بنیادی صفحہ / اردو / خود شناسی

خود شناسی

تحریر:یاض حسین رونجھا

 

خود شناسی کی تعریف
’’انسان کا اپنے مقام ، اپنی صلاحیتوں اور ذمہ داری سے آگاہ ہونا۔‘‘
خود شناسی انسان کی زندگی میں بڑی اہمیت رکھتی ہے
خود شناسی کی تعریف یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آپ نے اپنے آپ پر نگا رکھنی ہے کہ
صبح جاگنے سے رات سونے تک خود کو دیکھنا ہے کہ آپ کیا کیا کرتے ہیں کیا کیا سوچتے ہیں دوسروں کے بارے میں کیا گمان رکھتے ہیں دوسروں سے کیا مفادات چاہتے ہیں دوسروں کی کیا خدمت کرنا چاہتے ہیں آپ کے دوسروں کیلئے جزبے کیا ہیں اللہ کیلئے سوچ کیا ہے انسانیت کیلئے سوچ کیا ہے

اِن تمام سوالات کا جواب اپنے آپ سے جاننا بہت اہم ہے
آج آپ اپنے معاشرے کی مثال لیں۔۔نوجوان نسل جوکہ خود شناسی سے مکمل غافل ہیں اُن کو معلوم نہیں کہ ہم کس راہ پر جارہے ہیں ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے
آج میں اپنے معاشرے میں کئی ایسے نوجوان دیکھ رہا ہوں جو اپنی زندگی کو بے مقصد گزار رہے ہیں اور اپنا قیمتی وقت فضولیات میں ضائع کررہے ہیں جس کی ایک وجہ خود شناسی سے لاتعلقی اور لاعلمی ہے

ہمیں چاہیے کہ ہم سب سے پہلے اپنے آپ کو جانیں کہ میں کون ہوں میرے وجود کا مقصد
کسی نے اپنے وجود کو دولت پیسے کے حصول تک رکھا کوئی وجود کے مقصد کو عشقِ مجازی سمجھ بیٹھا الغرض جس نے جو سمجھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کو سب سے پہلے خود کو جاننا چاہیے

اور خود شناسی کیلئے لوگوں نے بہت کچھ کرکے دیکھ لیا خود شناسی کو ہم جس قدر آسان سمجھتے ہیں لیکن خود شناسی کیلئے لوگوں کی عمریں گزر گئی لیکن خود کو پہچان نہیں سکے ۔۔
خود شناسی کس طرح ممکن ہے ۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ زیادہ تر لوگوں نے جنہیں اس سوال کا جواب مل گیا تھا۔اس کی بڑی وجہ محبت میں ناکامی تھی اور پھر وہ عشق مجازی سے عشق حقیقی میں مبتلا ہو گئے۔کچھ شخصیات کسی وجہ سے غم کے ایک لمبے دور سے گزرے اس وجہ سے انہیں خود شناسی حاصل ہوئی اور کچھ شخصیات کو صحبتِ صالحہ میں بیٹھنے سے خود شناسی حاصل ہوئی۔
کچھ لوگوں نے تمنا سے ، دعا سے اور اللہ کے سامنے باربار التجا کرنے سے خود شناسی کو ممکن بنایا۔یاد رکھیے اس سوال کا جواب ہر انسان نے خود تلاش کرنا ہے۔انسان کی ساری ڈیو لپمنٹ، انسان کی ساری ترقی صرف اور صرف اسی سوال کے گرد گھومتی ہے۔کہ میں کون ہوں۔اللہ نے مجھے ایک خاص حالات میں کیوں پیدا کیا ۔دنیا میں میری اسا ئنمٹ کیا ہے۔اس مقصد کو تلاش کرنا انسان کا اصل کام ہے۔خود شناسی ایک ایسا سوال ہے جو زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں ہر انسان کے ذہن میں ضرور ابھرتا ہے۔انسان پیدا ئش سے موت تک خود شناسی کی کھوج میں سر گرداں رہتا ہے مگر ہر انسان کو خود شناسی نصیب نہیں ہوا کرتی

الغرض جس کو جس طرح خود شناسی حاصل ہوئی لیکن خود شناسی حاصل کرنے کے بعد وہ لوگ خاکسار عاجز پسند ہوگئے وجہ یہ تھی کہ اُنہوں نے خود کو پہچان لیا تھا اپنے وجود کا مقصد جان لیا تھا

