بنیادی صفحہ / اردو / آخری کال

آخری کال

افسانہ( آخری قسط)

 

تحریر:صغیر ظہیر بلوچ

 

اب جب ہوش آیا تو خود کو لیٹا ہوا پایا۔ میرے سر پر ایک چیز تھی جو پہلا سوال پوچھنے کے بعد پتا چلا دماغ کو کرنٹ دینے کا آلہ ہے۔ انہوں نے کہا تماری ہر بات کی خبر ہے۔ خود بتاؤ چاکنگ کیوں اور کس کے کہنے پر کی۔ میں پھر کہنے لگا میں نے نہیں کی۔ نا ہی مجھے اس کے بارے میں کچھ پتا ہے۔ پھر سے کرنٹ دینے لگے۔

کیا تم جانتی ہو جب دماغ کو کرنٹ دیا جاتا ہے تو کچھ لمحوں کے لیے انسان کی یادداشت ہی چلی جاتی ہے۔ اس وقت زہن میں بس خود کو زندہ رکھنے کی تڑپ ہوتی ہے۔ جب میں جیوگرافک چینل پہ بیئر گرلز کا پروگرام دیکھتا تھا وہ کیسے ریگستانوں میں جنگلوں میں خود کو زندہ رکھنے کے لیے ہر طرح کے کام کرتا ہے۔ میں اس سے سیکھ گیا ہوں خود کو تسلی دے کر یہ بات باور کرانا میں زندہ یہاں سے نکل سکتا ہوں۔

 

سنو!  جب کچھ مہینے گزر گئے تو مجھ سے کسی نے کہا تمارے خلاف ہمیں ثبوت مل گیا ہے تم نے نہ صرف چاکنگ کی ہے بلکہ اور بھی کاموں میں ریاست کے خلاف سرگرم رہے ہو اس لیے آج رات کی تمہیں ماردیا جائے گا۔
اس وقت سب سے پہلے تم ہی میرے زہن میں آئے تھے۔ پہلی بار میرے آنکھوں میں آنسوں آئے۔ کیونکہ میں تمہیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر ایک مستقل غم دینے والا تھا۔ لیکن رات کو مجھے گاڑی پہ بٹھا کر سنسان سے جگہ پر لے جایا گیا۔مجھے کہا گیا الٹا لیٹو اور اپنے کان زمین پر رکھو۔جب تک گاڑیوں کی آواز ہے۔ زمین پر ہی لیٹے رہنا۔مجھے لگ رہا تھا توڑی دور سے فائرنگ کرکے مجھے ماردینگے ۔

کچھ لمحے گزرنے کے بعد میں اٹھا ہاتھ جو کھلے تھے ان سے آنکھوں کی پٹی اتارا دیکھا دور دور تک کچھ نہیں بس ایک ریگستان تھا۔میں پیدل چلتا گیا اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ پیدل چلتے ہوئے مجھے شدت سے پیاس لگ رہی تھی۔ میں جانتا تھا اتنا ٹارچر سے میں نہیں مرا پیاس بھی نہ مار سکے گی۔ کیونکہ ایک طرح سے پیاس برداشت کرنے کی ٹریننگ ہوگئی تھی۔ رات کے کسی پہر سے اب طلوعِ آفتاب کا وقت ہوگیا تھا۔ میں نے روشنی دیکھی اس کا تعاقب کیا۔ ایک کچے راستے سے لکڑیوں سے بھری گاڑی گزر رہی تھی۔ میں نے رکنے کا اشارہ کیا۔ میری خوش قسمتی تھی کہ لکڑیوں پر ایک شخص نے مجھے دیکھ کر ڈرائیور کو رکنے کا کہا۔ میں جب وہاں پہنچا تو سلام سے پہلے ہی کہہ دیا مجھے پانی چاہیے۔پانی پینے کے بعد میں نے ان سے کہا مجھے کچھ مہینے پہلے حساس ادارے والوں نے اغوا کیا تھا مجھے رات کو اس ریگستان میں چھوڑ دیا کیا آپ بتا سکتے ہیں یہ کون سی جگہ ہے ؟

