرف راغب کرے جو اسے زہنی طور پر سکون پہنچاۓ۔
نفسيات کی لیکچرر کلاس میں داخل ہوٸی اور پانی سے بھرا گلاس ہاتھ میں اٹھا کر پوچھا اسکا وزن کتنا ہے کلاس سوچ میں پڑ گٸی مگر سوال پوچھنے پر سب نے اپنی سمجھ کے مطابق وزن بتایا
لیکچرر نے گلاس بدستور ہاتھ میں اٹھاۓ رکھا اور کہا ایک منٹ تک اٹھاۓ رکھو تو اسکا وزن معمولی ہے ایک گھنٹے تک اٹھاۓ رکھو تو میرا ہاتھ دکھنے لگے گا ایک دن اٹھاۓ رکھوں تو میرا ہاتھ شل ہوجاۓ گا جبکہ گلاس اور پانی کا وزن اتنا ہی ہے
اسی لٸے پریشانیاں منفی سوچ اور نادیدہ خوف بھی وزن رکھتے ہیں ان کا وزن زہن اٹھاتا ہے. کچھ دیر کے لٸے ان کے بارے میں سوچو گے تو وزن معمولی ہوگا. ہفتوں یا مہینوں تک سوچتے رہو گے تو زہن اور جسم دونوں شل ہو جاۓگے.
زندگی میں دشواری اور رکاوٹيں آتیں ہیں جو ہمیں خوفزدہ اور پریشان کر دیتے ہیں مگر ان منفی حالات اور پریشانیوں کو حاوی ہونے نہ دے ورنہ یہ زہنی سکون جیسی نعمت سے محروم کر دیں گے ۔
آج کل کے بڑھتے ہوۓ مساٸل، دولت کی حوس اور لالچ نے لوگوں سے زہنی سکون چین لیا ہے اور لوگ مساٸل سے دوچار ہیں ہر دوسرا شخص زہنی سکون کے متلاشی ہیں لیکن ہماری بدبختی یہ ہے کہ ہم وہ راہ اپنانے سے قاصر ہیں جو ہمیں زہنی سکون جیسے دولت سے مالامال کرے۔
ہمیں بہت سی جگہ ایسے پرانے واقعات یا کتابوں کے مطالعہ سے یہ دیکھنے کو ملتا ہے جہاں لوگ اپنے مال، دولت چھوڑ کر ایک ایسا راستہ اپناتے ہیں جہاں وہ زہنی سکون جیسی نعمت سے آراستہ ہو۔
زہنی سکون ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس کے لٸے انسان اپنا جان مال اور وقت لگا لیتا ہے تا کہ وہ اس نعمت سے استفادہ ہو.
بعض اوقات زہانت اور میچورٹی یہ نہیں کہ جہاں آپکی کوٸی قدر نہ ہو اور آپ مہرومحبت کے نام پر برداشت کرے آپکا زہنی سکون برباد ہو لیکن پھر بھی آپ اسی ماحول میں رہے رشتے نبانے کے ناطے محبت بھانٹے کے ناطے
بلکہ زہانت اور میچورٹی یہ ہے کہ آپ اس ماحول ان لوگوں سے دور رہے جہاں آپکی کوٸی قدر نہ ہو اور آپ زہنی طور پر سکون میں نہ ہو کیونکہ زہنی سکون سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیرت طیبہ کے ذریعہ اس بات کی تعلیم دی کہ دوسروں کے حقوق کو پورا کر کے سکون ملتا ہے۔ اپنے فرائض کو اچھے طریقے سے ادا کر کے اپنے ضمیر کو مطمئن رکھا جائے تو یہی سکون کا ذریعہ ہے.
لوگوں میں جب حسد جنم لیتی ہے تو زہنی سکون چلا جاتا ہے کیونکہ حاسد انسان ہر وقت اسی پریشانی میں رہتا ہے کہ دوسروں کو یہ چیز یہ خوشی یہ نعمت کیوں ملی
بعض اوقات ہمیں یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے جہاں لوگ دوری اختیار کرتے ہیں ان رشتوں سے ان دوستوں ان ماحول سے جہاں وہ زہنی سکون سے محروم ہو کیونکہ بعض اوقات زہنی سکون سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا.
ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل

اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

ایک شعوری سوال

تحریر : عامر نذیر بلوچ   کائنات میں ہمیشہ سے روایات چلتا ...

مختلف سوچ اقوام کی مضبوطی کا سبب ہے

تحریر: نعیم قذافی   انسان جسم و قد، رنگ یا دیگر اعتبار ...

چلو آو بیٹا افطاری کرتے ہیں

افسانہ نگار: شاد بلوچ امی، امی، امی… نوید کی چیخیں نکل رہے ...

اردو اور کھیترانی

  تحریر ۔ جان گل کھیتران بلوچ اردو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھیترانی کیا حال ...

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کے نو منتخب وائس چیئرمین کی حلف برداری

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر (ایس ایس ایف) کے نو منتخب وائس چیئرمین کی ...

error: Content is protected !!