آج اگر انسان علم شہرت و دولت کے حوس سے مغرور ہے عاجز پسند نہیں تو سمجھ جائیں کہ وہ خود شناسی سے لاتعلق ہے خود شناسی کی علامت عاجزی ہے مغروری نہیں
چاہے کتنی ہی بڑی ڈگری حاصل کرلے کتنے ہی بینک بیلنس ہو لیکن خود شناسی سے لاتعلق ہے تو وجود کا کیا فائدہ
احبابِ اہلِ علم خود شناسی سے لاتعلقی کے باوجود اگر کسی پہ تنقید کرے یا کسی کا عیب نکالے تو میں سمجھتا ہوں وہ اہلِ علم نہیں ۔ کوئی بھی شخص بے عیب نہیں کہیں نا کہیں کوئی خامی ضرور ہوتی ہے کیونکہ تمام انسان مشترکہ خصوصیات و خامیوں کے عامل ہیں
جتنا آپ خود کو جانتے ہیں اُتنا آپ اپنی کمزوریوں خامیوں کو جاننے لگتے ہیں

جب میں اولیاء اللہ کی سیرت کا مطالعہ کرتا ہوں یا کسی سے سنتا ہوں کہ اُن کہ زندگی کس طرح سادگی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزری۔۔۔ اس بات پر غور کیا تو وجہ معلوم ہوئی کہ جب حضرت انسان اپنے وجود کا مقصد سمجھ جائے جب اپنی پہچان ہوجائے تو پھر اپنی زندگی شریعت اور سیرتِ نبیؐ کے مطابق گزارتا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو پہچان چکا ہوتا ہے اس لئے کہتے ہیں خود شناسی یوں ہی حاصل نہیں ہوتی
خود شناسی کے لیے شرط یہ ہے کہ دل میں سچی لگن اور دعا میں تڑپ ہونی چاہیے۔کبھی کبھی خالص ہو کر پوری یکسوئی کے ساتھ تہجد کے وقت میں اللہ سے بار بار دعا کرنی چاہیے اور خود شناسی کا راستہ طلب کرنا چاہیے۔
خود شناسی سے تعلق رکھنے والی اہم چیز خدا شناسی ہے۔ خدا شناسی کے بغیر خود شناسی ممکن نہیں اور حضرت علیؓ کا قول ہے کہ جس نے خود کو پہچانا اُس نے رب کو پہچانا

ایک مشہور مقولہ ہے کسی نے کہا کہ
‫میں دنیا کو جاننے نکلا تو معلوم ہوا کہ اگر میں خود کو جان پاؤنگا تو دنیا کی سمجھ بھی آجائیگی اس طرح آج تک اپنے آپ ہی میں الجھا ہوا ہوں جیسے جیسے خود کو جانتا جا رہا ہوں دوسروں کی سمجھ بھی آتی جارہی ہے کیونکہ تمام انسان مشترکہ خصوصیات کے عامل ہیں فرق صرف آگاہی کا ہے ‬

بنیادی طور پر انسان کی پوری زندگی کا مقصد دو چیزوں میں ہے۔نمبر ایک آپ کی ذات سے کسی کا نقصان نہ ہو رہا ہو۔ دوسرا آپ کی ذات سے کسی کا فائدہ ہو رہا ہو۔اگر آپ کی زندگی میں یہ سفر شروع ہوگیااور آپ نے بے ضرر ہونا شروع کر دیا۔اور آپ فائدہ دینے کی طرف آ گئے ہیں۔تو یقین کریں کہ آپ نے زندگی کے معنی کو پالیا ہے۔’’ اللہ کو راضی کرنا یا اس کو پانا مخلوق کو راضی کرنے سے جُڑا ہوا ہے۔مخلوق کی خدمت اور مخلوق سے محبت اصل میں خدا سے محبت ہے۔‘‘

تو انسان کو کبھی بھی خود شناسی سے غافل نہیں ہونا چاہیے کچھ لوگ خود شناسی کو نوکری یا پیسے کا حصول بھی قرار دیتے ہیں خود شناسی نوکری کے حصول کا نام نہیں بلکہ پیدائش سے موت تک اپنی تلاش کو خود شناسی کہتے ہیں ۔

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

ایک شعوری سوال

تحریر : عامر نذیر بلوچ   کائنات میں ہمیشہ سے روایات چلتا ...

مختلف سوچ اقوام کی مضبوطی کا سبب ہے

تحریر: نعیم قذافی   انسان جسم و قد، رنگ یا دیگر اعتبار ...

چلو آو بیٹا افطاری کرتے ہیں

افسانہ نگار: شاد بلوچ امی، امی، امی… نوید کی چیخیں نکل رہے ...

اردو اور کھیترانی

  تحریر ۔ جان گل کھیتران بلوچ اردو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھیترانی کیا حال ...

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کے نو منتخب وائس چیئرمین کی حلف برداری

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر (ایس ایس ایف) کے نو منتخب وائس چیئرمین کی ...

error: Content is protected !!