تو ان میں سے کسی نے کہا یہ دالبندین اور نوشکی کے درمیان کا علاقہ ہے۔میں نے کہا مجھے نوشکی تک پہنچا دیں۔ وہ راضی ہوگئے۔نوشکی تک پہنچنے سے پہلے یہ نیوز پھیل چکی تھی میں بازیاب ہوگیا ہوں۔

 

سنو ! شاید تمہیں یاد ہو۔ میں نے اپنے پیٹ اور رانوں کے وہ نشانات جو عقوبت خانے میں تشدد کرتے پڑ گئے تھے دکھانا چاہا تم نے کہا،ساہ مجھ سے نہیں دیکھا جا سکتا لیکن میں نے ضد کی کہ آپ دیکھیں وہ ضد اس لیے تھی تاکہ آپ پر یہ حقیقت بھی کھلے وہاں معصوم لوگوں کیساتھ کیا کیا ہوتا ہے۔کیا تمہیں وہ گانا یاد ہے جب نئی زندگی ملنے کے بعد میں نے تم سے پہلی ملاقات میں گایا تھا
” ساتوں جنم میں تیرے میں ساتھ رہوں گا یار، مر بھی گیا تو میں تجھے کرتا رہوں گا ” تب۔۔۔

سنو تب میں نے اپنی دھیان کتابوں کی طرف موڑ دیا تھا تاکہ مجھ پر پورا سچ کھلے۔ تاکہ میں اب ایک ایسی راہ چن سکوں جو مجھے ہمیشہ کے لیے امر کردے۔ 5 سال تک میں تاریخ،فلاسفی،سائیاکولوجی، فکشن،شاعری ہر طرح کی کتابیں پڑھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا، بلوچ قوم کی بقاء صرف اور جنگ میں ہے۔ جیسے فینن نے کہا تھا “تشدد کو تشدد کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے”
میں نے عقل و شعور کا دامن پکڑ کر اپنے بقاء کی راہ چن لی وہ تھی بغاوت۔

سنو ! میرا ہر پل زندگی اور موت کشمکش میں ہوتا ہے۔ میں ایک گھنٹے بعد مارا جاسکتا ہوں میں 10 سالوں تک بھی زندہ رہ سکتا ہوں۔ لیکن میں جب بھی مروں گا تم،یہ قوم فخر سے یاد کرے گی مجھے۔ میں تمہیں اکیلا چھوڑ کر نہیں جارہا۔ میں تمہیں اس قوم کے لیے چھوڑ کر جارہا ہوں جس کے لیے مجھ جیسے ہزاروں جوانوں نے اپنے لیے موت پر قوم کو زندہ رکھنے کی راہ چن لی۔
مجھے یقین ہے جب تمہیں میرے موت کی خبر ملے گی تم بجائے رونے کے لوگوں سے فخر سے کہتی پھرو گی میں کس کی محبوبہ ہوں۔
ہاں مجھے دکھ ہے میں تمہارے ساتھ نہ جی سکا۔تمہارےوہ خواب جو مجھ پر فرض تھیں، پورا نہ کرسکا۔

سنو یہ میری آخری کال ہے آج کے بعد کبھی ہماری بات نہ ہوپائے گی۔

(ختم شد)

تعارف: nishist_admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

x

Check Also

ایک شعوری سوال

تحریر : عامر نذیر بلوچ   کائنات میں ہمیشہ سے روایات چلتا ...

مختلف سوچ اقوام کی مضبوطی کا سبب ہے

تحریر: نعیم قذافی   انسان جسم و قد، رنگ یا دیگر اعتبار ...

چلو آو بیٹا افطاری کرتے ہیں

افسانہ نگار: شاد بلوچ امی، امی، امی… نوید کی چیخیں نکل رہے ...

اردو اور کھیترانی

  تحریر ۔ جان گل کھیتران بلوچ اردو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھیترانی کیا حال ...

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کے نو منتخب وائس چیئرمین کی حلف برداری

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر (ایس ایس ایف) کے نو منتخب وائس چیئرمین کی ...

error: Content is protected !!